(Rumuz-e-Bekhudi-21) (جمعیت حقیقی از محکم گرفتن نصب العین ملیہ است) Ma’ani Aynke Jamiat-e-Haqeeqi Az Mohkam Giriftan Nasb-ul-A’ain Millia Ast

جمعیت حقیقی از محکم گرفتن نصب العین ملیہ است

 

در معنی اینکہ جمعیت حقیقی از محکم گرفتن نصب العین ملیہ است و نصب العین امت محمدیہ حفظ و نشر توحید است

با تو آموزم زبان کائنات

حرف و الفاظ است اعمال حیات

اس مضمون کی وضاحت میں کہ ملت کی اصل جمیعت نصب العین کو مضبوطی سے تھام لینے میں ہے اور امت محمدیہ (صلعم) کا نصب ا لعین توحید کی حفاظت اور اشاعت ہے۔

 

میں تجھے زندگی کی زبان بتاتا ہوں ؛ زندگی کے اعمال (زندگی کی زبان) کے حروف و الفاظ ہیں۔

چون ز ربط مدعائی بستہ شد 

زندگانی مطلع برجستہ شد

جب زندگی کسی مقصود سے وابستہ و مربوط ہو جاتی ہے ؛ تو گویا یہ غزل کا برجستہ مطلع بن جاتی ہے۔

مدعا گردد اگر مہمیز ما

ہمچو صرصر می رود شبدیز ما

اگر ہم مقصود کو اپنے لیے مہمیز بنا لیں تو ہماری زندگی کے گھوڑے کی رفتار باد صرصر کی مانند تیز ہو جائے۔

مدعا راز بقای زندگی

جمع سیماب قوای زندگی

مقصود ہی بقائے زندگی کا راز ہے اور اسی سے قوائے زندگی کا سیماب مجتمع ہوتا ہے۔

چون حیات از مقصدی محرم شود

ضابط اسباب این عالم شود

جب زندگی کسی مقصد سے آشنا ہوتی ہے تو وہ اس جہان کے اسباب کو ضبط کے تحت لے آتی ہے۔

خویشتن را تابع مقصد کند

بہر او چیند گزیند رد کند

پھر زندگی اپنے آپ کو مقصد کے تابع بنا لیتی ہے اور مقصد کی خاطر بعض کو رد کر دیتی ہے۔

نا خدا را یم روی از ساحل است

اختیار جادہ ہا از منزل است

ملا ح سمندر میں کشتی چلتے ہوئے ساحل کو مقصود رکھتا ہے؛ مسافر راستوں پر چلتے ہوئے منزل کو سامنے رکھتے ہیں۔

بر دل پروانہ داغ از ذوق سوز

طوف او گرد چراغ از ذوق سوز

پروانے کے دل پر سوز سے لطف اندوز ہونے کا داغ ہے ؛ وہ اسی مقصد کی خاطر چراغ کا طواف کرتا ہے۔

قیس اگر آوارہ در صحراستی

مدعایش محمل لیلاستی

قیس اگر صحرا میں آوارہ ہے تو محمل لیلی اس کا مدعا ہے۔

تا بود شہر آشنا لیلای ما

بر نمی خیزد بہ صحرا پای ما

جب سے ہماری لیلی شہر آشنا ہوئی ہے صحرا کی طرف ہمارے پاؤں نہیں اٹھے۔

ہمچو جان مقصود پنہان در عمل

کیف و کم از وی پذیرد ہر عمل

مقصود عمل کے اندر جان کی طرح پوشیدہ ہے؛ اسی سے عمل میں کمی بیشی واقعہ ہوتی ہے۔

گردش خونی کہ در رگہای ماست

تیز از سعی حصول مدعاست

ہماری رگوں میں جو خون دوڑ رہا ہے؛ مقصود حاصل کرنے کی کوشش سے وہ تیز ہو جاتا ہے۔

از تف او خویش را سوزد حیات

آتشے چون لالہ اندوزد حیات

مقصود کی گرمی ہی سے زندگی میں جوش پیدا ہوتا ہے؛ اسی سے زندگی گل لالہ کی مانند آگ اکٹھی کرتی ہے۔

مدعا مضراب ساز ہمت است

مرکزی کو جاذب ہر قوت است

ساز ہمت کا مضراب مدعا ہے، یہ ایسا مرکز ہے جو انسان کی ہر قوت کو اپنی طرف مرتکز کر لیتا ہے۔

دست و پای قوم را جنباند او

یک نظر صد چشم را گرداند او

اسی سے قوم کے دست و پا میں حرکت پیدا ہوتی ہے؛ اور اسی سے افراد کی سینکڑوں آنکھیں یک نظر بن جاتی ہیں۔

شاہد مقصود را دیوانہ شو

طائف این شمع چون پروانہ شو

تو بھی شاہد مقصود کا دیوانہ بن ؛ اور پروانے کی مانند اس شمع کا طواف کر۔

خوش نوائی نغمہ ساز قم زد است

زخمۂ معنی بر ابریشم زد است

قم کے شاعر نے کیا خوب بات کہی ہے؛ گویا اس نے تار ابریشم کو معنی کی مضراب سے چھیڑ دیا ہے۔

تا کشد خار از کف پا رہ سپر

می شود پوشیدہ محمل از نظر

جب تک مسافر اپنے پاؤں کے تلے سے کانٹا نکالتا ہے، محمل اس کی نظر سے پوشیدہ ہو جاتا ہے۔

گر بقدر یک نفس غافل شدی

دور صد فرسنگ از منزل شدی

اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی غافل ہو جائے تو اپنی منزل سے سینکڑوں میل دور جا پڑتا ہے۔

این کہن پیکر کہ عالم نام اوست

ز امتزاج امہات اندام اوست

یہ کہن پیکر جس کا نام دنیا ہے ، جو عنصر کے اختلاط سے بنا ہے۔

صد نیستان کاشت تا یک نالہ رست

صد چمن خون کرد تا یک لالہ رست

سینکڑوں نیستاں کاشت کیے تاکہ بانسری سے نالہ پیدا ہو سکے ؛ اس طرح اس نے سینکڑوں باغوں کا خون کیا تاکہ ایک گل لالہ پیدا ہو۔

نقشہا آورد و افکند و شکست

تا بہ لوح زندگی نقش تو بست

وہ کئی نقش لایا ، انہیں قائم کیا اور توڑ دیا تاکہ تجھے لوح زندگی پر منقش کرے۔

نالہ ہا در کشت جان کاریدہ است

تا نوای یک اذان بالیدہ است

جان کی کھیتی میں کئی نالے کاشت کیے تاکہ ان کے اندر سے ایک آذان کی آواز پیدا ہو۔

مدتی پیکار با احرار داشت

با خداوندان باطل کار داشت

یہ دنیا مدت تک احرار سے لڑتی رہی کیونکہ اسے جھوٹے خداؤں سے محبت تھی۔

تخم ایمان آخر اندر گل نشاند

با زبانت کلمۂ توحید خواند

یہاں تک کہ اس نے انسانی بدن کے اندر ایمان کا بیج بویا اور تیری زبان پر کلمہ ء توحید جاری کیا۔

نقطۂ ادوار عالم لاالہ

انتھای کار عالم لاالہ

جہانوں کی گردش کا مرکز لاالہ ہے؛ اور اس جہان کے کام کی انتہا بھی لاالہ ہے۔

چرخ را از زور او گردندگی

مہر را پایندگی رخشندگی

آسمان اسی کے زور سے گھوم رہا ہے؛ سورج نے اسی سے پائندگی اور چمک حاصل کی۔

بحر گوھر آفرید از تاب او

موج در دریا تپید از تاب او

بحر نے اس کی چمک سے موتی پیدا کیے؛ اور اس کی تپش سے دریا میں موج تڑپی۔

خاک از موج نسیمش گل شود

مشت پر از سوز او بلبل شود

اسی کی موج نسیم سے خاک پھول ہوئی؛ اور اسی کے سوز سے مشت پر بلبل بنی۔

شعلہ در رگہای تاک از سوز او

خاک مینا تابناک از سوز او

انگور کی رگوں میں اسی کے سوز سے شعلہ پیدا ہوا؛ اور خاک مینا چمکدار ہوئی۔

نغمہ ہایش خفتہ در ساز وجود

جویدت اے زخمہ ور ساز وجود

وجود عالم کے ساز کے اندر سوے ہوئے نغمے ؛ اے زخمہ ور تیری تلاش میں ہیں۔

صد نوا داری چو خون در تن روان

خیز و مضرابی بتار او رسان

تو اپنے موجود کے اندر رواں خون کی مانند سینکڑوں خونیں نغمے رکھتا ہے؛ اٹھ اور تار عالم کو اپنے مضراب سے چھیڑ دے۔

زانکہ در تکبیر راز بود تست

حفظ و نشر لاالہ مقصود تست

چونکہ تیرے وجود کا راز نعرہء تکبیر پنہاں ہے اس لیے توحید کی حفاظت و اشاعت تیرا مقصود ہے۔

تا نخیزد بانگ حق از عالمی

گر مسلمانی نیاسائی دمی

اگر تو مسلمان ہے تو اس وقت تک آرام سے نہ بیٹھ جب تک آوازہء حق ساری دنیا سے نہ اٹھ کھڑا ہو۔

می ندانی آیہ ام الکتاب

امت عادل ترا آمد خطاب

کیا تجھے قرآن پاک کی وہ آیت یاد نہیں جس میں امت مسلمہ کو امت وسطی (عادل) کہا گیا ہے۔

آب و تاب چہرہ ایام تو

در جہان شاہد علی الاقوام تو

چہرہ ء ایام کی آب و تاب تجھ سے ہے؛ تو دنیا کی اقوام پر شاہد یعنی معیار ہے۔

نکتہ سنجان را صلای عام دہ

از علوم امئی پیغام دہ

تو جویان حق کو دعوت عام دے؛ اور انہیں جناب رسول پاک (صلعم) کا پیغام دے۔

امیی پاک از ہوی گفتار او

شرح رمز ماغوی گفتار او

آپ (صلعم) ایسے امّی (صلعم) ہیں جن کی گفتار ہوائے نفس سے پاک ہے اور رمز ماغوی کی شرح۔

تا بدست آورد نبض کائنات

وانمود اسرار تقویم حیات

جب اس نبی امی (صلعم) نے کائنات کی نبض اپنے ہاتھ میں لی تو زندگی کے استحکام کے ناز کھول دیے۔

از قباے لالہ ہاے این چمن

پاک شست آلودگیہای کہن

آپ (صلعم) نے اس چمن کے گلہائے لالہ کی قبا سے تمام پرانی آلودگی دھو ڈالیں۔

در جہان وابستۂ دینش حیات

نیست ممکن جز بہ آئینش حیات

اب دنیا میں زندگی آپ (صلعم) کے دین سے وابستہ ہے؛ آپ (صلعم) کا آئین (شریعت ) کے بغیر زندگی ممکن نہیں۔

اے کہ میداری کتابش در بغل

تیز تر نہ پا بہ میدان عمل

اے مسلمان ! تو جو آپ (صلعم) کی کتاب بغل میں لیے ہوئے ہے؛ اس کتاب پر عمل کی رفتار تیز تر کر۔

فکر انسان بت پرستی بت گری

ھر زمان در جستجوی پیکری

انسانی فکر (باطل نظریات کے) بت بناتا اور ان کی پرستش کرتا ہے؛ اور ہر دور میں ایک نئے بت کی تلاش میں رہتا ہے۔

باز طرح آزری انداخت است

تازہ تر پروردگاری ساخت است

اب اس نے آزری کا طریقہ اختیار کیا ہے اور ایک نیا خدا بنایا ہے۔

کاید از خون ریختن اندر طرب

نام او رنگ است و ہم ملک و نسب

جو خون ریزی سے بے حد خوش ہوتا ہے؛ اس نئے خدا کا نام رنگ بھی ہے اور ملک و نصب بھی۔

آدمیت کشتہ شد چون گوسفند

پیش پای این بت ناارجمند

انسانیت بھیڑ بکریوں کی طرح نا مبارک بتوں کی بھینٹ چڑھ گئی ہے۔

اے کہ خوردستی ز مینای خلیل

گرمی خونت ز صہبای خلیل

اے تو جس نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ) کی مینا سے شراب توحید لی ہے؛ اور اس کی گرمی تیرے خون کے اندر موجود ہے۔

برسر این باطل حق پیرہن

تیغ “لا موجود الا ہو” بزن

اس باطل بتان حق نما کے سروں پر’لا موجود الا ہو‘ (توحید) کی تیغ چلا۔

جلوہ در تاریکی ایام کن

آنچہ بر تو کامل آمد عام کن

دور حاضر کی تاریکی کو (نور ہدایت) سے جس کا تم پر اتمام ہوا ہے منور کر دے۔

لرزم از شرم تو چون روز شمار

پرسدت آن آبروی روزگار

مجھ پر اس وقت کے تصوّر سے لرزہ طاری ہو جاتا ہے ؛ جب وہ آبروئے روز گار (صلعم) تجھ سے پوچھیں گے۔

حرف حق از حضرت ما بردہ ئی

پس چرا با دیگران نسپردہ ئی

تو نے مجھ سے جو حق کی تعلیم حاصل کی تھی اسے دوسروں تک کیوں نہیں پہنچایا۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: