(Zarb-e-Kaleem-025) (حیات ابدی) Hayat-e-Abadi

حیات ابدی

زندگانی ہے صدف، قرہ نیساں ہے خودی
وہ صدف کیا کہ جو قطرے کو گہر کر نہ سکے
ہو اگر خودنگر و خودگر و خودگیر خودی
یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے
قطرہ نیساں: موسم بہار کی بارش کا قطرہ ۔ فارسی ادب میں یہ مانا جاتا ہے کہ اگر یہ قطرہ سیپ میں گر جائے تو اس میں موتی بن جاتا ہے۔


English Translation:
حیات ابدی


زندگانی ہے صدف، قرہ نیساں ہے خودی
وہ صدف کیا کہ جو قطرے کو گہر کر نہ سکے
ہو اگر خودنگر و خودگر و خودگیر خودی
یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے
قطرہ نیساں: موسم بہار کی بارش کا قطرہ ۔ فارسی ادب میں یہ مانا جاتا ہے کہ اگر یہ قطرہ سیپ میں گر جائے تو اس میں موتی بن جاتا ہے۔

THE ETERNAL LIFE
Life acts just like the mother shell, it takes in lap the drop of vernal rain unless it change the drop to pearl the Shell is worthless quite and vain.
If Self can pick its faults, perfection seek, and for its perfection mount a guard: Such man is likely to have lasting life, perhaps, death may not claim him as reward.
(Translated by Syed Akbar Ali Shah)


Roman urdu:

Hayat-e-Abdi

Zindagaani Hai Sadaf, Qatra-e-Neesan Hai Khudi
Woh Sadaf Kya Ke Jo Qatre Ko Guhar Kar Na Sake

Ho Agar Khudnigar-o-Khudgar-o-Khudgeer Khudi
Ye Bhi Mumkin Hai Ke Tu Mout Se Bhi Mer Na Sake

Dr. Allama Muhammad Iqbal R.A


حیات ابدی
(دوسری)

اقبال نے دو شعروں میں ہمیں حیات ابدی حاصل کرنے کا طریقہ بتایا ہے.  کہتے ہیں کہ
اگر ہم زندگی (حیات) کو صدف سے تشبیہ دیں تو خودی کو قطرہ نیساں کہہ سکتے ہیں اور صدف کا وظیفہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قطرہ کی پرورش کر کے اسے موتی بنا دے۔ پس ہم کو اپنی زندگی اس طرح بسر کرنی چاہئیے. کہ اعمال صالحہ کی بدولت ہماری خودی اپنے مرتبہ کمال کو پہنچ سکے۔ جس طرح قطرہ جب گہر (موتی) بن جاتا ہے تو مرتبہ کمال کو پہنچ جاتا ہے-
اس کی صورت یہ ہے کہ انسان کو اپنی خودی کی حفاظت کرنی یعنی اسے مستحکم کرنا لازم ہے. (واضح ہو کہ خودی صرف عشق سے مستحکم ہو سکتی ہے) پس اگر ہماری خودی میں تین صفات پیدا ہو جائیں تو وہ لازوال ہو سکتی ہے. یعنی اس سے حیات ابدی حاصل ہوسکتی ہے. وہ تین صفات یہ ہیں
خودنگر۔خودگر۔خودگیر۔

خود نگر کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے ماحول سے آگاہ ہوں، دنیا کو دیکھنے اور سمجھنے میں دوسروں کے محتاج نہ ہو. مثلا دنیا کو کافروں کی نگاہ سے نہ دیکھیں.

خودگر کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی تربیت اور اصلاح خود کر سکے دوسروں کے دست نگر نہ ہوں. مثلا انگریزوں کا ضابطہ حیات احتیار نہ کریں.

خودگیر کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی حفاظت خود کر سکیں دوسروں کے سہارے اپنی زندگی بسر نہ کریں. مثلا کامن ویلتھ یا یو این او پر اعتمار نہ کریں
ان تینوں صفات سے خودی میں پختگی پیدا ہوسکتی ہے اور اقبال خود کہتےہیں

خودی چوں پختہ گرددلازوال است

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: