(Zarb-e-Kaleem-075) (مصلحین مشرق) Musliheen-e-Mashriq

مصلحین مشرق

میں ہوں نومید تیرے ساقیان سامری فن سے
کہ بزم خاوراں میں لے کے آئے ساتگیں خالی

نئی بجلی کہاں ان بادلوں کے جیب و دامن میں
پرانی بجلیوں سے بھی ہے جن کی آستیں خالی

سامري فن: سامری کے طور طریقے والے جادوگر۔
ساتگيں: پیالہ۔

اس نظم میں اقبال نے اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ مشرقی ممالک خصوصاً اسلامی ممالک اور غیر منقسم ہندوستان میں جو مصلحین پیدا ہوئے ان سے مجھے یہ توقع نہیں کے مشرقی قوموں اور مسلمانوں کی کوئی قرار واقع اصلاح کرسکیں گے. جس طرح وہ ساقی جو بزم میں خالی بوتلیں لے کر آئے. اہل بزم کو شراب نہیں پلا سکتا، اسی طرح یہ مصلحین بھی نرے جادوگر ہیں. ان کے پاس اصلاح قوم کا کوئی پروگرام نہیں ہے. اور ان کی حقیقت یہ ہے کہ نئے خیالات تو ان کے پاس کیا ہوتے پرانے خیالات بھی نہیں ہیں. یہ تو محض مغربی اقوام کے مقلد ہیں. اور قوم کو نفع کے بجائے نقصان پہنچاتے ہیں. جس طرح سامری نے ایک بچھڑا بنا کر اپنی قوم کو گمراہ کردیا تھا، اسی طرح یہ لوگ مصلحین کے لباس میں مظاہر ہوتے ہیں، اور غیر اسلامی اصول قوم کے سامنے پیش کرکے اسے گمراہ کرتے ہیں. اور چونکہ قوم جاہل ہیں. اس لیے ان کی باتوں میں آ جاتی ہے.

English Translation:

مصلحین مشرق

میں ہوں نومید تیرے ساقیان سامری فن سے
کہ بزم خاوراں میں لے کے آئے ساتگیں خالی
نئی بجلی کہاں ان بادلوں کے جیب و دامن میں
پرانی بجلیوں سے بھی ہے جن کی آستیں خالی
سامري فن: سامری کے طور طریقے والے جادوگر۔
ساتگيں: پیالہ۔
Your vintners have despaired me much, like Samri, they can cast a spell: With empty bowls to East have conic; what they would do is hard to tell.
No lighting new can ever flash in tap or clouds that float in sky: Of lightning old, their sleeves are void; how can they gain a Status high?
[Translated by Syed Akbar Ali Shah]

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: