(Zarb-e-Kaleem-087) (خوب و زشت) Khoob-o-Zisht

خوب و زشت

ستارگان فضاہائے نیلگوں کی طرح
تخیلات بھی ہیں تابع طلوع و غروب

جہاں خودی کا بھی ہے صاحب فراز و نشیب
یہاں بھی معرکہ آرا ہے خوب سے ناخوب

فراز و نشیب: بلندی اور پستی۔

نمود جس کی فراز خودی سے ہو، وہ جمیل
جو ہو نشیب میں پیدا، قبیح و نامحبوب!

قبیح: برا۔
خوب وزشت

اس مختصر میں اقبال نے ہمیں حسن وقبح کا معیار بتایا ہے. یعنی دنیا میں اچھائی اور برائی کی کسوٹی کیا ہے. علامہ نے ایک دفعہ مجھ سے دوران گفتگو میں کہا تھا کہ “Personality is the criterion of value” یعنی انسانی شخصیت، حسن وقبح کا معیار ہے. کہتے ہیں کہ: جس طرح نیلگوں آسمان کے ستارے کبھی طلوع ہوتے ہیں، کبھی غروب ہوتے ہیں، اسی طرح انسانی تخیلات بھی طلوع غروب کے تابع ہوتے ہیں. یعنی کبھی بعض خیالات دماغوں پر مسلط ہوتے ہیں. اور عوام کا اتباع کرتے ہیں. اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دنیا ان کو بالائے طاق رکھدیتی ہے. اور دوسرے تصورات کو سند قبول عطا دیتی ہے. 

‏اسی طرح خودی کی دنیا میں نشیب وفراز پایا جاتا ہے. یعنی یہاں بھی اچھائی اور برائی میں ایک جنگ برپا رہتی ہے اور لوگ اپنے اپنے خیال کے مطابق اچھائی اور برائی کا معیار پیش کرتے رہتے ہیں. اور کبھی اس ایک خاص ‏ معیار طلوع ہوتا ہے. یعنی لوگوں میں مقبول ہوتا ہے اور کبھی وہی معیار غروب ہو جاتا ہے. یعنی دنیا اسے ترک کردیتی ہے. میرا نظریہ یہ ہے کہ جمیل (اچھائی) وہ ہے، جو خودی کی بلندی سے ظاہر ہو، یعنی حسن اور اچھائی وہ ہے، جو اس شخص سے صادر ہو، جس کی خودی بلند مقام پر فائز ہے. بلکہ مرتبہ کمال کو پہنچ چکی ہے. اور برائی وہ ہے جو اس شخص سے ظاہر ہو، جس کی خودی ناقص ہے. بالفاظ دگر مرد مومن کی زندگی، معیار حسن وقبح ہے، یعنی مومن جو کام کرے وہ اچھا ہے کافر جو کام کرے برا ہے.

 

English Translation:

خوب و زشت

ستارگان فضاہائے نیلگوں کی طرح
تخیلات بھی ہیں تابع طلوع و غروب

Just like the stars that shine in azure sky, thoughts have short span of life and soon they dir.
جہاں خودی کا بھی ہے صاحب فراز و نشیب
یہاں بھی معرکہ آرا ہے خوب سے ناخوب
فراز و نشیب: بلندی اور پستی۔
The Realm of Self has its ups and downs, even here, the Fair and Foul exchange their frowns.
نمود جس کی فراز خودی سے ہو، وہ جمیل
جو ہو نشیب میں پیدا، قبیح و نامحبوب!
قبیح: برا۔
If Self has reached the height, its acts are fine, debased, its deeds as good one can’t define.
[Translated by Syed Akbar Ali Shah]

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close