(Rumuz-e-Bekhudi-20) (در معنی اینکہ حیات ملیہ مرکز محسوس میخواہد) Dar Ma’ani Aynke Hayat-e-Millia Markaz Mehsus Mekhuwahid

در معنی اینکہ حیات ملیہ مرکز محسوس میخواہد

 

در معنی اینکہ حیات ملیہ مرکز محسوس میخواہد و مرکز ملت اسلامیہ بیت الحرام است

می گشایم عقدہ از کار حیات

سازمت آگاہ اسرار حیات

اس مضمون کی وضاحت میں کہ ملت کی زندگی مرکز محسوس چاہتی ہے 

اور ملت اسلامیہ کا مرکز بیت اللہ ہے۔

چون خیال از خود رمیدن پیشہ اش

از جہت دامن کشیدن پیشہ اش

خیال کی طرح زندگی بھی ایک حالت پر برقرار نہیں رہتی ؛ ابھی وہ ایک جہت سے دامن بچا کر چلتی ہے کبھی دوسری جہت، کسی ایک جہت سے وابستہ نہیں رہتی۔

در جھان دیر و زود آید چسان

وقت او فردا و دی زاید چسان

یہ جہان جو حال و مستقبل سے مرکب ہے اس میں زندگی کیسے عمل فرما ہوتی ہے، اس کا وقت کیسے ماضی اور مستقبل پیدا کرتا ہے؟

گر نظر داری یکے بر خود نگر

جز رم پیھم نہ ئی اے بیخبر

اگر تو نظر رکھتا ہے تو اپنے آپ پر نگاہ ڈال ، اے بے خبر تو بھی رم پیہم کے سوائے اور کچھ نہیں۔

تا نماید تاب نامشہود خویش

شعلہ ی او پردہ بند از دود خویش

زندگی اپنے باطن کے تب و تاب کی نمائش کے لیے اپنے شعلے کو اپنے دھوئیں کے پردے میں بند رکھتی ہے (کہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دود)۔

سیر او را تا سکون بیند نظر

موج جویش بستہ آمد در گہر

جب زندگی کی حرکت بظاہر پر سکون نظر آتی ہے؛ تو گویا اس کی موج آب گوہر بن جاتی ہے۔(گوہر میں خو ہوا اضطراب دریا کا – غالب)

آتش او دم بخویش اندر کشید

لالہ گردید و ز شاخی بر دمید

پھر زندگی کی آتش نے دم سادھا تو لالے کا پھول بن کر شاخ سے باہر نکل آئی۔

فکر خام تو گران خیز است و لنگ

تہمت گل بست بر پرواز رنگ

تیری سوچ سست اور لنگڑی ہے ؛ اس نے پھول پر یہ تہمت لگائی کہ اس کا رنگ اڑ جاتا ہے (حالانکہ یہ زندگی کی مسلسل حرکت کا اظہار ہے)۔

زندگی مرغ نشیمن ساز نیست

طایر رنگ است و جز پرواز نیست

زندگی ایسا پرندہ نہیں جو ہر وقت نشیمن میں بیٹھا رہے؛ وہ طائر رنگ ہے اور ہر لمحہ اپنے رنگ بدلتا رہتا ہے۔

در قفس واماندہ و آزاد ھم

با نواہا می زند فریاد ہم

زندگی کا پرندہ قفس میں ‏ عاجز بھی ہے اور آزاد بھی ہے ؛ وہ اپنی خوش نوائی کے ساتھ فریاد کناں بھی رہتا ہے۔

از پرش پرواز شوید دمبدم

چارہ ی خود کردہ جوید دمبدم

اس کے پروں سے ہر لمحہ پرواز کم ہوتی رہتی ہے، پھر وہ ہر دم اپنے کیے کا خود علاج بھی کرتا ہے۔

عقدہ ہا خود می زند در کار خویش

باز آسان می کند دشوار خویش

زندگی خود ہی اپنے معاملات میں مشکل پیدا کرتی ہے اور پھر اپنی دشواریوں کو آسان بھی بناتی ہے۔

پا بگل گردد حیات تیزگام

تا دو بالا گرددش ذوق خرام

حیات تیز رو اپنے پاؤں کو مٹی میں مقید کرتی ہے تاکہ اس کا ذوق خرام بالا ہو۔

سازہا خوابیدہ اندر سوز او

دوش و فردا زادہ ی امروز او

اس کے سوز کے اندر بھی ساز چھپا ہوا ہے؛ اس کا ماضی اور مستقبل اس کے حال ہی کی پیداوار ہے۔

دمبدم مشکل گر و آسان گذار

دمبدم نو آفرین و تازہ کار

زندگی ہر لمحہ مشکلات پیدا بھی کرتی ہے اور انہیں آسان بھی بناتی ہے ؛ وہ ہر دم نئی چیز پیدا کرتی اور نیا انداز اختیار کرتی ہے۔

گرچہ مثل بو سراپایش رم است

چون وطن در سینہ ئی گیرد دم است

اگرچہ زندگی کا سراپا حرکت سے عبارت ہے لیکن جب یہ سینے میں قیام کرتی ہے تو سانس بن جاتی ہے۔

رشتہ ہای خویش را بر خود تند

تکمہ ئے گردد گرہ بر خود زند

ممکنات کے دھاگوں کا جال اپنے اوپر تنتی رہتی ہے؛ کبھی گرہ کھا کر گھنڈی بن جاتی ہے۔

در گرہ چون دانہ دارد برگ و بر

چشم بر خود وا کند گردد شجر

جب گرہ کے اندر دانہ برگ و بر پیدا کرتا ہے تو اپنی آنکھ کھولتا ہے اور شجر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

خلعتی از آب و گل پیدا کند

دست و پا و چشم و دل پیدا کند

پھر وہ آب و گل سے اپنے لیے خلعت پیدا کرتا ہے اور ہاتھ پاؤں اور چشم و دل پیدا کرتا ہے۔

خلوت اندر تن گزیند زندگی

انجمن ہا آفریند زندگی

(اسی طرح) زندگی جب انسانی بدن میں خلوت آختیار کرتی ہے تو مختلف محفلیں وجود میں لے آتی ہے۔

ہمچنان آئین میلاد امم

زندگی بر مرکزی آید بھم

قوموں کے قیام کا دستور بھی یہی ہے؛ مرکز ہی سے ان کے اندر جمیعت پیدا ہوتی ہے۔

حلقہ را مرکز چو جان در پیکر است

خط او در نقطہ ی او مضمر است

دائرے کے لیے مرکز وہی حیثیت رکھتا ہے جو بدن کے لیے جان؛ دائرے کا محیط اس کے مرکز میں مضمر ہے۔

قوم را ربط و نظام از مرکزی

روزگارش را دوام از مرکزی

قوم کا ربط اور نظام مرکز سے وابستہ ہے؛ مرکز ہی سے اس کی زندگی کو دوام حاصل ہوتا ہے۔

راز دار و راز ما بیت الحرم

سوز ما ہم ساز ما بیت الحرم

ہماری (قومی زندگی کا) راز اور ہماری (توحید) کا راز دار بیت اللہ شریف ہے؛ ہمارا سوز بھی اسی سے ہے اور ہمارا ساز بھی اسی سے ہے۔

چون نفس در سینہ او را پروریم

جان شیرین است او ما پیکریم

ہم اس کے سینے میں سانس کی طرح پرورش پاتے ہیں؛ وہ (ہماری) جان شیریں ہے اور ہم اس کا بدن۔

تازہ رو بستان ما از شبنمش

مزرع ما آب گیر از زمزمش

ہمارا باغ اس کی شبنم سے تر و تازہ ہے؛ ہماری کھیتی اس کے زمزم سے پانی حاصل کرتی ہے۔

تاب دار از ذرہ ہایش آفتاب

غوطہ زن اندر فضایش آفتاب

آفتاب اس کے ذرّوں سے روشنی حاصل کرتا ہے اور اس کی فضا میں غوطہ زن رہتا ہے۔

دعوی او را دلیل استیم ما

از براھین خلیل استیم ما

اس کے دروازے (توحید) کی دلیل ہم ہیں ، حضرت ابراہیم (علیہ) کے براہین میں سے ہے (حضرت ابراہیم (علیہ) کی دعا کی طرف اشارہ ہے)۔

در جہان ما را بلند آوازہ کرد

با حدوث ما قدم شیرازہ کرد

کعبہ ہی نے دنیا میں ہماری شان بلند کی ہے؛ نبی نے ہمارے وجود کو ذات قدیم سے ملا دیا ہے۔

ملت بیضا ز طوفش ہم نفس

ہمچو صبح آفتاب اندر قفس

اس کے طواف سے ملت بیضا میں یگانگت ہے؛ اس کی مثال قفس کے اندر صبح آفتاب کی سی ہے (کعبہ شریف آفتاب صبح کی مانند نور بکھیر رہا ہے اور ملت اسلامیہ نے اس نور کو مقید کر رکھا ہے)۔

از حساب او یکی بسیاریت

پختہ از بند یکی خودداریت

اس کے تعلق سے ہماری کثرت وحدت ہے اور اس وحدت کے سبب ہماری پختگی ہے۔

تو ز پیوند حریمی زندہ ئی

تا طواف او کنی پایندہ ئی

تو حرم شریف کے ساتھ تعلق کی وجہ سے زندہ ہے؛ جب تک اس کا طواف کرتا رہے گا پائیندہ رہے گا۔

در جہان جان امم جمعیت است

در نگر سر حرم جمعیت است

دنیا میں قوموں کی جان جمیعت حرم کا راز ہے۔

عبرتے اے مسلم روشن ضمیر

از مآل امت موسی بگیر

اے روشن ضمیر مسلمان امت موسی (علیہ) کے انجام سے عبرت حاصل کر۔

داد چون آن قوم مرکز را ز دست

رشتہ ی جمعیت ملت شکست

جب اس قوم نے مرکز چھوڑ دیا تو اس کی جمیعت کا رشتہ ٹوٹ گیا۔

آنکہ بالید اندر آغوش رسل

جزو او دانندہ ی اسرار کل

وہ قوم جو رسولوں کی گود میں پلی تھی؛ جس کے افراد کل کے اسرار سے واقف تھے۔

دہر سیلی بر بنا گوشش کشید

زندگی خون گشت و از چشمش چکید

زمانے نے اس کی کنپٹی پر تھپڑ مارا جس سے اس کی زندگی خون بن کر اس کی آنکھوں سے بہہ نکلی۔

رفت نم از ریشہ ہای تاک او

بید مجنون ہم نروید خاک او

اس کے انگور کی رگوں سے نمی جاتی رہی؛ اب اس کی خاک سے انگور تو درکنار بید مجنوں بھی پیدا نہیں ہوتا۔

از گل غربت زبان گم کردہ ئی

ہم نوا ہم آشیان گم کردہ ئی

بے وطنی کی وجہ سے وہ اپنی زبان بھی گم کر چکی ہے؛ وہ اپنی آواز بھی گم کر چکی ہے اور اپنا آشیانہ بھی۔

شمع مرد و نوحہ خوان پروانہ اش

مشت خاکم لرزد از افسانہ اش

اس کی شمع بجھ چکی ہے اور اس پر پروانہ نوحہ خواں بنے؛ اس کی کہانی سے میرا بدن لرز اٹھتا ہے۔

اے ز تیغ جور گردون خستہ تن

اے اسیر التباس و وہم و ظن

اے مسلمان تو جو زمانے کی تیغ ستم سے زخمی ہے؛ تو جو تشکیک اور وہم و ظن کا اسیر ہے۔

پیرہن را جامہ احرام کن

صبح پیدا از غبار شام کن

جامہء احرام کو اپنا پیرہن بنا؛ اور اس طرح اپنی شام زوال کس غبار سے صبح پیدا کر لے۔

مثل آبا غرق اندر سجدہ شو

آنچنان گم شو کہ یکسر سجدہ شو

اپنے آبا و اجداد کی مانند سجدے کے اندر غرق ہو جا؛ سجدے میں اسی طرح گم ہو جا کہ یکسر سجدہ بن جا۔

مسلم پیشین نیازی آفرید

تا بہ ناز عالم آشوبی رسید

دور اوّل کے مسلمان نے نیازمندی پیدا کی تھی تب اسے وہ ناز حاصل ہوا جو دنیا میں ایک انقلاب لے آیا۔

در رہ حق پا بہ نوک خار خست

گلستان در گوشہ ی دستار بست

پہلے اس نے اللہ تعالے کی راہ میں اپنے پاؤں کو کانٹوں سے زخمی کیا تب اس نے اپنے گوشہء دستار میں گلستان سجایا۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: