(Zarb-e-Kaleem-092) (امتحان) Imtihan

امتحان

کہا پہاڑ کی ندی نے سنگ ریزے سے
فتادگی و سرا فگندگی تری معراج!

فتادگی: ایک جگہ پڑے رہنا، عاجزی۔
سرا فگندگی: سر جھکانا۔

ترا یہ حال کہ پامال و درد مند ہے تو
مری یہ شان کہ دریا بھی ہے مرا محتاج

جہاں میں تو کسی دیوار سے نہ ٹکرایا
کسے خبر کہ تو ہے سنگ خارہ یا کہ زجاج

سنگ خارہ: ایک قسم کا سخت پتھر۔
زجاج: شیشہ۔

اس نظم میں اقبال نے یہ بتایا ہے کہ اگر کوئی شخص دنیا کو اپنے ذاتی کمالات کا معترف بنانا چاہتا ہے، یا اپنی خودی کی قوتوں کا اظہار کرنا چاہتا ہے تو اسے “دیوار سے ٹکرانا” لازم ہے. یعنی اسے مشکلات اور آفات کا مقابلہ کرنا پڑے گا اور اس کے لیے مناسب شرط اولین ہے. دنیا کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ “قوت” کے سامنے جھکتی ہے خود اقبال ہی نے لکھا ہے.

کہ سربہ سجدہ ہیں قوت کے سامنے افلاک

‏ اس لیے اقبال مسلمانوں کو یہ تلقین کرتے ہیں کہ اپنے اندر قوت پیدا کرو. کیونکہ “دیوار” سے وہی شخص ٹکڑا سکتا ہے جس میں قوت ہو. 

‏پہار کی ندی میں ایک دن سنگریزے سے کہا کہ مجھے تیری حالت پر افسوس آتا ہے. کیونکہ تیری زندگی کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ تو زمین پر پڑا رہے، اور اسی حالت میں فرسودہ ہوکر فنا ہو جائے. 

‏مجھے دیکھ! میں کہنے کو تو چھوٹی سی ندی ہوں، لیکن میری قوت کا یہ عالم ہے کہ میں پہاڑوں سے ٹکراتی ہوں اور اپنی ضربوں سے چٹانوں کو توڑ دیتی ہوں اور آگے بڑھنے کے لیے اپنا راستہ بناتی ہوں، یہی تو وجہ ہے کہ دریا، بلکہ سمندر بھی میرے مختاج ہیں. 

‏مجھے تیری حالت افسوس اس لیے آتا ہے کہ اگرچہ تو اپنی ذات کے لحاظ سے سنگ خارہ ہے، لیکن آہسنا کا پجاری بن گیا ہے. یعنی کسی دیوار سے نہیں ٹکراتا، خاموش سر جھکائے زمین میں پڑا رہتا ہے. اس لیے دنیا تیری ذات خوبی سے نہ واقف ہے، نہ ہو سکتی ہے. یا اگر دنیا تجھے کانچ سمجھے تو اس میں اس کا کیا قصور ہے؟ کیا تم نے کبھی کسی دیوار سے متصادم ہوکر اپنی حقیقت کا اظہار کیا؟ اندریں صورت کسے خبر کہ تو ہے. سنگ خارہ یا کہ زجاج

English Translation:

امتحان

کہا پہاڑ کی ندی نے سنگ ریزے سے
فتادگی و سرا فگندگی تری معراج!
فتادگی: ایک جگہ پڑے رہنا، عاجزی۔
سرا فگندگی: سر جھکانا۔
EXAMINATION
Thus mountain stream to pebble spake: ‘This lowly state for height you take.
ترا یہ حال کہ پامال و درد مند ہے تو
مری یہ شان کہ دریا بھی ہے مرا محتاج

You are tread upon and suffer deal, how nice! My need the rivers feel.
جہاں میں تو کسی دیوار سے نہ ٹکرایا
کسے خبر کہ تو ہے سنگ خارہ یا کہ زجاج
سنگ خارہ: ایک قسم کا سخت پتھر۔
زجاج: شیشہ۔
You never clashed against a wall, don’t know, a stone or glass to call’.
[Translated by Syed Akbar Ali Shah]

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: