(Zarb-e-Kaleem-081) (خودی کے تربیت) Khudi Ki Tarbiat

خودی کی تربیت

خودی کی پرورش و تربیت پہ ہے موقوف
کہ مشت خاک میں پیدا ہو آتش ہمہ سوز

یہی ہے سر کلیمی ہر اک زمانے میں
ہوائے دشت و شعیب و شبانی شب و روز

اگر انسان اپنی خودی کی تربیت کرے، یعنی سچے دل سے اتباع شریعت کرنے لگے تو اس میں اس قدر طاقت پیدا ہوسکتی ہے کہ انسان جو مٹی سے بنا ہے، باطل کو پھونک سکتا ہے یعنی مٹی میں آگ کی صفت پیدا ہوسکتی ہے.

یاد رکھو! اللہ کے انعامات کا مستحق بننے کا طریقہ ایک ہی ہے اور وہ شروع سے یکساں چلا آرہا ہے.

“” ہوائے دشت وشعیب و شبانی شب وردز”

ہوائے دشت 

‏لفظی معنی، 

‏جنگل کی فضا یا صحرا کا ماحول مراد ہے انسان. 

‏ پاکیزہ زندگی۔(کیونکہ ہوجائے دشت عموماً صاف ہوتی ہے) 

شعیب=نام. ‏ایک نبی کا ہے. مراد ہے مرشد یا خدار سیدہ

‏ انسان۔

‏ شبانی= ‏ بھیڑیں چڑانا، مراد مرشد کی خدمت کرنا، یا اطاعت کرنا۔

اب سوال یہ ہے کہ اس زمانہ میں کتنے مسلمان ہیں جو شہروں کے ناپاک اور غلیظ ماحول سے بچنا چاہتے ہیں، یا اس گندے ماحول سے بچ کر پاکیزہ ماحول جعنی علماء اور صلحاء کی صحبت میں رہنا چاہتے ہیں؟ پھر کتنے مسلمان ہیں جو کسی مرشد کامل کی صحبت میں رہنا چاہتے ہیں؟ صبحت تو بڑی چیز ہے؟ کتنے مسلمان ہیں جن کے دل میں مرشد کی تلاش کی آرزو پیدا ہوتی ہے؟اور یہ مسلم ہے کہ خودی کی پرورش اور تربیت، مرشد کے بغیر ناممکن ہے. صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اگر چودہ سال تک ایک کامل کی صحبت نہ اٹھاتے ہیں اور صحبت کی بدولت، اپنی خودی کی تربیت نہ کرتے تو……… میں کفر کا مقابلہ کیسے کر سکتے تھے؟ بلکہ صحبت کا شرف حاصل نہ ہوتا تو انہیں مسلمانوں پر یہ فضیلت کیسے حاصل ہوتی۔ مثلا ان میں بہت سی امی محض تھے. پھر انہیں امام رازی پر کیسے تفوق حاصل ہوگیا؟ 

قصہ مختصر، جب تک مسلمانان پاکستان اس نکتہ کو حرز جاں نہیں بنائیں گے، ان کی ترقی کی کوئی صورت نہیں ہے. کیا خوب فرمایا، حکیم سعدی نے.

خلاف پیمبر کے رہ گزید
کہ ہرگز بمنزل نخواہدرسید

English Translation:

خودی کی تربیت

خودی کی پرورش و تربیت پہ ہے موقوف
کہ مشت خاک میں پیدا ہو آتش ہمہ سوز
یہی ہے سر کلیمی ہر اک زمانے میں
ہوائے دشت و شعیب و شبانی شب و روز

UPBRINGING OF SELFHOOD
If Self is bred with perfect care, such force and strength it can acquire that handful dust of man with case can set untruths and wrongs afire.
This is the mystery we ascribe to Moses in every age and clime; he tended the sheep in wilds and learnt from Shoaib to toil and mode sublime.
[Translated by Syed Akbar Ali Shah]

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close