(Zarb-e-Kaleem-079) (غزل) Ghazal

غزل

نہ میں اعجمی نہ ہندی، نہ عراقی و حجازی
کہ خودی سے میں نے سیکھی دوجہاں سے بے نیازی

تو مری نظر میں کافر، میں تری نظر میں کافر
ترا دیں نفس شماری، مرا دیں نفس گدازی

نفس شماري: سانس گننا۔
نفس گدازي: سانس کو گرم کرنا۔

تو بدل گیا تو بہتر کہ بدل گئی شریعت
کہ موافق تدرواں نہیں دین شاہبازی

تدرواں: چکوروں۔

ترے دشت و در میں مجھ کو وہ جنوں نظر نہ آیا
کہ سکھا سکے خرد کو رہ و رسم کارسازی

رہ و رسم کارسازي: کام سنوارنے والے طریقے۔

نہ جدا رہے نوا گر تب و تاب زندگی سے
کہ ہلاکی امم ہے یہ طریق نے نوازی

نوا گر: گانے والا۔
ہلاکي امم: قوموں کی حلاکت۔

اس غزل میں اقبال نے بعض حقائق ومعارف بیان کئے ہیں کہتے ہیں. کہ

جب تک انسان، اپنی حقیقت سے آگاہ نہیں ہوتا، اس کا زوایہ نظر محدود ہوتا ہے. اس لئے وہ اپنے آپ کو مختلف ملکوں سے منسوب کرتا ہے. لیکن جب وہ اس حقیقت سے آگاہ ہوجاتا ہے. کہ اللہ ساری کائنات کا خالق اور رب ہے. اور سب لوگ ایک آدم کی اولاد ہیں. تو اس کا زاویہ نگاہ آفاقی ہو جاتا ہے. پھر وہ آراقی ہندی یا حجازی کے امتیازات سے بالاتر ہو جاتا ہے. اس کی نظر میں عجمی بھی اللہ کی مخلوق ہے، اور انسان ہے. اور ایرانی بھی. وہ پھر مختلف قوموں میں کوئی امتیاز نہیں کرتا، اور سب سے محبت کرتا ہے.

اے مخاطب! تو زندگی کا مقصد یہ سمجھتا ہے کہ انسان جتنے زیادہ دنوں تک زندہ رہ سکے، اتنا ہی اچھا ہے. لیکن میں زندگی کا مقصد یہ سمجھتا ہوں کہ انسان، جہاد فی سبیل اللہ میں مشغول رہے. اور طول حیات کی تمنا نہ کرے. اس لئے میں تیری نظر میں کافر ہوں، اور تو میری نظر میں کافر ہے.

اسلام تو انسان کو شاہباز بنانا چاہتا ہے. لیکن اس دور غلامی میں دین اسلام کا مفہوم ہی بدل گیا ہے، اب شریعت اسلامی کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کمزور بلکہ اہنسا کا بچاری بن جائے. پس اچھا ہوا کہ تو بھی بدل گیا. کیوں باز کی زندگی چکور کی زندگی سے بالکل مختلف ہوتی ہے تیتر، بھلا باز کی زندگی کیسے اختیار کرسکتا ہے؟

اے مسلمان! تیری زندگی میں مجھے عشق کا وہ جذبہ نظر نہیں آتا جو تیری عقل کی اصلاح کر سکے، اور جب تک عقل انسانی عشق کے تابع نہ ہو، وہ انسان کے حق میں مفید نہیں ہوسکتی. 

‏ اگر شاعر، اپنے کلام میں، زندگی کے حقائق پیش نہیں کرتا تو اسی کی شاعری قوم کے حق میں ہلاکت کا پیغام بن جاتی ہے. انیسویں اور موجودہ صدی کی اردو شاعری پر نگاہ ڈالنے سے اس شعر کی صداقت واضح ہو سکتی ہے. اور افسوس یہ ہے کہ مسلمان قوم ابھی تک اسی مہلک قسم کی شاری میں مبتلا ہے. بلکہ قیام پاکستان کے بعد تو یہ مرض روز افزوں ہے.

English Translation:

غزل

نہ میں اعجمی نہ ہندی، نہ عراقی و حجازی
کہ خودی سے میں نے سیکھی دوجہاں سے بے نیازی

I don’t belong to Fars or Hind, to Iraq or Hejaz don’t trace my breed. The Self to me this much has taught spurn both the worlds and pay no heed.
تو مری نظر میں کافر، میں تری نظر میں کافر
ترا دیں نفس شماری، مرا دیں نفس گدازی
نفس شماري: سانس گننا۔
نفس گدازي: سانس کو گرم کرنا۔
You are a heathen in my view, the same to you may seem my creed: To count the breath, your Faith and goal, while melting breath my job and deed.
تو بدل گیا تو بہتر کہ بدل گئی شریعت
کہ موافق تدرواں نہیں دین شاہبازی
تدرواں: چکوروں۔
Your change, no doubt, is good and well, and so your change of Moslem Creed. This Faith is meant for men, like hawks, it suits not pheasants’ quivering breed.
ترے دشت و در میں مجھ کو وہ جنوں نظر نہ آیا
کہ سکھا سکے خرد کو رہ و رسم کارسازی
رہ و رسم کارسازي: کام سنوارنے والے طریقے۔
Such passionate Love of God and craze, in wilds and wastes has not caught my sight; whose magic force and rapture great, the faults of reason may set right.
نہ جدا رہے نوا گر تب و تاب زندگی سے
کہ ہلاکی امم ہے یہ طریق نے نوازی
نوا گر: گانے والا۔
ہلاکي امم: قوموں کی حلاکت۔
A poet must ne’er keep aloof from noisy fretful stream of life; the bard, who shuns the facts and truths, can’t make the nation face its strife.
[Translated by Syed Akbar Ali Shah]

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: