(Rumuz-e-Bekhudi-24) (در معنی اینکہ بقای نوع از امومت است) Dar Ma’ani Aynke Baqa’ay Nou Az Amomat Az Wa Hifz Wa Ehtiram

در معنی اینکہ بقای نوع از امومت است

 

در معنی اینکہ بقای نوع از امومت است و حفظ و احترام امومت اسلام است

نغمہ خیز از زخمۂ زن ساز مرد

از نیاز او دو بالا ناز مرد

اس مضمون کی وضاحت میں کہ نسل انسانی کی بقا امومت سے ہے اور امومت کی حفاظت اور احترام (عین) اسلام ہے۔

 

مرد کا ساز عورت کے ساز سے نغمہ پیدا کرتا ہے؛ عورت کے نیاز سے مرد کا ناز دوبالا ہو جاتا ہے۔

پوشش عریانی مردان زن است

حسن دلجو عشق را پیراہن است

مردوں کی عریانی کی پوشاک عورت ہے؛ دل لبھانے والا حسن عشق کا لباس بن گیا۔

عشق حق پروردۂ آغوش او

این نوا از زخمۂ خاموش او

اللہ تعالے کا عشق عورت ہی کے آغوش میں پرورش پاتا ہے؛ یہ نوا اس کے خاموش مضراب ہی سے اٹھتی ہے۔

آنکہ نازد بر وجودش کائنات

ذکر او فرمود با طیب و صلوة

وہ جس کے وجود پر کائنات ناز کرتی ہے ؛ انہوں نے خوشبو اور نماز کے ساتھ عورت کا ذکر فرمایا۔

مسلمے کو را پرستارے شمرد

بہرہ ئی از حکمت قرآن نبرد

ایسا مسلمان جس نے عورت کو اپنی لونڈی بنا رکھا ہے؛ اس نے حکمت قرآن سے حصّہ نہیں پایا۔

نیک اگر بینی امومت رحمت است

زانکہ او را با نبوت نسبت است

اگر تو غور سے دیکھے تو امومت رحمت ہے؛ کیونکہ وہ نبوّت سے نسبت رکھتی ہے۔

شفقت او شفقت پیغمبر است

سیرت اقوام را صورتگر است

ماں کی شفقت نبوّت کی شفقت کی مانند ہے؛ کیونکہ وہ بھی اقوام کے کردار کی تعمیر کرتی ہے۔

از امومت پختہ تر تعمیر ما

در خط سیمای او تقدیر ما

امومت سے ہمارے کردار کی تعمیر اور پختہ ہو جاتی ہے؛ ماں کی پیشانی کی لکیروں میں ہماری تقدیر پوشیدہ ہے۔

ہست اگر فرہنگ تو معنی رسی

حرف امت نکتہ ہا دارد بسی

اگر تیری سمجھ کو معانی تک رسائی حاصل ہے؛ تو لفظ امت ہی کے اندر بہت سے نکات پوشیدہ ہیں۔

گفت آن مقصود حرف “کن فکان”

زیر پای امہات آمد جنان

وہ ذات (صلعم) جو حرف کن فکان کا مقصود ہیں؛ انہوں نے فرمایا کہ جنت ماں کے پاؤں کے نیچے ہے۔

ملت از تکریم ارحام است و بس

ورنہ کار زندگی خام است و بس

ملت ماؤں کی تکریم ہی سے ہے؛ اس کے بغیر زندگی کا کام ادھورا رہ جاتا ہے۔

از امومت گرم رفتار حیات

از امومت کشف اسرار حیات

امومت ہی سے زندگی گرم رفتار ہے؛ امومت ہی سے حیات کے پنہاں راز وا ہوتے ہیں۔

از امومت پیچ و تاب جوی ما

موج و گرداب و حباب جوی ما

امومت ہی سے ہماری جوئے (حیات ) کے اندر پیچ و تاب ہے؛ اسی سے اس میں موج، گرداب اور حباب پیدا ہوتے ہیں۔

آن دخ رستاق زادی جاہلی

پست بالای سطبری بد گلی

وہ گنوار اور جاہل لڑکی جس کا قد چھوٹا ، جسم موٹا اور چہرہ بدصورت ہے۔

نا تراشی پرورش نادادہ ئی

کم نگاہی کم زبانی سادہ ئی

جو غیر مہذب ہے جس کی اچھی تربیت نہیں ہوئی؛ جو کوتاہ نظر، کم زبان اور سادہ مزاج ہے۔

دل ز آلام امومت کردہ خون

گرد چشمش حلقہ ہای نیلگون

مگر اس نے زچگی کے مصائب سے اپنا دل خوں کیا ہے؛ اس کی آنکھوں کے گرد نیلگوں حلقے پڑ گئے ہیں۔

ملت ار گیرد ز آغوشش بدست

یک مسلمان غیور و حق پرست

اگر اس کے آغوش سے ملّت کو ایک غیور اور حق پرست مسلمان میسّر آ جائے۔

ہستی ما محکم از آلام اوست

صبح ما عالم فروز از شام اوست

(تو ہم سمجھیں گے) کہ اس کے مصائب نے ہمارے ملّی وجود کو مستحکم کرد یا؛ اس کی شام سے ایسی صبح ہویدا ہوئی جس نے سارے عالم کو منور کر دیا۔

وان تہی آغوش نازک پیکری

خانہ پرورد نگاہش محشری

لیکن وہ بے اولاد ، نازک اندام ، قیامت خیز نگاہ گویا اس کی لونڈی ہے۔

فکر او از تاب مغرب روشن است

ظاہرش زن باطن او نازن است

اس کے افکار مغرب کی چمک دمک سے روشن ہیں؛ بظاہر وہ عورت ہے لیکن بہ باطن وہ نازن ہے۔

بندہای ملت بیضا گسیخت

تا ز چشمش عشوہ ہا حل کردہ ریخت

اس نے ملّت بیضا کی عائد کردہ پابندیاں توڑ دیں ؛ اس لیے اس کی آنکھ نے حجابانہ غمزہ زن ہے۔

شوخ چشم و فتنہ زا آزادیش

از حیا نا آشنا آزادیش

اس کی آزادی حیا سے نا آشنا ہے، اس نے اس کے اندر شوخ چشمی پیدا کر دی ہے، جس سے کئی فتنے جنم لیتے ہیں۔

علم او بار امومت بر نتافت

بر سر شامش یکی اختر نتافت

اس کے علم نے بار امومت اٹھانے سے بیزار کر دیا؛ اس کی شام کے (افق) پر ایک ستارہ بھی نہ چمکا۔

این گل از بستان ما نارستہ بہ

داغش از دامان ملت شستہ بہ

اس قسم کا پھول ہمارے باغ میں نہ ہی کھلے تو بہتر ہے؛ ایسی عورت دامان ملّت پر داغ ہے جسے دھو دینا چاہئیے۔

االہ گویان چو انجم بے شمار

بستہ چشم اندر ظلام روزگار

کلمہ گو ستاروں کی طرح لاتعداد ہیں لیکن وہ زمانے کی تاریکی میں آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔

پا نبردہ از عدم بیرون ہنوز

از سواد کیف و کم بیرون ہنوز

ابھی تک انہوں نے عدم سے کیف و کم کی دنیا میں قدم نہیں رکھا۔

مضمر اندر ظلمت موجود ما

آن تجلی ہای نامشہود ما

وہ ہماری مستور تجلّیات ہماری موجودہ تاریکیوں کے اندر مضمر ہیں۔

شبنمی بر برگ گل ننشستہ ئی

غنچہ ہائی از صبا نا خستہ ئی

ایسی شبنم جو پھول کی پتّی پر نہیں گری ؛ ایسے غنچے جنہیں صبا نے چھیڑا نہیں۔

بر دمد این لالہ زار ممکنات

از خیابان ریاض امہات

ممکنات کا یہ لالہ زار ماؤں کے باغ سے پھوٹتا ہے۔

قوم را سرمایہ اے صاحب نظر

نیست از نقد و قماش و سیم و زر

اے صاحب نظر نقدی، لباس اور چاندی سونا قوم کا سرمایہ نہیں۔

مال او فرزند ہای تندرست

تر دماغ و سخت کوش و چاق و چست

قوموں کی دولت تندرست بیٹے ہیں؛ جن کے دماغ روشن ہوں اور وہ محنتی اور چاک و چوبند ہوں۔

حافظ رمز اخوت مادران

قوت قرآن و ملت مادران

اخوّت کے ناز کی حفاظت مائیں کرتی ہیں ؛ مائیں ہی قرآن اور ملّت کے لیے باعث قوّت ہیں۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: