(Zarb-e-Kaleem-080) (بیداری) Baidari

بیداری

جس بندئہ حق بیں کی خودی ہوگئی بیدار
شمشیر کی مانند ہے برندہ و براق

برندہ و براق: کاٹ دار اور چمکدار۔

اس کی نگہ شوخ پہ ہوتی ہے نمودار
ہر ذرے میں پوشیدہ ہے جو قوت اشراق

قوت اشراق: روشن ہونا ، طلوع ہونا۔

اس مرد خدا سے کوئی نسبت نہیں تجھ کو
تو بندئہ آفاق ہے، وہ صاحب آفاق

تجھ میں ابھی پیدا نہیں ساحل کی طلب بھی
وہ پاکی فطرت سے ہوا محرم اعماق

اعماق: گہرائیاں، عمیق کی جمع۔

اس نظم میں اقبال نے یہ بتایا ہے کہ جب کسی انسان کی خودی بیداری ہو جاتی ہے، یعنی اسے مرفت حاصل ہوجاتی ہے، تو اس بیداری یا شعور یا آگاہی یا وقوف سے کیا نتائج مرتب ہوتے ہیں. اور اس شخص کی زندگی میں کیا انقلاب پیدا ہوجاتا ہے، کہتے ہیں کہ:۔

جو شخص اپنی حقیقت سے آگاہ ہوجاتا ہے، وہ کبھی باطل یا کفر سے نہیں ڈرتا، بلکہ اس میں باطل کو فنا کرنے کے لیے تلوار کی سی تیزی پیدا ہوجاتی ہے. مختصر یہ ہے یہ کہ اس کا وجود، باطل شکن اور کفر پاش بن جاتا ہے. وہ کائنات کی ہر شئے سے واقف ہوجاتا ہے، ہر ذرہ میں، ایک قوت پوشیدہ ہے. جو ابھرنا اور طلوع ہونا چاہتی ہیں. مرد مومن اس پوشیدہ قوت سے بھی واقف ہوتا ہے. القصہ اسرار اور رموز کائنات اس پر منور ہو جاتے ہیں. اور بغیر کتابوں کا مطالعہ کئے وہ عالم بن جاتا ہے. 

‏ سچ تو یہ ہے کہ ہمیں (تجھے اور مجھے) اس مرد خدا سے کوئی نسبت ہی نہیں، اور ہم اس کے مقام کے بلندی کا تصور ہی نہیں کرسکتے جس طرح اندھا گلاب کے رنگ کا تصور نہیں کرسکتا.اور بہرا موسیقی کی دلکشی کا تصور نہیں کرسکتا . اسی کی وجہ یہ ہے کہ ہم زمانہ مکان کی قید میں ہیں اور وہ زمانہ مکان پر حکمراں ہوتا ہے.

واضح ہو کہ یہ اقبال کا محبوب موضوع ہے. اور انہوں نے اس نکتہ کو ہر ممکن طریق سے ادا کیا ہے. افسوس کہ میں ان کی کتابوں سے مثالیں دے کر اس شرح کو ضخیم اور دشوار بنانا مناسب نہیں سمجھتا. لیکن ناظرین کو یہ مشورہ دے سکتا ہوں کہ کلام اقبال کو صرف ریڈیو پر سن لینا کافی نہیں ہے. اسے سمجھنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے. اقبال کا پیغام یہ ہے کہ مسلمان اس حقیقت سے آگاہ ہوجائیں . کہ دین اسلام ان کو زمان و مکان پر قدرت عطا کرسکتا ہے. بشیر طیکہ مسلمان اسلام کو دین (ضابطہ خیات) سمجھ کر اسے اپنی زندگی کے ہر شعبہ میں حاکم تسلیم کرلیں. لیکن ہمارا حال تو یہ ہے کہ جب مسجد میں گئے تو اللہ سے اقرار کر لیا ہم تیرے سوا نہ کسی کی ہدایت کرتے ہیں، اور نہ کسی سے امداد طلب کرتے ہیں، (ایاک نعبد وایا کنستعین) اور جب باہر نکلتے ہیں تو فورا اپنے طرز عمل سے اس قول کی تردید کردی. اندریں حالات ہمیں حکومت اور طاقت حاصل ہو گی. یا ذلت امسکنت؟ غور سے دیکھو کیا یہ صریح منافقانہ روش نہیں ہے؟ بس اقبال یہی چاہتے ہیں کہ تم اپنے قول اور فعل میں مطابقت پیدا کرو پھر دیکھو تمہارے اوپر اللہ اس قدر فضل کرے گا کہ تم دنیا تو کیا چیز ہے زمانہ مکان پر حکومت کر سکو گے.

افسوس کے مسلمان اس طرف تو متوجہ ہوتے نہیں. غیر ضروری باتوں میں اپنا وقت ضائع کرتے رہتے ہیں.

کہتے ہیں کہ تو بالکل مردہ ہے. تجھ میں حقائق کائنات کا علم حاصل کرنے کی طلب بھی پیدا نہیں ہوئی اور مرد مومن تقوی کی بناپر اعماق حیات( زندگی کی گہرائیوں) تک سے واقف نہیں واقف ہوجاتا ہے. یعنی وہ تو کامیاب ہو گیا، اور تجھ میں کامیابی کی آرزو بھی پیدا نہیں ہوئی.

 

English Translation:

بیداری

جس بندئہ حق بیں کی خودی ہوگئی بیدار
شمشیر کی مانند ہے برندہ و براق
برندہ و براق: کاٹ دار اور چمکدار۔
AWAKENING
A man with true belief, whose Self attentive grows like sturdy sword of steel, can cut and sheen it shows.
اس کی نگہ شوخ پہ ہوتی ہے نمودار
ہر ذرے میں پوشیدہ ہے جو قوت اشراق
قوت اشراق: روشن ہونا ، طلوع ہونا۔
The urge to shine and grow, within the mote concealed; ‘fore his eyes sharp and keen is with much haste revealed.
اس مرد خدا سے کوئی نسبت نہیں تجھ کو
تو بندئہ آفاق ہے، وہ صاحب آفاق

You have no link or bond with men of godly brand, you are a slave to world, on world he holds command.
تجھ میں ابھی پیدا نہیں ساحل کی طلب بھی
وہ پاکی فطرت سے ہوا محرم اعماق
اعماق: گہرائیاں، عمیق کی جمع۔
So far you have not formed for coast a love or taste: He knows the depths full well, by dint of nature chaste.
[Translated by Syed Akbar Ali Shah]

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: