(Zarb-e-Kaleem-073) (اقوام مشرق) Aqwam-e-Mashriq

اقوام مشرق

نظر آتے نہیں بے پردہ حقائق ان کو

آنکھ جن کی ہوئی محکومی و تقلید سے کور

زندہ کر سکتی ہے ایران و عرب کو کیونکر

یہ فرنگی مدنےت کہ جو ہے خود لب گور!

لب گور: قبر کے کنارے۔ قریب المرگ۔

اس نظم میں اقبال نے ایشیا کی قوموں کوتاہ بنیی پر ماتم کیا ہے جو مغربی تہذیب کو اپنے مرض کی دوا سمجھ کر، بے سوچے سمجھے اس کی تقلید کر رہی ہیں. کہتے ہیں کہ
جن لوگوں کی آنکھیں غلامی اور تقلید کی وجہ سے اندھی ہوگئی ہیں. ان کو واضح حقائق بھی نظر نہیں آسکتے.
‏ وہ اتنا بھی نہیں سمجھ سکتے کہ بھلا وہ مغربی تہذیب جو خود دم توڑ رہی ہے. دوسروں کو کس طرح زندہ کر سکتی ہے. یعنی جو تہذیب مغربی اقوام کو تباہی سے نہیں بچا سکی. وہ ہمیں کس طرح فائدہ پہنچا سکتی ہے؟ 
‏ آج کل ترکی، مصر، شام، ایران، عرب اور پاکستان سب ممالک مغربی تہذیب کے اصول اختیار کر رہے ہیں. اور اتنا غور نہیں کرتے کہ اس تہذیب کی بنیاد تو لادینی پر ہے. لہذا یہ تہذیب مسلمانوں کو کیا فائدہ پہنچا سکتی ہے؟

English Translation:

اقوام مشرق

نظر آتے نہیں بے پردہ حقائق ان کو
آنکھ جن کی ہوئی محکومی و تقلید سے کور
زندہ کر سکتی ہے ایران و عرب کو کیونکر
یہ فرنگی مدنےت کہ جو ہے خود لب گور!
لب گور: قبر کے کنارے۔ قریب المرگ۔
Those men, who lose their eyes through bondage and sheepish bent, can’t see the facts of life though veil from truths be rent.
How can the cult of Franks revive the Muslim lands? It is on verge of wreck is based on tottering sands.
[Translated by Syed Akbar Ali Shah]

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: