(Zarb-e-Kaleem-077) (اسرار پیدا) Asrar-e-Paida

اسرار پیدا

اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد

اسرار پیدا: کھلے ہوئے بھید۔

ناچیز جہان مہ و پرویں ترے آگے
وہ عالم مجبور ہے، تو عالم آزاد

موجوں کی تپش کیا ہے، فقط ذوق طلب ہے
پنہاں جو صدف میں ہے، وہ دولت ہے خدا داد

شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
پر دم ہے اگر تو تو نہیں خطرہ افتاد

خطرہ افتاد: گر جانے کا خطرہ۔
دم :انتھک۔ پر

اس نظم میں اقبال نے بعض حقائق ومعارف بیان کئے ہیں لکھتے ہیں کہ جس قوم کے نوجوان اپنی خودی کو فولاد کی طرح مضبوط بنا لیں، اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی. یہ ایک ولپزیرا اسلوب بیان ہے، اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے شمشیر اسی قوم کے حق میں مفید ہو سکتی ہے.

جس کے نوجوان پہلے اپنی خودی کو مستحکم کر لیں، یعنی کسی نصب العین کے حصول کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرلیں. اور اگر ان کے اندر، یہ جوہر پیدا نہ ہوسکے. تو پھر شمشیر، یعنی آلات حرب بالکل بیکار ثابت ہوں گے کامیابی دراصل مذکورہ بالا جذبہ کی بنا پر حاصل ہوتی ہے، نہ کہ محض سامان جنگ کی بدولت.

اے مخاطب! یہ دنیا اور اس کے عناصر ترکیبی، سب تیرے سامنے ہیچ ہیں، کیونکہ یہ سب اجرام، فلکی، زمین وآسمان چاند سورج، جمادات اور نباتات مجبور ہیں. ان کو اپنی مرضی سے زندگی بسر کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے. مثلا آگ کو یہ اختیار نہیں کہ جلانا چھوڑ دے، لیکن تو خلیفۃ اللہ ہے. تجھ کو اللہ نے وہ نعمت عطا کی ہے جو کائنات میں کسی کو عطا نہیں کی، اور وہ نعمت آزادی اختیار ہے تجھ کو یہ اختیار ہے کہ اگر تو چاہے تو اپنی خودی کو بلند کر سکتا ہے اس قدر بلند کے خلافت الہیہ کے مقام پر فائز ہو سکتا ہے. پس تو اس نعمت کی قدر کرو، اور اس مقام کو حاصل کرنے کی کوشش کر.

اس کائنات میں اللہ نے ہر جگہ اور ہر چیز میں کوئی نہ کوئی نعمت یا دولت پوشیدہ رکھی ہے. اور اس سے مقصد یہ ہے. کہ انسان اس کے حصول کی کوشش کرے. مثلا اللہ نے اپنی حکومت سے صدف کے اندر موتی پہنا کر دیا ہے. اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ موجوں کی طرح اپنے اندر ذوق طلب پیدا کرے اور یہ نعمت یا دولت حاصل کرے پس انسان کو موجوں سے جدوجہد کا سبق سیکھنا چاہیے.

اب اگر تجھے یہ اندیشہ لاحق ہو کہ مسلسل کوششں سے شاید میں تھک جاؤں گا تو شاہین کی زندگی سے سبق سیکھ! آج تک کسی نے کسی شاہین کو مسلسل پرواز کی بناپر تھک کر گرتے ہوئے نہیں دیکھا، کیوں؟ اس لیے کہ وہ طاقت پرواز آتے ہی اڑنا شروع کر دیتا ہے. اور کثرت وشدت پرواز سے اپنے اندر اس قدر طاقت پیدا کر لیتا ہے کہ تھکن اس کے پاس نہیں آ سکتی. اسی طرح تو رات دن کوشش کئے جا، اسی کوشش سے تیرے اندر سعی پہیم کی طاقت پیدا ہوجائے گی.

English Translation:

اسرار پیدا

اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد
اسرار پیدا: کھلے ہوئے بھید۔
OPEN SECRETS
A nation whose youth are endowed with Self as strong and hard as steel: No need of piercing swords in war such people brave can ever feel.
ناچیز جہان مہ و پرویں ترے آگے
وہ عالم مجبور ہے، تو عالم آزاد

The world of Pleiades and the Moon by natural laws is chained and bound; whereas the world in which you dwell owns insight, will and mind much sound.
موجوں کی تپش کیا ہے، فقط ذوق طلب ہے
پنہاں جو صدف میں ہے، وہ دولت ہے خدا داد

What do the quivering waves imply, save enormous zeal and zest for quest? What lies concealed in mother shell is gift of God Who knows it best.
شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
پر دم ہے اگر تو تو نہیں خطرہ افتاد
خطرہ افتاد: گر جانے کا خطرہ۔
دم :انتھک۔ پر
The hawk is never tired of flight, does not drop gasping on the ground; if unwearied it remains on wings, from hunters’ dread is safe and sound.
[Translated by Syed Akbar Ali Shah]

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: