(Zarb-e-Kaleem-083) (خودی کے زندگی) Khudi Ki Zindagi

خودی کی زندگی

خودی ہو زندہ تو ہے فقر بھی شہنشاہی
نہیں ہے سنجر و طغرل سے کم شکوہ فقیر

شکوہ: شان و شوکت۔

خودی ہو زندہ تو دریائے بے کراں پایاب
خودی ہو زندہ تو کہسار پر نیان و حریر

پر نیان: ایک قسم کا پھولدار ریشمی کپڑا۔
حریر: ریشم۔

نہنگ زندہ ہے اپنے محیط میں آزاد
نہنگ مردہ کو موج سراب بھی زنجیر

 

اس نظم میں اقبال نے یہ بتایا ہے کہ اگر خودی زندہ ہو جائے تو کیا ثمرات مرتب ہوتے ہیں، اور انسان کی زندگی میں انقلاب پیدا ہو جاتا ہے کہتے ہیں کہ

اگر کسی شخص کی خودی، زندہ ہو جائے، یعنی اطاعت، یا اتباع شریعت کی بدولت، مرتبہ کمال کو پہنچ جائے تو اسے فقیری میں بھی بادشاہی کا لطف حاصل ہو سکتا ہے. صاحب فقر کا مرتبہ سخجر اور طغرل سے کسی طرح کم نہیں ہوتا. 

اگر خودی زندہ ہو جائے، تو انسان معجزہ دکھا سکتا ہے. اس کے سامنے سمندر بھی پایاب ہو جاتا ہے. (اشارہ ہے حضرت موسی علیہ السلام کی طرف جن کے روحانی تصرف سے باہر قلزم پایاب ہو گیا تھا) اور پہاڑ جو نہایت سخت چیز ہے، ریشم کی طرح نرم ہو جاتا ہے، یعنی دشوار کام آسان ہو جاتا ہیں.

مثال کے طور پر دیکھ لو، نہنگ اگر زندہ ہے تو سمندر میں بھی آزادی ہے، اور اس کی موجودہ کو چیر کر جدھر چاہے جا سکتا ہے، لیکن اگر وہ مر جائے تو سمندر کی موج درکنار، وہ سراب کی موج کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتا، یعنی ریت میں بھی حرکت نہیں کر سکتا. اسی طرح انسان کی زندگی دراصل اس کی خودی کی بیداری سے عبارت ہے. اگر خودی مردہ ہے تو انسان بھی مردہ ہے، گو بظاہر زندہ نظر آتا ہے.

گرچہ کالج کا جواں زندہ نظر آتا ہے!
مردہ ہے مانگ کے لایا ہے فرنگی سے نفس.

 

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close