(Zarb-e-Kaleem-024) (اسلام) Islam

اسلام

روح اسلام کی ہے نور خودی، نار خودی
زندگانی کے لیے نار خودی نور و حضور

یہی ہر چیز کی تقویم، یہی اصل نمود
گرچہ اس روح کو فطرت نے رکھا ہے مستور

مستور: پوشیدہ۔

لفظ ‘اسلام، سے یورپ کو اگر کد ہے تو خیر
دوسرا نام اسی دین کا ہے ‘فقر غیور’

کد: نفرت، چڑ۔

 


English Translation:

اسلام


روح اسلام کی ہے نور خودی، نار خودی
زندگانی کے لیے نار خودی نور و حضور

ISLAM
The fire and light of Ego both the soul of Muslims together bind, the fire of Self is light for life, God’s existence brings before the mind.
یہی ہر چیز کی تقویم، یہی اصل نمود
گرچہ اس روح کو فطرت نے رکھا ہے مستور
مستور: پوشیدہ۔
It fortifies the things of life; it is the cause of all display though Nature always hides this soul from eyes of mankind far away.
لفظ ‘اسلام، سے یورپ کو اگر کد ہے تو خیر
دوسرا نام اسی دین کا ہے ‘فقر غیور’
کد: نفرت، چڑ۔
If Muslim Faith offends the West, let West in its own anger burn: This Faith is known by other name, to ‘Jealous Faqr’ now we must turn.
(Translated by Syed Akbar Ali Shah)


Roman urdu:
Islam

Rooh Islam Ki Hai Noor-e-Khudi, Naar-e-Khudi
Zindagaani Ke Liye Naar-e-Khudi Noor-o-Huzoor

Yehi Har Cheez Ki Taqweem, Yehi Asal-e-Namood
Garcha Iss Rooh Ko Fitrat Ne Rakha Hai Mastoor

Lafz-e-‘Islam’ Se Yourap Ko Agar Kidd Hai To Khair
Dosra Naam Issi Deen Ka Hai ‘Faqr-e-Ghayoor’!

Dr. Allama Muhammad Iqbal


اسلام

اس نظم اقبال نے اسلام کی حقیقت بیان کی ہے کہ در اسلام فقر “عیور” کا دوسرا نام ہے فرماتے ہیں اسلام کی روح، نور خودی اور نار خودی ہے یعنی اسلام خودی میں نور اور نار کا رنگ پیدا کردیتا ہے نور سے مراد ہے شان جمال اور نار سے مراد ہے شان جلال اور ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ لا الہ سے جلال اور الہ اللہ سے جمال کا رنگ پیدا ہوجاتا ہے اور لاالہ اللہ یہی اصل اسلام ہے یعنی اسلام کی روح ہے۔

اور انسانی زندگی کی تکمیل کے لیے انہی دو چیزوں کی ضرورت ہے مختصر طور پر یوں کہہ سکتے ہیں:۔

نار+ نور =جلال+ جمال= لاالہ+ الااللہ= روح اسلام

نیز، نور سے حضور، یعنی اللہ کی موجودگی کا احساس پیدا ہوتا ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب الہ اللہ کہا تو اللہ کی ہستی کا اثبات ہوگیا۔ اسی سے رنگ جمال پیدا ہوا، اور اس سے ہستی باری کا اثبات یعنی رنگ حضور پیدا ہوگیا۔ گویا نور اور حضور ایک ہی چیز ہے۔

بس یہی نورونار، ہر شئے کی بنیاد ہے۔ اور یہی نمود کی اصل ہے۔ یعنی یہودی ہر شئے میں موجود ہے۔ حتی کے جمادات میں بھی۔ لیکن فطرت نے اس روح کو نظروں سے پوشیدہ رکھا ہے. یہ نقطہ صرف غور کرنے سے سمجھ میں آسکتا ہے۔ تفصیل سنو!

واضح ہو کہ یہ کائنات، اللہ کے اسماء کا پرتو ہے اور اس کے جس قدر آسماں ہے وہ سب اس کی صفات ہیں تو ہے مثلا  رحیم و کریم، اور قہار و جبار انہی صفات کی تجلی ہردم ہوتی رہتی ہے۔ اور یہ صفات دو قسم کی ہیں۔

جلالی اور جمالی۔ گویا اللہ کی دو شانیں ہیں، شان جلال اور شان جمال لا الہ اس کی شان جلال کا مظہر ہے۔ اور الہ اللہ اس کی شان جمال کا مظہر ہے۔ اور ہم ابھی بیان کرچکے ہیں کہ کائنات پر اس کی صفات ہردم تجلی فرماتی رہتی ہیں۔ اس لیے رنگ جلال اور ڈنگ جمال (یعنی نور اور نار) شئے کی تقویم، اور ہر شئے کی نمود کی اصل ہے۔ اور یہی روح اسلام ہے۔ یعنی اسلام انسانی خودی میں یہی دونوں شان پیدا کر دیتا ہے. جس سے اقبال نور اور نار سے تعبیر کیا ہے. جب مومن اپنے آپ کو صبغتہ اللہ، یعنی اللہ کے رنگ میں رنگ لے لیتا ہے  تو اس میں بھی جلالی اور جمالی شان پیدا ہو جاتی ہے اور یہ رنگینی صرف اسلام یعنی کامل اطاعت کی بدولت  ممکن ہے. اس لئے جلال اور جمال اسلام کی روح ہے. (اور یہی دونوں شان جن کو اقبال نور اور نار سے تعبیر کیا ہے، ہر شے کی بنیاد ہیں۔

اگر یورپ کو لفظ اسلام سے نفرت ہے تو ہم اسے اسی دین کا دوسرا نام بتاتے ہیں۔ اور وہ نام “فقر غیور” ہے.

فقر غیور  سے مراد وہ فکر ہے جس میں غیرت کا مادہ پایا جائے یعنی ایک فکر تو مسکینی اور گداگری سکھاتا ہے، اسلام کو اس فقر سے کوئی علاقہ یا رابطہ نہیں ہے۔

اسلام انسان میں ایسا فقر پیدا کرتا ہے جس میں مسکینی اور دلگیری نہیں ہوتی،  بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے غیرت ہوتی ہے. اور مسلمان کی شناخت یہ ہے کہ وہ غیور ہوتا ہے کسی کے آگے سر نسجود نہیں ہوتا. اور  کفر سے کسی صورت میں بھی مفا ہمت نہیں کرتا۔ دنیا کو ہیچ سمجھتا ہے. دولت کو خاطر میں نہیں لاتا۔ بورئیے پر سوتا ہے پیوند لگا ہوا کرتا پہنتا ہے. لیکن سلاطین کے سامنے کلمہ حق کہتا ہے۔ اور مطلق نہیں ڈرتا، بلکہ سلاطین خود اس کے سامنے لرزہ براندام رہتے

ہیں. اسلام جس فقر کی تعلیم دیتا ہے. اقبال نے بال جبریل میں خود اس کی تصریح کی ہے۔

ایک فقر سکھاتا ہے مسکینی و دلگیری
اک فقر سے کھلتے ہیں اسرارِ جہانگیری

اسلام بھی فقر کی شان پیدا کرتا ہے. لیکن وہ فقر انسان کو دنیا میں سربلند اور حکمراں کردیتا ہے. بلکہ

 

بادشاہوں درقباہائے حریر
زرد رواز سہم آں عریاں فقیر

(بادشاہ لوگ جو ریشمی لباس پہنتے ہیں اس ننگے فقیر کو دیکھ کر اس کے خوف سے پیلے پڑ جاتےہیں۔)

 

یعنی اسلام، مسلمان میں جو شان فقر پیدا کرتا ہے. اس سے بادشاہ بھی لرزہ براندام ہوجاتے ہیں۔ اقبال نے اس فقر کی تشریح اپنی فارسی کتابوں میں کی ہے۔ مثلا مثنوی پس چہ باید کرد” لیزا جن لوگوں کو اقبال کے اصلی رنگ سے آگاہی مطلوب ہو، انہیں لازم ہے کہ ان کی فارسی کتابوں کا مطالعہ کریں۔

 

 

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: