(Rumuz-e-Bekhudi-25) (در معنی اینکہ سیدة النساء فاطمةالزہرا) Dar Ma’ani Aynke Syedda-Tu-Nisa Fatima-Tu-Zahra Aswah-e-Kamila Aeest Bara’ay Nisa’ay Islam

در معنی اینکہ سیدة النساء فاطمةالزہرا

در معنی اینکہ سیدة النساء فاطمةالزہرا اسوۂ کاملہ ایست برای نساء اسلام
(اس مضمون کی وضاحت میں کہ سیدۃ النساء فاطمة الزہراء ؓ مسلم خواتین کے لیے اسوہ کا مسلہ ہیں۔)



مریم از یک نسبت عیسی عزیز
از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز
(حضرت مریم (علیہ) ایک نسبت سے محترم ہیں ؛ سیدہ فاطمة ؓ  تین نسبتوں سے محترم ہیں۔)

نور چشم رحمة للعالمین
آن امام اولین و آخرین
(ایک یہ کہ وہ جناب رسول پاک ﷺ جو اوّلین اور آخرین تھے، کی صاحبزادی ہیں۔)

آنکہ جان در پیکر گیتی دمید
روزگار تازہ آئین آفرید
(آپ ﷺ نے زمانے کے پیکر میں نئی روح پھونک دی؛ اور ایک ایسا دور وجود میں لائے جس کا آئین تازہ و جدید ہے۔)

بانوے آن تاجدار “ہل اتی “
مرتضی مشکل کشا شیر خدا
(جو سیدنا علی المرتضی ؓ کی زوجہ محترمہ تھیں۔آپ ؓ سورہ الدہر جو ہل اتی سے شروع ہوتی ہے کی آیہ (8) کے مصداق تھے، سیدنا علی ؓ  کا لقب مشکل کشا اور شیر خدا ہے۔)
(القران: 78:8 اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کوکھانا کھلاتے ہیں۔)

(بندہ مومن اللہ کی صفات کا مظہر ہوتا ہے۔ جیسا کہ رحیم صفت اللہ کی ہے اور اس کا مظہر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ القران 9:128 ایمان والوں پر بڑے ہی مہربان اور رحیم ہیں)

پادشاہ و کلبہ ئی ایوان او
یک حسام و یک زرہ سامان او
(وہ بادشاہ تھے مگر حجرہ ان کا محل تھا؛ اور ان کا سارا سامان ایک تلوار اور ایک زرہ پر مشتمل تھا۔)

مادر آن مرکز پرگار عشق
مادر آن کاروان سالار عشق
(ان کی تیسری نسبت یہ ہے کہ وہ سیدنا حسین ؓ  کی والدہ تھیں جو پرکار عشق کے مرکز اور کاروان عشق کے سالار تھے۔)

آن یکی شمع شبستان حرم
حافظ جمعیت خیرالامم
(آپ سیدنا حسین ؓ کی بھی والدہ تھیں جو شبستان حرم کی شمع تھے، اور جنہوں نے خیر الامم (امت مسلمہ) کے اتحاد کی حفاظت فرمائی۔)

تا نشیند آتش پیکار و کین
پشت پا زد بر سر تاج و نگین
(انہوں نے حکومت کو ٹھکرا دیا تاکہ امت مسلمہ کے اندر سے خانہ جنگی اور دشمنی کی آگ ختم ہو جائے۔)

وان دگر مولای ابرار جہان
قوت بازوی احرار جہان
(اور وہ دوسرے بھائی دنیا کے نیکوں کو آقا اور احرار کے لیے قوّت بازو تھے۔)

در نوای زندگی سوز از حسین
اہل حق حریت آموز از حسین
(سیدنا حسین ؓ کے اسوہ سے نوائے زندگی میں سوز پیدا ہوا اور اہل حق نے آپ سے حریّت کا درس لیا۔)

سیرت فرزند ہا از امہات
جوہر صدق و صفا از امہات
(مائیں بیٹوں کی سیرت کردار بناتی ہیں اور انہیں صدق و صفا کا جوہر عطا کرتی ہیں۔)

مزرع تسلیم را حاصل بتول
مادران را اسوۂ کامل بتول
(سیدنا فاطمہ ؓ تسلیم و رضا کی کھیتی کا حاصل اور ماؤں کے لیے اسوہ کاملہ ہیں۔)

بہر محتاجی دلش آنگونہ سوخت
با یہودی چادر خود را فروخت
(ایک مسکین کے لیے آپ ؓ کا دل اس طرح تڑپا کہ اپنی چادر یہودی کے پاس فروخت کر کے (اس کی مدد کی)۔)

نوری و ہم آتشے فرمانبرش
گم رضایش در رضای شوہرش
(نوری اور آتشے سب آپ ؓ کے فرمانبردار تھے؛ آپ ؓ  نے اپنی رضا میں گم کر دیا تھا۔)

آن ادب پروردۂ صبر و رضا
آسیا گردان و لب قرآن سرا
(آپ ؓ نے صبر و رضا کی ادب گاہ میں پرورش پائی تھی؛ ہاتھ چکّی پیستے اور لبوں پر قرآن پاک کی تلاوت ہوتی تھی۔)

گریہ ہای او ز بالین بے نیاز
گوہر افشاندی بدامان نماز
(آپ ؓ کے آنسو تکیے پر کبھی نہ گرے آپ ؓ  نے تنگیء حالات پر کبھی آنسو نہ بہائے) البتہ نماز کے دوران آپ ؓ کے آنسو موتیوں کی طرح ٹپکتے تھے۔)

اشک او بر چید جبریل از زمین
ہمچو شبنم ریخت بر عرش برین
(جبریل امین (علیہ) آپ ؓ آنسو سمیٹ لیتے اور انہیں عرش بریں پر شبنم کی طرح ٹپکاتے۔)

رشتۂ آئین حق زنجیر پاست
پاس فرمان جناب مصطفی است
(شریعت حقہ کے احکام میرے پاؤں کی زنجیر بنے ہوئے ہیں ؛ مجھے جناب مصطفے ﷺ کے فرمان کا پاس ہے۔)

ورنہ گرد تربتش گردیدمی
سجدہ ہا بر خاک او پاشیدمی
(ورنہ میں سیدہ فاطمہ ؓ کی تربت کے گرد طواف کرتا اور ان کی قبر پر سجدہ ریز ہوتا۔)
از- علامہ محمد اقبال ؒ
%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close