(Zarb-e-Kaleem-089) (مہمان عزیز) Mehman-e-Aziz

مہمان عزیز

پر ہے افکار سے ان مدرسے والوں کا ضمیر
خوب و ناخوب کی اس دور میں ہے کس کو تمیز!

چاہیے خانہ دل کی کوئی منزل خالی
شاید آجائے کہیں سے کوئی مہمان عزیز

یہ نظم یوں تو صرف دو شعر کی ہے. لیکن اقبال نے بڑے پتہ کی بات کہی ہے کہتے ہیں کہ مغربی تعلیم نے مسلمانوں کے دل و دماغ کو بے شمار علمی مسائل معمور کر دیا ہے. اور ان کی نوعیت ایسی ہے کہ اب مسلمانوں کے اندر نیکی اور بدی میں امتیاز کرنے کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہی ہے.

اس لیے میں انہیں یہ مشورہ دیتا ہوں کہ وہ شوق سے منطق فلسفہ اور دیگر علوم پڑھیں لیکن اب دل کا ایک گوشہ ضرور خالی رکھیں شاید کبھی ان کو کسی مرشد کامل، یا مرد مومن کی صحبت نصیب ہو جائے تو وہ کوئی اسلامی نکتہ ان کو بتا کر، ان کی زندگی سنوار دے گا لیکن اگر خانہ دل میں کوئی کمرہ بھی خالی نہ ملا تو وہ مہمان عزیز، یعنی پاکیزہ خیال کہاں قیام کرے گا.

دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے. کہ شوق سے یہ غیر اسلامی تعلیم حاصل کرو اس آزادی کے زمانہ میں تمہیں کون روک سکتا ہے. لیکن کبھی کبھی اللہ سے بھی دعا کر لیا کرو. شاید وہ اپنے فضل سے کوئی انقلاب تمہارے اندر پیدا کردے. لیکن اگر تم نے بالکل ہی تعلق ختم کر دیا تو فضل الٰہی یعنی مہمان عزیز کی پھر کوئی توقع نہیں ہے.

English Translation:

مہمان عزیز

پر ہے افکار سے ان مدرسے والوں کا ضمیر
خوب و ناخوب کی اس دور میں ہے کس کو تمیز!
چاہیے خانہ دل کی کوئی منزل خالی
شاید آجائے کہیں سے کوئی مہمان عزیز

HONOURED GUEST
The minds of, those who go to school, in thoughts quite fresh and new are clad Alas! There are such people few who draw a line ‘twixt good and bad.
Perhaps some luminous thought may flash across the inmost part of heart for such inspiring thoughts one must set some recess in heart apart.
[Translated by Syed Akbar Ali Shah]

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: