(Zarb-e-Kaleem-086) (تربیت) Tarbiat

تربیت

زندگی کچھ اور شے ہے، علم ہے کچھ اور شے
زندگی سوز جگر ہے، علم ہے سوز دماغ

علم میں دولت بھی ہے، قدرت بھی ہے، لذت بھی ہے
ایک مشکل ہے کہ ہاتھ آتا نہیں اپنا سراغ

اہل دانش عام ہیں، کم یاب ہیں اہل نظر
کیا تعجب ہے کہ خالی رہ گیا تیرا ایاغ!

ایاغ: پیالہ۔

شیخ مکتب کے طریقوں سے کشاد دل کہاں
کس طرح کبریت سے روشن ہو بجلی کا چراغ!

کبریت: گندھک، آج کل عربی اور فارسی میں دیا سلائی کو بھی کہتے ہیں۔

اس نظم میں اقبال نے یہ بتایا ہے کہ تعلیم تربیت میں کیا فرق ہے نیز یہ کہ دونوں میں کیا رشتہ ہے. خلاصہ اس نظم کا یہ ہے کہ تربیت کے بغیر محض کتابی علم ناقص ہوتا ہے. کہتے ہیں کہ

زندگی یعنی تربیت اور علم دونوں میں بہت فرق ہے:۔کہ دماغ روشن ہوجائے، اور انسان مختلف علوم سے آگاہ ہو جائے. تربیت یہ ہے کہ دل روشن ہوجائے، اور انسان اس طرح زندگی بسر کرے کہ خلافت الہیہ کے مقام پر فائز ہو سکے. تاریخ گواہ ہے کہ بہت سے لوگ ایسے گزرے ہیں جو علم کے اعتبار سے بہت بڑے تھے، لیکن ان کی زندگی پاکیزہ نہیں تھی، اور اللہ کی محبت سے ان کا سینہ بالکل خالی تھا.( اقبال نے پاکیزہ زندگی کو “سوز جگر” سے تعبیر کیا ہے) علم سے عالم کو دولت بھی حاصل ہوتی ہے، طاقت بھی اور ذہنی مسرت بھی لیکن محض کتابی علم یا ڈگریوں سے کوئی شخص اپنی حقیقت سے آگاہ نہیں ہو سکتا. یعنی محض علم سے انسان، جو علی سینا تو بن سکتا ہے، لیکن سلطان ابوسعیدہ ابو الخیر نہیں بن سکتا. 

‏ چونکہ اس زمانہ میں اہل علم تو عام ہیں لیکن اہل معرفت کمیاب ہیں اس لیے کوئی تعجب نہیں، اگر قوم کے افراد تقویٰ کو اور پرہیزگاری اور پاکیزہ زندگی کی نعمت سے محروم ہیں. 

‏اسکولوں اور کالجوں کی تعلیم سے مسلمان نوجوانوں کے دل میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہرگز پیدا نہیں ہوسکتی،. کیونکہ گندھک سے بلب روشن نہیں ہوسکتا، اس کے لئے تو بجلی کا کرنٹ درکار ہے، اور یہ کرنٹ مرشد کامل کی صحبت سے حاصل ہو سکتا ہے.

 

English Translation:

تربیت

زندگی کچھ اور شے ہے، علم ہے کچھ اور شے
زندگی سوز جگر ہے، علم ہے سوز دماغ

UPBRINGING
Existence and knowledge both are poles apart, life burns the soul, whereas lore makes it smart.
علم میں دولت بھی ہے، قدرت بھی ہے، لذت بھی ہے
ایک مشکل ہے کہ ہاتھ آتا نہیں اپنا سراغ

Joy, wealth and power all, to lore are due, how irksome that to Self it yields no clue.
اہل دانش عام ہیں، کم یاب ہیں اہل نظر
کیا تعجب ہے کہ خالی رہ گیا تیرا ایاغ!
ایاغ: پیالہ۔
No dearth of lettered men, ah few! Provide the bowl with wine of gnosis like True Guide.
شیخ مکتب کے طریقوں سے کشاد دل کہاں
کس طرح کبریت سے روشن ہو بجلی کا چراغ!
کبریت: گندھک، آج کل عربی اور فارسی میں دیا سلائی کو بھی کہتے ہیں۔
The ways of teachers don’t expand the heart, match stick can’t light to electric lamp impart.
[Translated by Syed Akbar Ali Shah]

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: