(Zarb-e-Kaleem-090) (عصر حاضر) Asar-e-Hazir

عصر حاضر

پختہ افکار کہاں ڈھونڈنے جائے کوئی
اس زمانے کی ہوا رکھتی ہے ہر چیز کو خام

مدرسہ عقل کو آزاد تو کرتا ہے مگر
چھوڑ جاتا ہے خیالات کو بے ربط و نظام

مردہ، ‘لا دینی افکار سے افرنگ میں عشق
عقل بے ربطی افکار سے مشرق میں غلام!

اقبال نے اس نظم میں موجودہ غیر اسلامی نظام ونصاب تعلیم پر تنقید کی ہے اور یہ ان نظاموں میں سے ہے، جن کو میں نے سیکڑوں مرتبہ پڑھا ہے، اور مہینوں ان پر غور کیا ہے. اس لئے میں ناظرین سے درخواست کرونگا کہ وہ بھی اس نظم کو بہت غور سے پڑھیں.

کہتے ہیں کہ یورپ نے جو نظام ونصاب تعلیم معین کیا ہے، اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ افکار میں وہ بچتگی پیدا نہیں ہوسکتی. اس کی ایک ادنی کسی مثال یہ ہے. کہ ہندوستان سے ہر سال بہت سے طلبہ اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے یورپ جاتے ہیں. اور علم کے ایک شعبہ پر کئی کئی سال صرف کرتے ہیں. لیکن ان کا علم سطحی معلومات سے آگے بڑھتا. مثلا وہ یہ تو بتا سکتے ہیں کہ ابن سینا کے اشارات کا قدیم ترین قلمی نسخہ کس کتب خانہ میں ہے اور کس سنہ میں لکھا گیا تھا. اور اس کے اوراق کی تعداد کتنی ہے. لیکن یہ نہیں بتا سکتے کہ اس کتاب میں کیا لکھا ہے بلکہ اکثر پی، ایچ ڈی تو اس کتاب کی عبادت بھی صحیح نہیں پڑھ سکتے.

اگرچہ کالجوں کی تعلیم سے عقل انسانی، ادہام باطلہ قیود سے ضرور آزاد ہو جاتی ہے. مثلا کالج کا تعلیم یافتہ یہ بات ہرگز تسلیم نہیں کریگا کہ یہ زمین گائے سینگوں پر قائم ہے یا ایٹلس اسے اپنے کاندھے پر اٹھائے ہوئے ہے. لیکن کالج کی تعلیم خیالات میں ربط اور ہم آہنگی پیدا نہیں ہوسکتی. 

چنانچہ آپ کسی کالج کے گریجویٹ سے تبادلہ خیالات کریں، تو معلوم ہو جائے گا کہ عموماً تعلیم یافتہ لوگوں کا یہ حال ہے کہ یہ لوگ زندگی کے مسائل میں کوئی ذاتی رائے رکھتے ہی نہیں، اور اگر کسی مسئلہ پر گفتگو کریں گے تو وہ نوے فیصدی غیر مربوط ہو گی. 

مثلا آپ نے تقسیم ہند سے پہلے “نیشنلسٹ مسلمان” اور تقسیم کے بعد اسلامی شوشلزم کی لوگوں کی زبان سے ضرور سنی ہوگی، یا کم از کم اخباروں میں تو ضرور پڑھی ہو گی. 

‏ تقسیم سے پہلے دوران گفتگو میں مثلا زید نے کہا کہ نیشنلسٹ مسلمان ہوں اور اس پر فخر کرتا ہوں اب آپ سوچیں کہ اگر قائل کے خیالات میں ربط ہوتا تو کیا وہ اس قسم کا کلمہ زبان سے ادا کر سکتا تھا؟ اس کی تفصیل یہ ہے کہ نیشنلزم، اپنے تضمنات کے اعتبار سے، اسلام کی ضد ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے:۔

‏ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ قومیت کی بنیاد مذہب پر ہے نیشنلزم کی تعلیم یہ ہے قومیت کے بنیاد وطن پر ہے.

پس جو شخص نیشنلسٹ ہے. وہ مسلمان نہیں ہو سکتا. اس کے بعد میں نے بہت سے مسلمانوں کو اپنے کانوں سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نیشنلسٹ مسلمان ہوں.

یہی حال اسلامی سوشلزم کا ہے. اپنی اسلام سوشلزم کے ضد ہے اور دو ضدیں ایک جگہ ایک وقت میں ایک حیثیت سے جمع نہیں ہوسکتیں. لہٰذا اسلامی سوشلزم کی ترکیب بھی اجتماعی ضدین کی مصداق ہے. اور اس لیے محال ہے 

اس کے باوجود ترکیب لوگوں کی زبان پر آ جاتی ہے.

یہ باتیں، دلیل ہے اس امر کی کہ کالجوں کی تعلیم سے عقل تو آزادی ہو جاتی ہے، لیکن خیالات میں ربط ونظم پیدا نہیں ہوتا. اگر کالج کی تعلیم سے انسان “عالم” ہو جاتا ہے تو علی گڑھ کالج سے بچھتر سا میں نہ سہی علماء تو ضرور پیدا ہوتے.

انسان کی خودی اس وقت مرتبہ کمال کو پہنچی ہے، جب وہ اپنی دونوں قوتوں کی( یعنی عشق اور عقل) پہلو صحیح طریق پر تربیت کرے لیکن آج دنیا کی حالت یہ ہے کہ

مغربی اقوام کے افکار وخیالات لادینی اور مادہ پرستی پر مبنی ہیں، اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کی قوت عشق، مردہ ہو گئی ہے، واضح ہو کہ عشق سے ذمہ دار اللہ کی محبت ہے. اور جب ہم اللہ پر ایمان ہی نہیں تو اس سے محبت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا. مغربی اقوام نے تو اللہ کی جگہ، وطن کو اپنا معبود بنا لیا ہے. چنانچہ ان کی زندگیاں انسانوں کو تباہ اور برباد کرنے کے لئے وقف ہو چکی ہیں، اور وطن کو معبود بنانے کا نتیجہ اس کے علاوہ اور کچھ ہو بھی نہیں سکتا.

مشرقی قومیں بے ربطی افکار کے مرض میں مبتلا ہیں. یعنی انہوں نے صحیح طریق پر غور و فکر کرنا چھوڑ دیا ہے. جس کی بناء پر ان کے خیالات میں بے ربطی پیدا ہوگئی ہے. اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ ذہنی غلامی میں مبتلا ہوگئی ہیں. ذہنی غلامی سے مراد یہ ہے کہ وہ زندگی کے ہر شعبہ میں یورپ کو کورانہ تقلید کر رہی ہیں. مصر، شام، ترکی، عراق، ایران اور دوسرے ملک سب اسی مرض میں مبتلا ہیں. یہ داستان بہت طویل ہے دردناک ہے. اور اس کی تفصیل کے لیے ایک دفتر درکار ہے. یوں کہنے کو ترکی ایک آزاد ملک ہے، لیکن غور سے دیکھو تو ترک ذہنی اعتبار سے مغرب کے غلام ہیں اسلامی قانون کے بجائے مغربی جب تک نون اختیارکرلیا الف ب ت کے بجائے اے بی سی اختیار کرلی. غرضکہ تمہدن، تہذیب اور معاشرت ہر لحاظ سے یورپ کی نقّالی کے لیے جارہی ہے.

خلاصہ کلام یہ ہے کہ مغرب میں لادینی افکار کی وجہ سے، عشق، مردہ، ہو گیا ہے. مشرق میں بے ربطی افکار کے سبب سے عقل مردہ ہوگئی ہے اور خودی کی زندگی، ان دونوں کی زندگی پر موقوف ہے. اس لئے نہ مغربی اقوام کی خودی زندہ ہے، نہ مشرقی اقوام کی. بالفاظ دیگر، آج ساری دنیا انسانیت اور اخلاق کے لحاظ سے مردہ ہو چکی ہے. اسی خیال کو اقبال نے دوسری جگہ اس طرح پیش کیا ہے. میں سمجھتا ہوں کہ اس شعر کی اس سے بہتر شرح ہو بھی نہیں سکتی.

یہاں مرض کا سبب ہے اعلیٰ غلامی وتقلید
‏ وہاں مرض کا سبب ہے نظام جمہوری
‏ نہ مشرق اس سے بری ہے نہ مغرب اس سے بری
‏ جہاں میں عام ہے، قلب ونظر کی ربخوری

English Translation:

عصر حاضر

پختہ افکار کہاں ڈھونڈنے جائے کوئی
اس زمانے کی ہوا رکھتی ہے ہر چیز کو خام

MODERN AGE
Where from a man can find ripe thoughts in present age? The weather of this park no ripeness can presage.
مدرسہ عقل کو آزاد تو کرتا ہے مگر
چھوڑ جاتا ہے خیالات کو بے ربط و نظام

The seats of learning give the mind of pupils’ scope but leave the thoughts of youth unlinked by thread or rope.
مردہ، ‘لا دینی افکار سے افرنگ میں عشق
عقل بے ربطی افکار سے مشرق میں غلام!

The love of God is dead by unbelief ‘mong Franks through lack of link in thoughts, East shackles wears on shanks.
[Translated by Syed Akbar Ali Shah]

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: