(Zarb-e-Kaleem-088) (مرگ خودی) Marg-e-Khudi

مرگ خودی

خودی کی موت سے مغرب کا اندروں بے نور
خودی کی موت سے مشرق ہے مبتلائے جذام

جذام: کوڑھ کی بیماری ۔

خودی کی موت سے روح عرب ہے بے تب و تاب
بدن عراق و عجم کا ہے بے عروق و عظام

عروق: عرق کی جمع ، یعنی رنگین۔
عظام: عزم کی جمع، یعنی ہڈیاں۔

خودی کی موت سے ہندی شکستہ بالوں پر
قفس ہوا ہے حلال اور آشیانہ حرام!

شکستہ بالوں: ٹوٹے پروں والا۔

خودی کی موت سے پیر حرم ہوا مجبور
کہ بیچ کھائے مسلماں کا جام ہ احرام!

جامہ احرام : حاجیوں کے ان سلے کپڑے۔

اس نظم میں اقبال نے ہم کو خودی کی موت کے نتائج سے آگاہ کیا ہے. کہتے ہیں کہ

خودی کی موت یعنی اللہ کی نافرمانی کا نتیجہ مختلف قوموں میں، مختلف صورتوں میں برآمد ہوتا ہے. مثلا یورپ (مغربی اقوام) نے مادیات میں تو کافی ترقی کر لی ہے، لیکن ان کا اندرون بے نور ہے، یعنی ان میں روحانیت کا فقدان ہے. اس کے برعکس، مشرقی اقوام میں روحانیت تو پائی جاتی ہے، لیکن وہ مادی اعتبار سے جزام میں مبتلا ہیں. یعنی غیروں کی محکوم ہیں. 

‏عربی اقوام میں ترقی اور سربلندی کا جذبہ مفقود ہے، عجمی اقوام، مثلا ایران اور افغانستان وغیرہ، مفلوج انسانوں کی طرح زندگی بسر کررہی ہیں، ان میں دشمنوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے. 

‏اب رہے وہ ہندی مسلمان، تو خودی کی موت سے بھی وہ بھی بالکل بے وست و پا ہوگئے ہیں، جیسے کسی پرند کے تمام پر نوچ دیئے جائیں اسی لیے وہ آزادی سے محروم ہیں. اور غلامی (قفس) کی زندگی بسر کر رہے ہیں. 

‏مسلمانوں کے اکثر مذہبی پیشوا، ایسی خودی کی موت سے، قوم فروشی پر مجبور ہے. الغرض دنیا میں جو کچھ ابتری اور بدنظمی نظر آرہی ہے، اور مختلف قومیں جن عوارض میں مبتلا ہیں، ان کا اصلی سبب یہ ہے کہ نبی آدم اس طریق سے برگشتہ ہو چکے ہیں، جس پر چل کر انسان اپنی خودی کو زندہ کر سکتا ہے. اور وہ راستہ اطاعت احکام الٰہی کے سوا کچھ نہیں ہے.

 

English Translation:

مرگ خودی

خودی کی موت سے مغرب کا اندروں بے نور
خودی کی موت سے مشرق ہے مبتلائے جذام
جذام: کوڑھ کی بیماری ۔
DEATH OF THE EGO
Devoid the West of inner light, her soul is struck with deadly blight: the loss of Self has made the East a leper, for germs befitting feast.
خودی کی موت سے روح عرب ہے بے تب و تاب
بدن عراق و عجم کا ہے بے عروق و عظام
عروق: عرق کی جمع ، یعنی رنگین۔
عظام: عزم کی جمع، یعنی ہڈیاں۔
The Arabs have lost their former zeal, their souls are shrunk, they can not feel: Iraq and Persia are bereft of bones and veins and naught is left.
خودی کی موت سے ہندی شکستہ بالوں پر
قفس ہوا ہے حلال اور آشیانہ حرام!
شکستہ بالوں: ٹوٹے پروں والا۔
The Self of Indians is extinct, by pinions cleft is made distinct for they are pleased with prison life, to break the bars they wage no strife.
خودی کی موت سے پیر حرم ہوا مجبور
کہ بیچ کھائے مسلماں کا جام ہ احرام!
جامہ احرام : حاجیوں کے ان سلے کپڑے۔
Demise of Self has made divine, who keeps a watch on Holy Shrine, to sell the robes that pilgrims don, on sale proceeds he lives upon.
[Translated by Syed Akbar Ali Shah]

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: