(Zarb-e-Kaleem-084) (حکومت) Hukumat

حکومت

ہے مریدوں کو تو حق بات گوارا لیکن
شیخ و ملا کو بری لگتی ہے درویش کی بات

قوم کے ہاتھ سے جاتا ہے متاع کردار
بحث میں آتا ہے جب فلسفہ ذات و صفات

گرچہ اس دیر کہن کا ہے یہ دستور قدیم
کہ نہیں مے کدہ و ساقی و مینا کو ثبات

قسمت بادہ مگر حق ہے اسی ملت کا
انگبیں جس کے جوانوں کو ہے تلخاب حیات

تلخاب: کڑوا۔ انگبیں: شہد۔

 

اس نظم میں اقبال نے، استعار اور مجاز کے رنگ میں اور اپنے مخصوص انداز میں حکومت کے حصول کا طریقہ بتایا ہے. (بادہ صوفی اور ملا حکومت مراد ہے.)

عام مسلمان تو میری باتوں کو غور سے سن سکتے ہیں. لیکن صوفی اور ملا میری سچی باتوں کو پسند نہیں کرتے. 

یہاں صوفی سے مراد ہے وہ شخص جو مسلمانوں کو غیر اسلامی تصوف کی تعلیم دیتا ہے. اور غیر اسلامی تصوف سے مراد، ہر وہ تعلم ہے جو مسلمان کو عمل سے بیگانہ بنا دے، یا اس کی قوت عمل کو کمزور کردے.

اسی طرح ملا سے مراد ہے وہ تنگ نظر، قدامت پرست اور مقلد کور مذہبی پشیوا جو اپنے ماحول اور حالات حاضرہ سے بے خبر، حجرہ میں بیٹھا ہوا، مسلمانوں کے اندر فروعی اختلافات کو تقویت دیتا رہتا ہے. دنیا کہیں سے کہیں چلی گئی. لیکن وہ ابھی تک اسی بحث میں الجھا ہوا ہے.کہ “آمین” زور سے کہی جاۓ یا آہستہ سے؟ 

‏ اقبال کی رائے میں مسلمانوں کی پستی اور خواری کے ذمہ داری تین گروہ ہیں. اول وہ امراء جو عیاشی اور بدکاری میں مصروف رہتے ہیں. اور قوم کے سامنے برانمونہ پیش کرتے ہیں. دوم وہ صوفی جو خانقا ہوں میں مسلمانوں کو اللہ کی اطاعت کے بجائے اپنی اطاعت کا سبق دیتے ہیں. اور ان میں غیر اسلامی خیالات پیدا کرتے ہیں، جن کا لازمی نتیجہ کاہلی اور بے عملی اور جہاں سے گریز ہے. سوم وہ علماء جو مدرسوں میں مسلمانوں کو غیرضروری یا فروعی مسائل میں الجھا کر ایک طرف مقاصد حیات سے غافل کرتے ہیں. دوسری طرف ان میں اختلافات وافقراق پیدا کرتے ہیں.

‏ اقبال نے یہ کوئی نئی تشخیص نہیں کی ہے. ان سے مدتوں بلکہ صدیوں پہلے ایک شاعر نے صرف ایک شعر میں مسلمانوں کے مرض کی یہی تشخیص واضح طور پر بیان کر دی ہے………….

اور دین اسلام کی تحریب نہیں کی، مگر ان تین گروہوں نے:۔

ملوک، علمائے سوء اور رہبان یا صوفیا تاریخ شاہد ہے کہ ان تینوں طبقات نے مل کر دین اسلام کو بالکل مسخ کردیا. 

‏اب اقبال یہ بتاتے ہیں کہ صوفی اور ملا کا قصور کیا ہے.؟ یعنی وہ جوان دونوں سے ناراض ہیں، تو کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جاہل صوفی اور تنگ نظر ملا، دونوں ایک ہزار سال سے مسلمانوں کو ذاتی وصفات باری تعالی کے پیچیدہ اور لاہیخل مسائل میں الجھائے ہوئے ہیں اور اس غلط بلکہ گمراہ کن روشں کا نتیجہ یہ ہے کہ قوم، کردار یعنی عمل اور جہاد سے بیگانہ ہو گئی ہے. 

‏اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جو قوم بھی ذات صفات کی بحث میں گرفتار ہو جائے گی، وہ عمل صالح اور جدوجہد سے بیگانہ ہو جائے گئی، تاریخ عالم سے چند مثالیں پیش کرتا ہوں:۔

‏ جب اہل یونان، ذات وصفات کی بحثوں میں مبتلا ہوئے تو رومیوں کے غلام بن گئے……… 
‏جب اہل ایران، ان مباعث میں گرفتار ہوئے تو عربوں کے غلام بن گئے…….. 
‏جب اہل ہند، ان بحثوں میں منہک ہوئے، تو ترکوں کے غلام بن گے……… 
‏جب رومی عیسائی، ان مسائل میں الجھے، تو مسلمانوں کے غلام بن گئے……. 
‏جب مسلمان ان مسائل میں گرفتار ہوئے، تو انگریزوں کے غلام بن گئے………

اگر ان تاریخی شواہد کی تفصیل بیان کروں تو یہ شرح اچھی خاصی تاریخ کی کتاب بن جائے گی. اس لیے تاریخ داں حضرات کے لیے صرف سنہ عیسوی درج کر دی ہے.

اسی حقیقت، بلکہ قانون قدرت کو مد نظر رکھ کر، آقائے کائنات معلم موجودات، دانائے رموزحیات، سرکار دو جہاں، پیشوائے انس وجاں، تاجدار کون ومکان بابی والی لہ الفداء علیہ افضل التناء الی یوم الجزا، نے مسلمانوں کو وصیت فرمائی تھی کہ دیکھو! میں تمہیں متنبہ کیے دیتا ہوں، تم ہرگز اللہ کی ذات و صفات میں بحث نہ کرنا، تم سے پہلی قومیں اسی بحث میں منہمک ہوجانے کی بدولت ہلاک ہو ہوگئیں (یعنی دوسروں کی غلام ہو گئیں) ذات صفات باری کے فلسفہ میں انہماک یقیناً بربادی کا پیغام ہے کیونکہ انسان ان مسائل کو عقل کے ذریعہ سے سمجھا ہی نہیں سکتا. پس تم اللہ کی ذات صفات میں غور کرو. اللہ ذکر کے لیے ہے اور کائنات ذکر کے لیے ہے. 

‏ اللہ کا ذکر کرو. کائنات میں غور و فکر کرو. اور یہی طریقہ تمہیں کامیابی سے ہمکنار کر سکتا ہے.

مسلمانوں کی ملی تاریخ گواہ ہے کہ جس دن سے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کو پس پشت ڈالا، ان کا زوال شروع ہوگیا. اوضح ہو کہ صفات کے فلسفہ میں ان مسائل سے بحث کی جاتی ہے:

ذات باری کی حقیقت کیا ہے؟ 

ذات، ماہیت، حقیقت، اور وجود باری میں کیا فرق ہے؟ 

‏ذات باری کا صفات سے کیا علاقہ ہے؟ آیا وہ صفات و ذات سے جدا ہے یاعین ذات ہیں؟ 

صفات کل کتنی ہیں؟ ان میں سے اصلی کونسی ہیں؟ اور فروعی کونسی ہیں صفات اگر غیر ذات میں تو خدا مرکب ہوجائے گا، اور اگر عین ذات ہیں تو صفات کا وجود کالعدم ہو جائے گا. 

خدا نے کائنات کو ذات سے پیدا کیا، یا صفات کے وسیلہ سے؟ اگر بذریعہ ذات پیدا کیا تو بیکار ہوگئیں، اور اگر 

بواسطہ صفات پیدا کیا تو یہ واسطہ کسی قسم کا ہے؟ واسطہ فی الثبوت؟ 

‏مسائل تو بہت سے ہیں، میں نے نمونتا چھ مسئلے لکھ دیے ہیں اور لکھنے

سے مقصد یہ ہے کہ کوئی انسان، عقل کی مدرسے ان کا جواب نہیں دے سکتا اور اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غور کرنے سے منع فرمایا تھا. چنانچہ دیکھ لیجیے ہم مسلمان ہو کر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے سرتابی کررہے ہیں. اور اقوام مغرب کافر ہو کر، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر عمل کر رہے ہیں.

آج یورپ اور امریکہ کے علما اور حکماء اس مسئلہ میں بحث نہیں کر رہے ہیں کہ ذات و صفات بارے میں باہمی علاقہ کیا ہے؟ بلکہ فطرت کی راز ہائے سربستہ کا انکشاف کر رہے ہیں، یعنی ایٹم بم کے بعد اب ہائیڈروجن بم بنا رہے ہیں.

سوال یہ ہے کہ ترکی، مصر، طرابلس، مراکو، حجاز، فلسطین، یمن، شام، لبنان، عراق، ایران، افغانستان اور ہندوستان کے مسلمانوں نے گزشتہ تین سوسال میں کوئی چیز کیوں نہیں ایجاد کی؟ کوئی مشین کیوں نہیں بنائی؟ کیوں جزیرہ کیوں نہیں دریافت کیا؟ کوئی آلہ کیوں نہیں بنایا؟ کوئی عنصر کیوں نہیں دریافت کیا؟ کوئی علمی انکشاف کیوں نہیں کیا؟ کوئی سائنٹفک تحقیق کیوں نہیں کی! الغرض مادی اعتبار سے تمدن کی ترقی میں کوئی حصّہ کیوں نہیں لیا؟ ان سوالات کا جواب ناظرین پر چھوڑتا ہوں یقینا وہ مجھ سے بہتر جانتے ہیں.

اگرچہ شروع سے اس دنیا کا طریقہ یہ ہے کہ یہاں کسی حکمران، خاندان یا سلطنت، یا کسی فرد کی حکومت کا ثبوت نہیں ہے. لیکن یہ یقینی بات ہے کہ بادہ( حکومت) اسی قوم کا حق ہے، جس کے نوجوان جد وجہد کرتے ہیں، بلکہ سر ہتھیلی پر رکھ کر میدان جنگ میں جا سکتے ہیں.

 

English Translation:
حکومت

ہے مریدوں کو تو حق بات گوارا لیکن
شیخ و ملا کو بری لگتی ہے درویش کی بات

GOVERNMENT
My talk makes Shaikh and Mullah show undue, though disciples can put tip with is true.
قوم کے ہاتھ سے جاتا ہے متاع کردار
بحث میں آتا ہے جب فلسفہ ذات و صفات

That race is soon deprived of glorious deeds, for talk on Being and Attributes hatred breeds.
گرچہ اس دیر کہن کا ہے یہ دستور قدیم
کہ نہیں مے کدہ و ساقی و مینا کو ثبات

This cosmos old is wrought in such a cast that tavern, Saqi and flask don’t for e’er last.
قسمت بادہ مگر حق ہے اسی ملت کا
انگبیں جس کے جوانوں کو ہے تلخاب حیات
تلخاب: کڑوا۔
انگبیں: شہد۔
That nation has the right to luck in life whose youth for honey take worldly blows and strife.
[Translated by Syed Akbar Ali Shah]

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: