(Zarb-e-Kaleem-053) (نکتہ توحید) Nukta-e-Touheed

نکتہ توحید

بیاں میں نکتہ توحید آ تو سکتا ہے
ترے دماغ میں بت خانہ ہو تو کیا کہیے
وہ رمز شوق کہ پوشیدہ لاالہ میں ہے
طریق شیخ فقیہانہ ہو تو کیا کہیے
سرور جو حق و باطل کی کارزار میں ہے
تو حرب و ضرب سے بیگانہ ہو تو کیا کہیے
جہاں میں بندہ حر کے مشاہدات ہیں کیا
تری نگاہ غلامانہ ہو تو کیا کہیے
مقام فقر ہے کتنا بلند شاہی سے
روش کسی کی گدایانہ ہو تو کیا کہیے

علامہ محمد اقبال ؒ


ترجمہ و تشریح:
اس نظم میں اقبال نے توحید کے فضائل اور اس پر عمل ہونے کے نتائج کو برے دل کش انداز میں بیان کیا ہے یہی وجہ ہے کہ میں اس نظم کا مہفوم تو اپنے الفاظ میں بیان کر سکتا ہوں لیکن نثر میں اس کی دلکشی اور طرز ادا کو ظاہر نہیں کر سکتا۔


شعر نمبر ١:
فرماتے ہیں کہ نقطہ توحید کوئی ایسا پچیدہ منطقی مسئلہ نہیں ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا یا تو سمجھ نہیں سکتا اس کا بیان بھی آسان ہے اور اس کا سمجھنا بھی آسان ہے۔
اس کے سمجھنے کے لیے کسی ڈگری یا عملی فضیلت یا فلسفہ دانی کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن لوگوں کے سامنے اس عقیدے کو پیش کیا تھا وہ نہ کسی مدرسہ سے فارغ تھے اور نہ کسی یونیورسٹی کے گریجویٹ تھے اور نہ منطق جانتے تھے اور نہ فلسفہ سے آگاہ تھے۔
اس کے باوجود وہ لوگ باآسانی اس نکتے کو سمجھ گئے کہ اس دنیا کا خالق اور اس نظام کو چلانے والا صرف ایک ذات ہے اور پھر انہوں نے عملی طور پر اپنی تمام خواہشوں کو ترک کرکے اپنی تمام زندگی صرف اسی ذات حق کو اپنا مقصد اپنا مطلوب اور  محبوب بنالیا اور اس کے احکام کے مطابق زندگی گزار دی اور اس کے بدولت دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔
لیکن اے موجودہ زمانے کے مسلمان تیرے دل و دماغ میں ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں بُت جاگزیں ہیں۔ تو خواہشات کا مجسمہ بت خانہ بنا ہوا ہے۔  صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے اس کے احکامات کی پیروی کرنے کی بجائے تم نے اپنی ہزاروں خواہشات کو اپنا مطلب و مقصود و محبوب بنا لیا ہے اور ان کی تکمیل کے لئے جی اور مر رہے ہوں اور دنیا میں ہر جگہ ذلیل ہو رہے ہو۔ الغرض جب تیرے دل ودماغ کی یہ کیفیت ہے تو نہ میں سمجھا سکتا ہوں نہ تم سمجھ سکتا ہے۔

شعر نمبر ٢:
بندہ مومن کے جینے مرنے کے شوق کا راز اس بات میں پوشیدہ ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کو اپنا معبود، مقصود، محبوب، اور مطلوب مانتے ہوئے عملی زندگی گزارتا ہے۔ لیکن اگر کوئی عالم دین توحید کے اس عملی پہلو کو نظر انداز کر کے صرف منطقی طور پر خدا کو ایک مان لے اور اس کے دل میں محبت اور اللہ کے احکامات پر عمل کرنے کا شوق پیدا نہ ہو تو اس پر میں کیا کہہ سکتا ہوں۔

شعر نمبر ٣:
بندہ مومن کو حق تعالیٰ کے دین کی سربلندی اور عدل کے نظام کو قائم کرنے اور ظالم کافر اور کفر کے ظالمانہ نظام کو مٹانے کے لیے میدان جنگ میں جو سرور آتا ہے کسی اور چیز میں نہیں آتا اور اگر تم جہاد فی سبیل اللہ کے لئے مرنے اور مارنے کے اس سرور سے بے خبر ہو تو اس پر میں کیا کہہ سکتا ہوں۔

شعر نمبر ٤:
جو شخص اللہ کی محبت سے سرشار ہو کر حقیقی حریت (آزادی) کے مقام پر سرفراز ہو جاتا ہے وہ اس کائنات کی بڑی سے بڑی طاقت کو خاطر میں نہیں لاتا اور دنیا کے بڑے سے بڑے سلاطین کو اپنے سامنے ہیچ سمجھتا ہے بلکہ وہ یہ مشاہدہ کرتا ہے کہ اللہ کے سوا مجھ پر کوئی حکمرانی کے لائق ہی نہیں یہ ساری کائنات میری خادم ہے۔ لیکن جو شخص اپنے ہی جیسے انسانوں کا غلام ہو اور ان کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہو وہ بندہ حُر کے مشاہدات سے کیسے بہرہ اندوز ہوسکتا ہے۔

شعر نمبر ٥:

وہ فقیر جو اللہ پر توکل کرکے محنت مزدوری کرکے حلال کی تھوڑی بہت روزی میں گزارا کریں لیکن کسی کے آگے دستے سوال کر کے اپنی غیرت نہ بھیجے وہ بادشاہی سے بدرجہا زیادہ بلند ہے۔ لیکن اگر کسی بظاہر شان وشوکت رکھنے والے امیر شخص کا طرز حیات گدایانہ ہو یعنی اگر وہ دوسرے انسانوں کے سامنے دست سوال دراز کرتا ہوں اور ان کو اپنا حاجت روا سمجھتا ہو تو وہ مقام فقر کی بلندی اور عظمت کا کیا اندازہ کر سکتا ہے؟

English Translation:

نکتہ توحید
بیاں میں نکتہ توحید آ تو سکتا ہے ترے دماغ میں بت خانہ ہو تو کیا کہیے

UNITY OF GOD

The subtle point in God’s Oneness hid with ease in words we can explain, but what about your mind unsound that brims with myths and idols vain?

وہ رمز شوق کہ پوشیدہ لاالہ میں ہے طریق شیخ فقیہانہ ہو تو کیا کہیے

The Elder of the Shrine has traits that smack of Jurist’s faith and creed; much thirst for view ‘No god but He’, among his fellows cannot breed.

سرور جو حق و باطل کی کارزار میں ہے تو حرب و ضرب سے بیگانہ ہو تو کیا کہیے

None can appraise the glee one gets, when war is on ‘twixt good and bad; he who can’t inflict deadly blows and strokes in war is never glad.

جہاں میں بندہ حر کے مشاہدات ہیں کیا تری نگاہ غلامانہ ہو تو کیا کہیے

Observations made by free born men in world with marvels so replete to those who own the glance of thralls none can such wonders ‘fore them repeat.

مقام فقر ہے کتنا بلند شاہی سے روش کسی کی گدایانہ ہو تو کیا کہیے

A Darvesh holds a loftier rank than a monarch who wears a crown; there is no cure for such a man, who, like paupers, has sunk down.
(Translated by Syed Akbar Ali Shah)

Roman Urdu:
Nukta-e-Touheed

Byan Mein Nukta-e-Touheed Aa To Sakta Hai
Tere Damagh Mein Butkhana Ho To Kya Kahiye

Woh Ramz-e-Shouk Ke Poshida La Ilaha Mein Hai
Tareeq-e-Sheikh Faqeeh Na Ho To Kya Kahiye

Suroor Jo Haq-o-Batil Ki Karzaar Mein Hai
Tu Harb-o-Zarb Se Begana Ho To Kya Kahiye

Jahan Mein Banda-e-Hur Ke Mashidaat Hain Kya
Teri Nigah Ghulamana Ho To Kya Kahiye

Maqam-e-Faqr Hai Kitna Buland Shahi Se
Rawish Kisi Ki Gadayana Ho To Kya Kahiye!

Dr. Allama Muhammad Iqbal R.A

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: