(Zarb-e-Kaleem-052) (تسلیم و رضا) Tasleem-o-Raza

تسلیم و رضا

ہر شاخ سے یہ نکتہ پیچیدہ ہے پیدا
پودوں کو بھی احساس ہے پہنائے فضا کا

ظلمت کدئہ خاک پہ شاکر نہیں رہتا
ہر لحظہ ہے دانے کو جنوں نشوونما کا

فطرت کے تقاضوں پہ نہ کر راہ عمل بند
مقصود ہے کچھ اور ہی تسلیم و رضا کا

جرات ہو نمو کی تو فضا تنگ نہیں ہے
اے مرد خدا، ملک خدا تنگ نہیں ہے

علامہ محمد اقبال ؒ

ترجمہ و تشریح:

اس نظم میں اقبال نے تسلیم و رضا کی حقیقت واضح کی ہے کہ اس کا یہ مہفوم نہیں ہے کہ انسان عمل سے غافل ہو جائے یا کوشش سے باز آجائے حقیقت یہ ہے کہ عام طور سے مسلمانوں میں تسلیم و رضا کا یہ مفہوم جا گزین ہو گیا ہے کہ بس اللہ کی مرضی کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ اور خود کوئی کوشش نہ کرو اقبال کہتے ہیں کہ رضا کا مفہوم یہ ہے کہ انسان ہر معاملے میں جتنی اسے اللہ تعالی نے طاقت اور جو وسائل دیئے ہیں ان کے مطابق کوشش کرے اور جب حتی الامکان کامیابی کے تمام ذرائع جمع کرے تو حصول مقصود کے لیے جدوجہد کرے اس کے بعد نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں چھوڑ دے اگر ناکامی ہو تو سچے مسلمانوں کی طرح مایوسی یا رنجیدہ نہ ہو بلکہ اللہ کی مشیت کے سامنے نے سر تسلیم خم کردے یعنی اس کی مرضی نہ تھی کہ کامیابی ہو۔ میرے ذمہ (تدبیر) کوشش کرنا تھا کامیابی و ناکامی (تقدیر) اس کے ہاتھ میں ہے۔

اس حقیقت کو کتنی خوبصورتی سے ایک شعر کی کی صورت میں مِیاں مُحمد بَخش بیان کردیا ہے۔

مالی دا کم پانی دینا، بَھر بّھر مشکاں پاوے

مالک دا کم پَھل پُھل لانا، لاوے یا نہ لاوے

یہ ایک دنیاوی حقیقت ہے جو کہ قرآن میں بھی بیان ہے کہ انسان کو اس کے عمل کا نتیجہ ملتا ہے۔

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ(۳۹)

”اور یہ کہ انسان کیلئے وہی ہوگا جس کی اس نے کوشش کی۔“

(قرآن 53:39)

ایک اور جگہ فرمایا ہے

وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۵۴)

”اور تمہیں تمہارے اعمال ہی کا بدلہ دیا جائے گا۔“

جیسا کہ قرآن میں میں اسباب کو استعمال کرنے اور تدبیر کرنے کا حکم ہے۔

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْۚ

”اور ان کے لیے جتنی قوت ہوسکے تیار رکھو اور جتنے گھوڑے باندھ سکو تاکہ اس تیاری کے ذریعے تم اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو اور جو اُن کے علاوہ ہیں انہیں ڈراؤ“

(قرآن 8:60)

اور دوسری جگہ ایمان کی تکمیل کے لیے بھروسہ صرف اللہ پر رکھنے کا حکم ہے۔

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَؕ-وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ(۱۳)

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور ایمان والوں کو تو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔

(قرآن 64:13)

اسباب کا استعمال کرنے اور بھروسہ اللہ پر کرنے کے بارے میں ایک حدیث:

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا :

”اللہ کے رسول ! کیا میں اونٹ کو پہلے باندھ دوں پھر اللہ پرتوکل کروں یا چھوڑ دوں پھر توکل کروں؟ آپ نے فرمایا: ‘اسے باندھ دو ،پھر توکل کرو’۔

(جامع ترمذی حدیث نمبر: 2517)

جیسا کہ شیخ سعدی فرماتے ہیں:

”اپنے حصے کا کام کیے بغیر، دعا پر بھروسا کرنا حماقت ہے۔ اور اپنی محنت کر کے دعا سے گریز کرنا تکبر ہے۔“

جیسا کہ واصف علی واصف نے فرماتے ہیں:

”تقدیر کا تعلق منشائے الہی سے ہے اور تدبیر کا میری منشا سے ہے۔“

_____________

شعر نمبر ١:

پودوں کے نشوونما پر غور کرنے سے یہ نکتہ پیچیدہ واضح ہو سکتا ہے کہ نباتات کو بھی یہ احساس ہے ہے کہ فضا بہت وسیع ہے اس لیے ہمیں نشوونما کے لیے یعنی اپنے پھلنے اور شاخوں کو بڑھانے کا موقع حاصل ہے۔

شعر نمبر ٢:

چناچہ کوئی دانہ زمین کے اندر پڑے رہنے پر قناعت نہیں کرتا۔ بلکہ ہر دانے مین زمین سے باہر نکلنے اور پھلنے پھولنے کا جذبہ کار فرما ہے۔ وہ برابر عمل میں مصروف رہتا ہے یعنی کوئی دانہ یہ نہیں کہتا کہ مجھے عمل کرنے کی کیا ضرورت ہے اگر خدا کی مرضی ہوگی تو مجھے نشرو نما حاصل ہوجائے گا۔

شعر نمبر ٣:

پس اے انسان تو نباتات سے سبق سیکھ۔ تیری فطرت کا تقاضہ یہ ہے تو سیر گرم عمل رہے اور اپنے مقصد کے حصول کے لیے کوشش کرتا رہے۔ تسلیم و رضا کا مقصود یہ نہیں کہ تو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ جائے بلکہ اس بلند روحانی اصول کا فلسفہ یہ ہے کہ تو ہر معاملے میں پہلے اپنی سی کوشش کر، پھر نتیجہ خدا کے ہاتھ میں چھوڑ دے۔ یعنی سر تسلیم خم کر مگر عمل کرنے کے بعد۔

شعر نمبر ٤:

یاد رکھ کہ اگر تیری اندر ترقی کرنے کا جذبہ موجزن ہے، تو عمل کے لیے میدان کافی وسیع ہے۔ اے اللہ کے بندے! یقین رکھ کے اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔

________

English Translation:

تسلیم و رضا

ہر شاخ سے یہ نکتہ پیچیدہ ہے پیدا
پودوں کو بھی احساس ہے پہنائے فضا کا
RESIGNATION
The twigs and boughs this subtle point explain that sense of surrounding wide to plants is plain.
ظلمت کدئہ خاک پہ شاکر نہیں رہتا
ہر لحظہ ہے دانے کو جنوں نشوونما کا
The seed is not content with dwelling dark; it has a craze to spire from earth like spark.
فطرت کے تقاضوں پہ نہ کر راہ عمل بند
مقصود ہے کچھ اور ہی تسلیم و رضا کا
Don’t bar the path to deeds for Nature’s claims; submission to will of God has different aims.
جرات ہو نمو کی تو فضا تنگ نہیں ہے
اے مرد خدا، ملک خدا تنگ نہیں ہے
If there is pluck for growth, the suburbs suffice; O man, the world is wide, if you are, wise.
(Translated by Syed Akbar Ali Shah)

Roman Urdu:

Tasleem-o-Raza

Har Shakh Se Ye Nukta-e-Pecheeda Hai Paida
Poudon Ko Bhi Ehsas Hai Pehnaye Faza Ka

Zulmat Kada-e-Khak Pe Shakir Nahin Rehta
Har Lehza Hai Dane Ko Junoon Nash-o-Nama Ka

Fitrat Ke Taqazon Pe Na Kar Rah-e-Amal Band
Maqsood Hai Kuch Aur Hi Tasleem-o-Raza Ka

Jurrat Ho Namoo Ki Tu Faza Tang Nahin Hai
Ae Mard-e-Khuda, Mulk-e-Khuda Tang Nahin Hai!

Dr. Allama Muhammad Iqbal r.a

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: