(Zarb-e-Kaleem-085) (ہندی مکتب) Hindi Maktab

ہندی مکتب

اقبال! یہاں نام نہ لے علم خودی کا
موزوں نہیں مکتب کے لیے ایسے مقالات

مقالات: اقوال کی باتیں۔

بہتر ہے کہ بیچارے ممولوں کی نظر سے
پوشیدہ رہیں باز کے احوال و مقامات

آزاد کی اک آن ہے محکوم کا اک سال
کس درجہ گراں سیر ہیں محکوم کے اوقات!

گراں سیر: سست رفتار۔

آزاد کا ہر لحظہ پیام ابدیت
محکوم کا ہر لحظہ نئی مرگ مفاجات

مرگ مفاجات: ناگہانی موت۔
ابدیت: ہمیشگی۔

آزاد کا اندیشہ حقیقت سے منور
محکوم کا اندیشہ گرفتار خرافات

خرافات: خرافہ ایک عرب تھا جو جھوٹ بولتا تھا؛ لہذا خرافات کا مطلب ہے لغو باتیں۔

محکوم کو پیروں کی کرامات کا سودا
ہے بندہ آزاد خود اک زندہ کرامات

محکوم کے حق میں ہے یہی تربیت اچھی
موسیقی و صورت گری و علم نباتات!

اگرچہ اقبال نے یہ نظم……… میں لکھی تھی، لیکن””ہنوز باسی” نہیں ہوئی بلکہ قیام پاکستان کے بعد تو” سہ آشتہ” ہوگئی ہے. فرماتے ہیں کہ

اے اقبال! ہندوستان کے کالجوں کے طلبہ کے سامنے، پاکستان کے طلبہ کا بھی یہی حال ہے، علم خودی کا نام مت لے، کیونکہ کالجوں کے طلبہ کے لیے یہ درس موزوں ہی نہیں ہے.

ممولوں( غلاموں) کی نظر سے باز ( آزاد قوم) کے احوال اور مقامات پوشیدہ ہی رہیں تو بہتر ہے. کیونکہ محکوم قوم کے افراد، حکمراں قوم کے جذبات پر تصورات کا اندازہ ہی نہیں کرسکتے.

مثال کے طور پر محکوم اور حاکم کا تصور زمان میں بھی فرق ہوتا ہے. چونکہ محکوم، رات دن، حاکم کے ظلم و ستم سہتا رہتا ہے. اس لیے زندگی کے ماہ سال اسے بہت طویل معلوم ہوتے ہیں. (جس طرح عاشق کو فراق کی رات طویل معلوم ہوتی ہے، اور حاکم چونکہ ہر وقت خوش رہتا ہے، اس لیے خوشی کی گھڑیاں اسے بہت مختصر معلوم ہوتی ہیں اس نکتہ کو کسی ہندی شاعر نے اس طرح بیان کیا ہے:۔

آیام مصیبت کے تو کاٹے نہیں کٹتے
دل عیشق گھڑیوں میں گزر جاتے ہیں کیسے

‏ آزاد حکمراں قوم کا ہر لحظہ یا ہر دن، اس کے استحکام میں اضافہ کرتا رہتا ہے. لیکن محکوم کا ہر لحظہ یا ہر روز اس کے لیے ایک نئی مصیبت لاتا ہے اور اس پر اخلاقی موت طاری کرتا رہتا ہے. 

یعنی دن (زمان) تو ایک ہی ہے. لیکن وہی دن، آزاد کے حق میں پیام عبدیت اور وجہ استقامت بن جاتا ہے، اور وہی دن محکوم کے حق میں مصائب ناگہانی کا موجب بن جاتا ہے.

آزاد کے تصورات اور خیالات، حقیقت پسندی کی روشنی سے منور ہوتے ہیں. یعنی وہ حقائق کی دنیا میں رہتا اور حقائق خیات کا مقابلہ کرتا ہے. لیکن محکوم کے خیالات اور افکار، محض خرافات اور تو ہمات کا انبار ہوتے ہیں، جنہیں حقیقت سے کوئی سروکار نہیں ہوتا. 

مثلا آزاد قوم کے افراد یہ سوچتے ہیں کہ ممکن ہے ہمسایہ ملک ہم پر چڑھائی کر دے، کیونکہ اس کا رویہ تین سال سے معاندانہ ہے اس لیے ہمیں رات دن کی تیاری میں مشغول رہنا چاہیے. لیکن محکوم قوم کے افراد یہ سوچتے ہیں کی مرتی جیتی دنیا ہے، خدا معلوم پارہ سال زندہ ہیں یا نہ رہیں. لاؤ آج رات چار دوستوں کو گھر بلاکر قوالی توسن لیں!

محکوم اور حاکم، یا غلام اور آزاد میں چوتھا اور سب سے نمایاں فرق یہ ہوتا ہے کہ غلام کے افراد کو ہر وقت پیروں کی کرامت کی دھن لگی رہتی ہے. اور اگر کسی زندہ پیر کی کرامت، مشاہدہ میں آتیں تو اولیائے گزشتہ ہی کی کرامات کا تذکرہ کرکے اپنے دل کو خوش کر لیتے ہیں لیکن آزاد قوم کا ہر فرد بجائے خود ایک “زندہ کرامات” ہے.

نوٹ:۔

میں نے اس نظم میں” آزاد” سے آزاد اور حکمراں، قوم یا قوم کا فرد مراد لیا ہے، لیکن” آزادی”سے مومن بھی مراد ہوسکتا ہے. کیونکہ مسلمان اگر مومن ہو جائے. تو وہ غلام نہیں رہ سکتا، چونکہ ایمان، اور غلامی ایک دوسرے کی ضد ہیں، اس لئے ایک شخص نے بیک وقت جمع نہیں ہوسکتیں، میرے عقیدہ کی رو سے مرد مومن، کا غلام ہونا ایسا ہی ناممکن ہے، جیسے کسی دروازہ کا بیک وقت کھلا بھی ہونا اور بند بھی ہونا. مومن یا آزاد ہوگا، یا آزادی کے لئے جدوجہد کرتا ہوگا. (خواہ غازی ہو یا شہید) تیسری کوئی صورت ازروئے قرآن اس لیے ممکن نہیں ہے. 

‏ ‏اس لیے محکوم کے حق میں درس خودی کے بجائے، وہی تعلیم اچھی بلکہ موزوں ہے. جو آج کل کالجوں میں دی جا رہی ہے. یعنی موسیقی، مصوری اور سائنس وغیرہ.

English Translation:

ہندی مکتب

اقبال! یہاں نام نہ لے علم خودی کا
موزوں نہیں مکتب کے لیے ایسے مقالات
مقالات: اقوال کی باتیں۔
INDIAN SCHOOL
About the Self here have no talk, O bard, because with schools such sermons don’t accord.
بہتر ہے کہ بیچارے ممولوں کی نظر سے
پوشیدہ رہیں باز کے احوال و مقامات

Much good that birds that chirp may not descry, the modes of hawk, its state and rank so high:
آزاد کی اک آن ہے محکوم کا اک سال
کس درجہ گراں سیر ہیں محکوم کے اوقات!
گراں سیر: سست رفتار۔
A free man’s breath can match a subject year, how slowly moves the time of serfs is clear!
آزاد کا ہر لحظہ پیام ابدیت
محکوم کا ہر لحظہ نئی مرگ مفاجات
مرگ مفاجات: ناگہانی موت۔
ابدیت: ہمیشگی۔
The free perform such deeds in span of breath, but slaves are every instant prone to sudden death.
آزاد کا اندیشہ حقیقت سے منور
محکوم کا اندیشہ گرفتار خرافات
خرافات: خرافہ ایک عرب تھا جو جھوٹ بولتا تھا؛ لہذا خرافات کا مطلب ہے لغو باتیں۔
The thoughts of persons free with truth are lit, but thoughts of slaves do not own sense a bit.
محکوم کو پیروں کی کرامات کا سودا
ہے بندہ آزاد خود اک زندہ کرامات

A slave has craze for marvels wrought by Guides: Himself a wonder ‘live, his memory fresh abides.
محکوم کے حق میں ہے یہی تربیت اچھی
موسیقی و صورت گری و علم نباتات!

This is the training that befits them well, painting, music and science of plants as well.
[Translated by Syed Akbar Ali Shah]

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: