(Rumuz-e-Bekhudi-22) (تو سیع حیات ملیہ از تسخیر قوای نظام عالم است) Dar Ma’ani Aynke Tousie-e-Hayat Millia Az Taskheer

تو سیع حیات ملیہ از تسخیر قوای نظام عالم است

در معنی اینکہ تو سیع حیات ملیہ از تسخیر قوای نظام عالم است
ایکہ با نادیدہ پیمان بستہ ئی
ہمچو سیل از قید ساحل رستہ ئی
اس مضمون کی وضاحت میں کہ ملّی زندگی کی توسیع عناصر فطرت کی تسخیر سے ہے۔

اے امت مسلمہ جس نے لا محدود سے جو نظر نہیں آتے پیمان وفا باندھا ہوا ہے اس طرح تو قید ساحل سے سیلاب کی مانند آزاد ہو چکی ہے۔
چون نہال از خاک این گلزار خیز
دل بغائب بند و با حاضر ستیز
اس باغ (دنیا) سے شجر کی طرح اٹھ ، اپنے دل کا تعلق غائب سے استوار کر اور کائنات سے جو حاضر ہے مسلسل جد و جہد کر۔
ہستی حاضر کند تفسیر غیب
می شود دیباچۂ تسخیر غیب
وجود کائنات (حاضر ) غائب (صفات ذات) کا مظہر ہے اور کائنات کی تسخیر اللہ تعالے کی معرفت کا دیباچہ بن جاتی ہے۔
ما سوا از بہر تسخیر است و بس
سینۂ او عرضۂ تیر است و بس
ماسوا صرف اس لیے ہے کہ اس کی تسخیر کی جائے اور اس کے سینہ کو انسانی جد و جہد کے تیر کا حدف بنایا جائے۔
از کن حق ما سوا شد آشکار
تا شود پیکان تو سندان گذار
اللہ تعالے کے کن کہنے سے ماسوا (کائنات) وجود میں آیا؛ تاکہ تیرے تیر کا پیکان آہرن کو چھوڑے۔
رشتہ ئی باید گرہ اندر گرہ
تا شود لطف گشودن را فرہ
دھاگا گرہ در گرہ ہونا چاہئے تاکہ انہیں کھولنے میں زیادہ لطف آئے۔
غنچہ ئی ؟ از خود چمن تعبیر کن
شبنمی ؟ خورشید را تسخیر کن
اگر تو غنچہ ہے تو اپنے آپ کو چمن سے تعبیر کر؛ اگر تو شبنم ہے تو سور ج (کی گرمی سے اڑ جانے کی بجائے اس) کی تسخیر کر۔
از تو می آید اگر کار شگرف
از دمے گرمے گداز این شیر برف
اگر تو کوئی اچھا کام کر سکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ اس شیر برف (کائنات) کو اپنے دم گرم سے پگھلا دے۔
ہر کہ محسوسات را تسخیر کرد
عالمی از ذرہ ئے تعمیر کرد
جس نے محسوسات کو تسخیر کر لیا؛ وہ ایک ذرّہ سے جہاں تعمیر کر سکتا ہے۔
آنکہ تیرش قدسیان را سینہ خست
اول آدم را سر فتراک بست
جس کے تیر نے فرشتوں (کو خلافت کا منصب عطا نہ کرکے، ان) کا سینہ زخمی کر دیا تھا۔اس نے آدم ہی کو اوّلیت دے کر اپنے فتراک میں باندھا تھا (اور اس کے لیے کائنات کی ہر شے مسخر کر دی تھی)۔
عقدۂ محسوس را اول گشود
ہمت از تسخیر موجود آزمود
آدم ہی نے پہلے محسوسات کا عقدہ کھولا اور موجودات کی تسخیر سے اپنے ہمت کو آزمایا۔
کوہ و صحرا دشت و دریا بحر و بر
تختۂ تعلیم ارباب نظر
کوہ و صحرا ، دشت و دریا، بحر و بر؛ ارباب نظر کے لیے تعلیم حاصل کرنے کا میدان ہیں۔
اے کہ از تأثیر افیون خفتہ ئی
عالم اسباب را دون گفتہ ئی
اے وہ شخص! جو افیون کی تاثیر سے سویا پڑا ہے؛ اور عالم اسباب (دنیا ) کو حقیر کہتا ہے۔
خیز و وا کن دیدۂ مخمور را
دون مخوان این عالم مجبور را
اٹھ اپنی خوابیدہ آنکھ کھول، اس عالم مجبور (کائنات) کو حقیر نہ کہہ۔
غایتش توسیع ذات مسلم است
امتحان ممکنات مسلم است
کائنات کا مقصد مسلمان کی شخصیت کی توسیع اور اس کے اندر جو ممکنات پوشیدہ ہیں؛ ان کا امتحان ہے۔
می زند شمشیر دوران بر تنت
تا ببینی ہست خون اندر تنت
زمانہ تیرے بدن پر تلوار چلاتا ہے، تاکہ تو دیکھ لے کہ تیرے جسم میں خون موجود ہے۔
سینہ را از سنگ زوری ریش کن
امتحان استخوان خویش کن
مگدر سے اپنا سینہ زخمی کر اور اپنی ہڈیوں کا امتحان لے۔
حق جہان را قسمت نیکان شمرد
جلوہ اش با دیدۂ مومن سپرد
اللہ تعالے نے اس جہان کو نیکیوں کی میراث فرمایا ہے؛ اور اس کے جلوے بندہء مومن کی نگاہ کے لیے (وقف) رکھے ہیں۔
کاروان را رہگذار است این جہان
نقد مومن را عیار است این جہان
یہ جہان قافلہء حیات کا راہگذر اور مومن کی قوتوں کی آزمائش گاہ ہے۔
گیر او را تا نہ او گیرد ترا
ہمچو می اندر سبو گیرد ترا
تو اس کو تسخیر کر، تا کہ تجھے تسخیر رہ کر لے؛ ایسا نہ ہو کہ وہ تجھے اپنے سبو کی مینا بنا لے۔
دلدل اندیشہ ات طوطی پر است
آنکہ گامش آسمان پہناور است
تیرے فکر کے گھوڑے کو طوطی کے پر لگے ہوئے ہیں ، اس کا قدم آسمان کی وسعتوں تک پہنچتا ہے۔
احتیاج زندگی میراندش
بر زمین گردون سپر گرداندش
زندگی کی ضروریات اسے زمین پر رہتے ہوئے فلک پیما بنتی ہے۔
تا ز تسخیر قوای این نظام
ذوفنونیہای تو گردد تمام
تاکہ اس نظام کائنات کی قوتوں کی تسخیر سے تیری ہنرمندیوں کی صلاحیتیں تکمیل پائیں۔
نایب حق در جہان آدم شود
بر عناصر حکم او محکم شود
دنیا میں آدم اللہ تعالے کا نائب بنے اور عناصر فطرت پر اس کا حکم جاری ہو۔
تنگی ات پہنا پذیرد در جہان
کار تو اندام گیرد در جہان
اس طرح تیری محدود قوتیں جہان میں وسعت پائیں ؛ اور تیرے معاملات آراستگی حاصل کریں۔
خویش را بر پشت باد اسوار کن
یعنی این جمازہ را ماہار کن
تو ہوا کی پشت پر سواری کر؛ یعنی اس اونٹنی کو نکیل ڈال۔
دست رنگین کن ز خون کوہسار
جوی آب گوہر از دریا برآر
سلسلہء کوہ کے خون سے اپنے ہاتھ رنگین کر اور دریا سے گوہر دار پانی کی نہر نکال۔
صد جہان در یک فضا پوشیدہ اند
مہر ہا در ذرہ ہا پوشیدہ اند
اس ایک فضا میں سینکڑوں جہان مخفی ہیں؛ ایک ایک ذرے میں کئی کئی خورشید پنہاں ہیں۔
از شعاعش دیدہ کن نادیدہ را
وا نما اسرار نافہمیدہ را
ان آفتابوں کی شعاعوں سے نا معلوم کو دریافت کر؛ اور ایسے اسرار کو کھول جو ابھی تک انسان کے فہم سے بالا ہیں۔
تابش از خورشید عالم تاب گیر
برق طاق افروز از سیلاب گیر
خورشید عالمتاب سے اس کی توانائی لے ، اور پانی سے بجلی حاصل کر جو گھروں کو روشن کرے۔
ثابت و سیارہ گردون وطن
آن خداوندان اقوام کہن
آسمان کے سیّارے اور ستارے جنہیں پرانی اقوام نے اپنا معبود بنایا ہوا تھا۔
اینہمہ اے خواجہ آغوش تو اند
پیش خیز و حلقہ در گوش تو اند
اے خواجہ یہ سب تیرے خدمتگار غلام اور کنیزیں ہیں۔
جستجو را محکم از تدبیر کن
انفس و آفاق را تسخیر کن
اپنی تحقیق کو پلاننگ سے مستحکم کر؛ اور انفس و آفاق کو مسخر کر لے۔
چشم خود بگشا و در اشیا نگر
نشہ زیر پردۂ صہبا نگر
اپنی آنکھ کھول اور اشیاء کی ماہیت سمجھ؛ یعنی شراب میں چھپے ہوئے نشے کو دیکھ۔
تا نصیب از حکمت اشیا برد
ناتوان باج از توانایان خورد
تاکہ یہ ناتوں (انسان) اشیاء کی حکمت جان لے؛ اور کائنات کی قوتوں سے فائدہ اٹھائے۔
صورت ہستی ز معنی سادہ نیست
این کہن ساز از نوا افتادہ نیست
موجودات کی صورت کی تہ میں معنی پنہاں ہیں؛ اس پرانے ساز کائنات میں (ابھی تک) کئی نوائیں پوشیدہ ہیں۔
برق آہنگ است ہشیارش زنند
خویش را چون زخمہ بر تارش زنند
یہ ساز برق آہنگ ہے مگر صرف سمجھ دار ہی مضراب بن کر اس کے تاروں سے نغمے پیدا کر سکتے ہیں۔
تو کہ مقصود خطاب انظری
پس چرا این راہ چون کوران بری
تو کے خطاب کا مقصود ہے؛ پھر تو کیوں اندھوں کی طرح اس راہ پر چل رہا ہے۔
قطرہ ئی کز خود فروزی محرم است
بادہ اندر تاک و بر گل شبنم است
وہ قطرہ جو اپنے آپ کو روشن رکھنے کا راز جانتا ہے؛ وہ انگور میں شراب اور شاخ گل پر شبنم بن جاتا ہے۔
چون بدریا در رود گوہر شود
جوہرش تابندہ چون اختر شود
وہ دریا میں جاتا ہے تو موتی بن جاتا ہے اور اس کا جوہر ستارے کی طرح چمکنے لگ جاتا ہے۔
چون صبا بر صورت گلہا متن
غوطہ اندر معنی گلزار زن
تو باد صبا کی طرح پھولوں کی ظاہری صورت پر نہ اترا؛ بلکہ باغ کے معنی کے اندر غوطہ زن ہو۔
آنکہ بر اشیا کمند انداخت است
مرکب از برق و حرارت ساخت است
جس نے اشیاء کائنات کی تسخیر کی اس نے برق و حرارت کو اپنی سواری بنایا۔
حرف چون طایر بہ پرواز آورد
نغمہ را بے زخمہ از ساز آورد
وہ حروف کو پرندوں کی سی پرواز عطا کرتا ہے؛ وہ ساز سے بغیر مضراب کے نغمے پیدا کرتا ہے۔
اے خرت لنگ از رہ دشوار زیست
غافل از ہنگامۂ پیکار زیست
تیرا گدھا زندگی کی دشوار راہ دیکھ کر لنگڑانے لگا ہے؛ وہ ہنگامہء کشمکش حیات سے غافل ہے۔
ہمرہانت پی بہ منزل بردہ اند
لیلی معنی ز محمل بردہ اند
تیرے ساتھی منزل تک پہنچ چکے ہیں؛ انہوں نے محمل کے اندر سے لیلی معنی کو پا لیا ہے۔
تو بصحرا مثل قیس آوارہ ئی
خستہ ئی واماندہ ئی بیچارہ ئی
تو ابھی قیس کی طرح صحرا میں زخمی ، تھکا ہوا، بے چارہ اور آوارہ پھر رہا ہے۔
علم اسما اعتبار آدم است
حکمت اشیا حصار آدم است
اشیاء کائنات کا علم حاصل کرنے سے ہی آدم کا وقار ہے؛ اور اشیاء کی حکمت جان لینے سے اس کا تحفّظ ہے۔

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close