(Rumuz-e-Bekhudi-26) (خطاب بہ مخدرات اسلام) Khitab Ba Mukhdarat-e-Islam

خطاب بہ مخدرات اسلام

 

اے رد ایت پردۂ ناموس ما

تاب تو سرمایۂ فانوس ما

خواتین (پردہ نشینان ) اسلام سے خطاب۔

 

اے مسلمان خاتون تیری چادر ہمارے ناموس کا پردہ ہے؛ تیری روشنی سے ہماری فانوس روشن ہے۔

طینت پاک تو ما را رحمت است

قوت دین و اساس ملت است

تیری پاک طینت ہمارے لیے رحمت اور ہمارے دین کے لیے قوّت اور ہماری ملّت کی بنیاد ہے۔

کودک ما چون لب از شیر تو شست

لاالہ آموختی او را نخست

جب ہمارے بچے نے تیرے دودھ سے اپنے لب تر کیے تو تو نے سب سے پہلے اسے لاالہ سکھایا۔

می تراشد مہر تو اطوار ما

فکر ما گفتار ما کردار ما

تیری محبت ہمارے اطوار یعنی ہمارے فکر ، ہماری گفتار اور کردار کی تربیت کرتی ہے۔

برق ما کو در سحابت آرمید

بر جبل رخشید و در صحرا تپید

تیرے آغوش کے بادل میں ہماری جو بجلی آسودہ تھی وہ پہاڑوں پر چمکی اور صحراؤں میں تڑپی۔

اے امین نعمت آئین حق

در نفسہای تو سوز دین حق

تو آئین حق یعنی شریعت محمدی (صلعم) جیسی نعمت کی امین ہے؛ تیرے سانس میں دین حق کا سوز ملا ہوا ہے۔

دور حاضر تر فروش و پر فن است

کاروانش نقد دین را رہزن است

دور حاضر عیّار و مکّار ہے اس کا کاروان متاع دین کو لوٹنے والا ہے۔

کور و یزدان ناشناس ادراک او

ناکسان زنجیری پیچاک او

اس کی عقل اندھی اور خدا نا شناس ہے؛ ناکس اس کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں۔

چشم او بیباک و ناپرواستی

پنجۂ مژگان او گیراستی

اس کی آنکھ میں بے باکی اور بے حیائی ہے؛ اس کی پلکوں کا پنجہ اپنے شکار کو چھوڑتا ہے۔

صید او آزاد خواند خویش را

کشتۂ او زندہ داند خویش را

(مگر لطف یہ ہے ) کہ اس کا شکار اپنے آپ کو آزار کہتا ہے اور اس کا مارا ہوا اپنے آپ کو زندہ سمجھتا ہے۔

آب بند نخل جمعیت توئی

حافظ سرمایۂ ملت توئی

اے مسلمان خاتون تو ہی ہماری جمیعت کے درخت کی آبیاری اور ملّت کے سرمائے کی حفاظت کرنے والی ہے۔

از سر سود و زیان سودا مزن

گام جز بر جادۂ آبا مزن

تو معاملات کو دینوی نفع و نقصان کے لحاظ سے نہ جانچ ؛ صرف اپنے آباء کے راستے پر گامزن رہ۔

ہوشیار از دستبرد روزگار

گیر فرزندان خود را در کنار

زمانے کی دست برد سے ہوشیار ہو جا اور اپنے بچوں کو اپنے آغوش میں لے لے۔

این چمن زادان کہ پر نگشادہ اند

ز آشیان خویش دور افتادہ اند

ہمارے چمن کے یہ نو زائیدہ پرندے جنہوں نے ابھی پر نہیں کھولے؛ اپنے آشیانے سے دور جا پڑے ہیں۔

فطرت تو جذبہ ہا دارد بلند

چشم ہوش از اسوۂ زھرا مبند

تیری فطرت میں بلند جذبات موجود ہیں؛ تو اپنی ہوشمندی کی آنکھ سیدنا فاطمة الزہراء (رضی اللہ) کے اسوہ پر رکھ۔

تا حسینی شاخ تو بار آورد

موسم پیشین بگلزار آورد

تاکہ تیری شاخ بھی حسین (رضی اللہ ) جیسا پھل پیدا کرے؛ اور اسلام کے دور اوّل کو موسم (بہار ) ہمارے گلزار میں واپس لائے۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: