(Zarb-e-Kaleem-091) (طالب علم) Talib-e-Ilm

طالب علم

خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں

اس مختصر نظم میں اقبال نے مسلمان طالب علم کو ایسا نکتہ سمجھایا ہے، جس پر عمل کرنے سے قوم کی زندگی میں انقلاب رونما ہوسکتا ہے کہتے ہیں کہ تیرے دل میں صحیح طریق پر، دنیا میں ترقی اور سربلندی حاصل کرنے کی کوئی امنگ پیدا نہیں ہوتی، اس لئے میں دعا کرتا ہوں کہ خدا، اپنی مہربانی سے تیرے دل میں تڑپ پیدا کردے یعنی دنیا میں اسلام کو سربلند کرنے کا جذبہ. ‏واضح ہو کہ اقبال کی رائے میں مسلمان کی ترقی اور سربلندی، اسلام کی ترقی اور سر بلندی پر موقوف ہے. کیونکہ اس کی پیدائش کا مقصد یہ ہے کہ وہ دنیا میں اسلام کو سر بلند کرے، اور جس مسلمان کے دل میں یہ تڑپ نہ ہو وہ سب کچھ ہو سکتا ہے، لیکن مسلمان نہیں ہوسکتا. ‏تو ساری عمر یونہی کتابیں پڑھتا رہے گا، لیکن کتابوں سے تیری زندگی کا مقصد کبھی تجھ پر واضح نہیں ہو سکے گا، کیونکہ کہ تو کتاب خواں تو ہے، لیکن “صاحب کتاب” نہیں ہے. 

‏اس شعر میں “صاحب کتاب” اس نظم کی جان ہے. صاحب کتاب اصطلاح میں اس شخص کو کہتے ہیں، جس پر اللہ کی طرف سے کوئی کتاب نازل ہو. یہاں اس کے مجازی معنی مراد لئے گئے ہیں. یعنی ایسا شخص جس نے اپنے دل کو ایسا پاک صاف کرلیا ہوکہ اللہ تعالی اس پر فیضان سماوی نازل فرمائے. اور یہ نعمت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب مسلمان اللہ سے رابطہ قلبی پیدا کرے. مطلب ‏یہ ہے کہ ایسے مسلمان نوجوان! اگر تو حقیقی علم کا طالب ہے تو اپنے دل کو اللہ کی محبت سے منور کرلے . اور یہ نعمت اہل اللہ کی صحبت سے حاصل ہو سکتی ہے.

جن لوگوں نے کلام اقبال کا مطالعہ کیا ہے، وہ اس امر میں مجھ سے متفق ہوں گے کہ لوٹ پھر کر اقبال نے ایک ہی بات مختلف طریقوں سے کہی ہے. اور وہ یہ ہے کہ دماغ کے ساتھ دل کو بھی منور کرو. محض علم، جب تک اس کے ساتھ عشق بھی کارفرمانہ ہو، مسلمان کو، مسلمان نہیں بنا سکتا. 

اسی خیال کو اقبال نے بال جبریل میں جو بیان کیا ہے:

دل مردہ، دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے، امتوں کے مرض کہن کا چارہ

English Translation:

طالب علم

خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں

THE STUDENT
May God acquaint you with some gale your tides no stir at all exhale: Respite from books you do not get, but Book Revealed too soon forget.
[Translated by Syed Akbar Ali Shah]

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: