(Rumuz-e-Bekhudi-23) (در معنی اینکہ کمال حیات ملیہ این است) Dar Ma’ani Aynke Kamal-e-Hayat-e-Millia Ayn Ast

در معنی اینکہ کمال حیات ملیہ این است

در معنی اینکہ کمال حیات ملیہ این است کہ ملت مثل فرد احساس خودی پیدا کند و تولید و تکمیل این احساس از ضبط روایات ملیہ ممکن گردد
کودکی را دیدی اے بالغ نظر
کو بود از معنی خود بے خبر
اس مضمون کی وضاحت میں کہ ملّی زندگی کا کمال یہ ہے کہ ملّت بھی فرد کی مثل احساس خودی پیدا کرے اور اس احساس کا پیدا ہونا اور تکمیل پانا ؛ ملّی روایات کی حفاظت سے ممکن ہے۔

اے بالغ نظر تو نے بچے کو دیکھا ہے جو اپنی حقیقت سے بے خبر ہوتا ہے۔
ناشناس دور و نزدیک آنچنان
ماہ را خواہد کہ بر گیرد عنان
اسے دوری اور نزدیکی کا احساس نہیں ہوتا؛ وہ چاہتا ہے کہ چاند کو اپنی گرفت میں لے لے۔
از ہمہ بیگانہ آن مامک پرست
گریہ مست وشیر مست و خواب مست
وہ صرف ماں ہی کو پہچانتا اور کسی کو نہیں پہچانتا؛ اسے رونے، سونے اور دودھ پینے کے سوا کوئی کام نہیں۔
زیر و بم را گوش او در گیر نیست
نغمہ اش جز شورش زنجیر نیست
اس کے کان زیر و بم میں تمیز نہیں کرتے؛ کنڈی کھٹکھٹانے کی آواز ہی اس کے لیے نغمہ ہے۔
سادہ و دوشیزہ افکارش ہنوز
چون گہر پاکیزہ گفتارش ہنوز
اس کے افکار سادہ اور اچھوتے ہوتے ہیں ؛ اس کی گفتگو میں موتی کی سی پاکیزگی پائی جاتی ہے۔
جستجو سرمایہ ی پندار او
از چرا، چون، کی، کجا، گفتار او
اس کی سوجھ بوجھ کا سرمایہ جستجو ہے؛ اس کی ساری گفتگو کیوں ، کیسے، کب اور کہاں پر مشتمل ہوتی ہے۔
نقش گیر این و آن اندیشہ اش
غیر جوئی غیر بینی پیشہ اش
اس کی سوچ گرد و پیش سے تاثیر حاصل کرتی ہے؛ اپنے علاوہ اور اشیاء کی تلاش اور ان کا مشاہدہ اس کا شغل ہوتا ہے۔
چشمش از دنبال اگر گیرد کسی
جان او آشفتہ می گردد بسی
اگر پیچھے سے کوئی اس کی آنکھ بند کر لے تو وہ بے قرار ہو جاتا ہے۔
فکر خامش در ہوای روزگار
پر گشا مانند باز نو شکار
اس کی نا پختہ سوچ زمانے کی فضا میں اس باز کی مانند پر کھولتی ہے جس نے نیا نیا شکار کرنا سیکھا ہو۔
در پی نخجیرہا بگذاردش
باز سوی خویشتن می آردش
پھر ایک مرحلہ آتا ہے جب وہ شکار کے تعلق میں فکر کو چھوڑ کر اسے اپنی طرف واپس لے آتا ہے۔
تا ز آتشگیری افکار او
گل فشاند زرچک پندار او
تاکہ اس کے افکار کی آتشگیری (روانی) اس کی پھلجھڑی سے پھول برسائے۔
چشم گیرایش فتد بر خویشتن
دستکی بر سینہ می گوید کہ من
اب اس کی وہ نگاہ جو پہلے صرف دوسروں پر پڑتی تھی؛ اپنے آپ پر پڑتی ہے اور وہ اپنے سینے پر ہاتھ مار کر ‘میں’ کہتا ہے، یعنی اس کے اندر خودی کا احساس پیدا ہوتا جاتا ہے۔
یاد او با خود شناسایش کند
حفظ ربط دوش و فردایش کند
اب اس کا حافظہ خود شناسائی پاتا ہے اور وہ اپنے گذشتہ و آئیندہ میں ربط کی محافظت کرتا ہے۔
سفتہ ایامش درین تار زرند
ہمچو گوہر از پی یک دیگرند
اب اس کے ایام (یاد کی) تار زر میں موتیوں کی طرح ایک دوسرے کے پیچھے پروئے جاتے ہیں۔
گرچہ ہر دم کاہد، افزاید گلش
“من ہمانستم کہ بودم” در دلش
اگرچہ اس کا بدن ہر وقت گھٹتا بڑھتا رہتا ہے؛ مگر اس کے دل میں یہ احساس قائم رہتا ہے کہ میں وہی ہوں جو تھا۔
این “من” نو زادہ آغاز حیات
نغمۂ بیداری ساز حیات
یہ نوزادہ ‘میں’ حیات کی ابتدا اور ساز حیات کا نغمہ ء بیداری ہے۔
ملت نوزادہ مثل طفلک است
طفلکی کو در کنار مامک است
نو زائیدہ ملّت بچے کی مانند ہے؛ جو ماں کی گود میں ہو۔
طفلکی از خویشتن نا آگہی
گوھر آلودہ ئی خاک رہی
ایسا بچہ جو اپنے آپ سے بے خبر ہو اور ایسے موتی کی مانند ہو جو خاک راہ میں ملا ہو۔
بستہ با امروز او فرداش نیست
حلقہ ہای روز و شب در پاس نیست
اس کے امروز کا اس کے آنے والے کل سے کوئی تعلق نہ ہو؛ اس کے پاؤں روز و شب کی (زنجیر) کے حلقوں سے آزاد ہوں۔
چشم ہستی را مثال مردم است
غیر را بینندہ و از خود گم است
اس کی مثال یوں ہے جیسے وجود میں آنکھ کی پتلی جو دوسروں کو دیکھتی ہے مگر اپنے آپ کو نہیں دیکھ سکتی۔
صد گرہ از رشتۂ خود وا کند
تا سر تار خودی پیدا کند
وہ اپنے دھاگے کی سینکڑوں گرہیں کھولتا ہے تب کہیں جا کر اسے تار خودی کا سرا ملتا ہے۔
گرم چون افتد بہ کار روزگار
این شعور تازہ گردد پایدار
پھر جب وہ دنیا کے کاموں میں سرگرمی سے حصّہ لیتا ہے تو اس کا ‘میں’ کا تازہ شعور پائیدار ہو جاتا ہے۔
نقشہا بردارد و اندازد او
سر گذشت خویش را می سازد او
پھر وہ اس سے پرانے نقوش مٹاتا اور اس پر نئے نقوش ثبت کرتا جاتا ہے اور اس طرح اس سے اپنی سرگزشت تیار کرتا ہے۔
فرد چون پیوند ایامش گسیخت
شانۂ ادراک او دندانہ ریخت
جب فرد کا رشتہ اس کے ماضی سے ٹوٹ جاتا ہے ؛ تو اس کے ادراک کی کنگھی کے دندانے گر جاتے ہیں۔
قوم روشن از سواد سر گذشت
خود شناس آمد ز یاد سر گذشت
اسی طرح قوم بھی اپنی تاریخ سے روشنی حاصل کرتی ہے اور اپنی روایات کی یاد سے اس کے اندر خود شناسی پیدا ہوتی ہے۔
سر گذشت او گر از یادش رود
باز اندر نیستی گم می شود
اگر تاریخ کی سرگذشت اس کی یاد سے محو ہو جائے وہ پھر نیستی میں گم ہو جاتی ہے۔
نسخۂ بود ترا اے ہوشمند
ربط ایام آمدہ شیرازہ بند
اے عقلمند ! تیری زندگی کا نسخہ یہ ہے کہ تو اپنے گزستہ واقعات کی شیرازہ بندی کرے۔
ربط ایام است ما را پیرہن
سوزنش حفظ روایات کہن
ربط ایام ہمارا لباس ہے اور اس کی سوئی (جس سے شیرازہ بندی ہوتی ہے) پرانی روایات کی حفاظت ہے۔
چیست تاریخ اے ز خود بیگانہ ئی
داستانی قصہ ئی افسانہ ئی
اے اپنے آپ سے بے خبر تاریخ کوئی داستان، قصّہ یا افسانہ نہیں۔
این ترا از خویشتن آگہ کند
آشنای کار و مرد رہ کند
بلکہ یہ وہ چیز ہے جو تجھے اپنے آپ سے آگاہ کرتی ہے اور تجھے مرد کار اور مرد راہ بناتی ہے۔
روح را سرمایۂ تاب است این
جسم ملت را چو اعصاب است این
تاریخ روح ملّت کی قوت کا سرمایہ اور اس کے بدن کے لیے بمنزلہء اعصاب ہے۔
ہمچو خنجر بر فسانت می زند
باز بر روی جہانت می زند
وہ تجھے خنجر پر سان کی طرح تیز کرتی ہے اور پھر دنیا کے مقابلے میں آزماتی ہے۔
وہ چہ ساز جان نگار و دلپذیر
نغمہ ہای رفتہ در تارش اسیر
وہ تاریخ کیسا جان افروز و دل پذیر ساز ہے جس کے تار میں گذشتہ نغمے اسیر ہو جاتے ہیں۔
شعلۂ افسردہ در سوزش نگر
دوش در آغوش امروزش نگر
اس کے سوز میں ماضی کے بجھے ہوئے شعلے دیکھ اور اس کے آج میں گذشتہ کل کا نظارہ کر۔
شمع او بخت امم را کوکب است
روشن از وی امشب و ہم دیشب است
اس کی شمع قوموں کے نصیب کا ستارہ ہے؛ جس سے آج اور کل کی راہیں روشن ہوتی ہیں۔
چشم پرکاری کا بیند رفتہ را
پیش تو باز آفریند رفتہ را
وہ ہوشیار آنکھ جو ماضی کو دیکھتی ہے ؛ وہ تیرے سامنے اسے دوبارہ زندہ کر دیتی ہے۔
بادۂ صد سالہ در مینای او
مستی پارینہ در صہبای او
تاریخ کی صراحی میں ایسی صد سالہ پرانی شراب موجود ہے؛ جس کے اندر ماضی کی مستی محفوظ ہے۔
صید گیری کو بدام اندر کشید
طایری کز بوستان ما پرید
تاریخ وہ شکاری ہے جو اس پرندے کو اپنے دام میں لے آتی ہے جو ہمارے باغ سے اڑ چکا ہے۔
ضبط کن تاریخ را پایندہ شو
از نفسہای رمیدہ زندہ شو
تاریخ کو محفوظ کر کے پائیندہ اور گزرے ہوئے سانسوں سے زندہ ہو جا۔
دوش را پیوند با امروز کن
زندگی را مرغ دست آموز کن
ماضی کا تعلق حال سے جوڑ اور زندگی کو اپنا پالتو پرندہ بنا لے۔
رشتۂ ایام را آور بدست
ورنہ گردی روز کور و شب پرست
ایّام کے رشتے کو اپنے ہاتھ میں مضبوط پکڑ ورنہ تو دن کو اندھا اور رات کا پجاری بن کر رہ جائے گا۔
سر زند از ماضی تو حال تو
خیزد از حال تو استقبال تو
تیرا حال تیرے ماضی سے پیدا ہوتا ہے اور تیرا مستقبل تیرے حال سے۔
مشکن ار خواہی حیات لازوال
رشتۂ ماضی ز استقبال و حال
تو اگر حیات لازوال چاہتا ہے تو ماضی کا رشتہ حال و مستقبل سے قطع نہ کر۔
موج ادراک تسلسل زندگی است
می کشان را شور قلقل زندگی است
زندگی تسلسل واقعات کے فہم کی موج ہے، جیسے مے کشوں کے لیے شور قلقل۔

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close