(Zarb-e-Kaleem-093) (مدرسہ) Madrasa

مدرسہ

عصر حاضر ملک الموت ہے تیرا، جس نے
قبض کی روح تری دے کے تجھے فکر معاش

دل لرزتا ہے حریفانہ کشاکش سے ترا
زندگی موت ہے، کھو دیتی ہے جب ذوق خراش

ذوق خراش: تکلیف برداشت کرنے کی لذت۔

اس جنوں سے تجھے تعلیم نے بیگانہ کیا
جو یہ کہتا تھا خرد سے کہ بہانے نہ تراش

فیض فطرت نے تجھے دیدہ شاہیں بخشا
جس میں رکھ دی ہے غلامی نے نگاہ خفاش

خفاش: چمگادڑ۔

مدرسے نے تری آنکھوں سے چھپایا جن کو
خلوت کوہ و بیاباں میں وہ اسرار ہیں فاش

اس نظم میں اقبال نے کالج کے نوجوانوں سے براہ راست خطاب کیا ہے اور جو کچھ اس کے ضمیر کی گہرائیوں میں پوشیدہ تھا، سب بے کم وکاست ان کے سامنے رکھ دیا ہے. جب میں یہ نظم پڑھتا ہوں، تو بے اختیار داغ کا یہ شعر زبان پر آجاتا ہے:.

قطرہ خون جگر سے کی تواضع عشق کی!
سامنے مہمان کے جو تھا میں میسر رکھ دیا

‏ کہتے ہیں کہ نوجوان! فرنگی بد فرجام نے جو نظام یہاں قائم کیا ہے. بلکہ تجھ پر مسلط کیا ہے. اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے. کہ تو دن رات فکر معاش میں مبتلا رہے. اور تیرا ملک آئے دن قحط کی برکات سے بہرہ اندوز ہوتا رہے چنانچہ اس نے اپنے ناپاک مقاصد کی تکمیل کے لیے…… میں بنگال کے… کروڑ انسانوں کو قحط کی مصیبت میں مبتلا کر دیا تھا. 

‏الغرض اس فکر معاش کا نتیجہ یہ نکلا کہ تیری روح فنا ہوگئی. تو روٹی کی تلاش میں اس قدر سرگرداں ہے کہ کوئی بلند جذبہ تیرے اندر پیدا ہی نہیں ہو سکتا. 

‏ مفلسی نے تجھے بزدل بنا دیا ہے، تو ہر وقت ڈرتا رہتا ہے کہ اگر میں نے ذرا اپنے طرز عمل سے اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت دیا تو “افسران بالا” ناخوش ہوجائیں گے.

اور میری “سروس” خطرہ میں پڑ جائیگی. سچ یہ ہے کہ جب زندگی ذوق خراش کھو دیتی ہے، یعنی جب انسان تکالیف اور مصائب برداشت کرنے سے جی چرانے لگتا ہے تو زندگی موت تبدیل ہو جاتی ہے. انسان غلطی سے اپنے آپ کو زندہ سمجھتا ہے، دراصل وہ مر چکتا ہے. اے مسلمان نوجوان! تجھے “جنون” کی صفت تو مسلمان گھر میں پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ ورثہ میں ملی تھی، اور وہ کیسا “جنون” تھا؟ وہ ایسا تھا کہ دین اسلام کی سربلندی کے لیے تیرے اسلاف کو ہر وقت سربکف رکھتا تھا، وہ بات بات میں سر سے کفن باندھ لیتے تھے. سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علم کی عزت کے لیے ہر وقت سر کٹانے کو تیار رہتے تھے. اور یہ سب اسی “جنون ذوفنون” کا ثمرہ تھا. لیکن افسوس کہ فرنگیوں کے قائم کردہ کالجوں اور ان مروجہ نصاب تعلیم نے (جو سرتاپا لا دینی اور شکم پرستی پر مبنی ہے) تجھے اس جنون سے بیگانہ کردیا.

اے مسلمان نوجوان! اللہ نے تجھے دیدہ شاہین عطا فرمایا تھا، لیکن انگریزوں نے تجھے، اپنا غلام بنا کر، تیرے ساتھ یہ سلوک کیا کہ “دیدہ شاہین” تو تجھ سے چھین لیا، اور اس کی جگہ چمگادڑ کی آنکھیں تجھے دیدیں، تاکہ تو آفتاب کی روشنی کو دیکھ ہی نہ سکے.

پس اے نوجوان! تو سب کام چھوڑ کر، مقابلہ کی قوت اپنے اندر پیدا کرء تاکہ تو اپنی اصلی آنکھیں اس دشمن ملت سے واپس لے سکے تو یاد رکھ جب تک تو اپنی اصلی آنکھیں واپس نہیں لے گا، تیری زندگی بالکل بیکار ہے. بلکہ اس پر زندگی کا اطلاق ہی نہیں ہوسکتا. یادرکھ مسلمان بننے کے لیے زیدہ شاہین شرط اولین ہے. اس لیے اگر یہ نعمت تجھے حاصل ہوئی تو تیرا عدم اور وجود دونوں برابر ہیں. پس اپنے حقیقی دشمن کو پہچان اور مقابلہ کی تیاری کر اگر تو میرے پیغام انقلاب پر عمل کرنے کے لئے آمادہ ہے، تو میں بڑی خوشی سے تجھے مطلع کرتا ہوں کہ کالج کی تعلیم نے جن حقائق ومعارف کو تیری نگاہوں سےپوشیدہ کردیا ہے. وہ ان بزرگوں کی صحبت میں رہ کر حاصل ہوسکتے ہیں جو عالی شان محلات اور فلک بوس عمارات سے بہت دور، اس ناپاک ماحول سے بہت دور، جنگلوں میں اور دبیابانوں میں معمولی جھونپڑیوں میں رہتے ہیں، اور بورئیے پر بیٹھ کر تحت نشینیوں کی نیندیں حرام کر دیتے ہیں. پس اے مسلمان نوجوان تو ان اللہ والوں کی صحبت اختیار کر، تاکہ تجھ میں کفار کے مقابلہ طاقت پیدا ہوسکے.

English Translation:

مدرسہ

عصر حاضر ملک الموت ہے تیرا، جس نے
قبض کی روح تری دے کے تجھے فکر معاش

THE SCHOOL
Tile present age, your constant foe, like Ezrail has snatched your soul you have imbibed much care and grief pursuit of wealth your only goal.
دل لرزتا ہے حریفانہ کشاکش سے ترا
زندگی موت ہے، کھو دیتی ہے جب ذوق خراش
ذوق خراش: تکلیف برداشت کرنے کی لذت۔
When faced by rivals strong and brave: your heart beats fast and shakes with fear: Such life is naught but Death, in fact, when blows of life you can not.
اس جنوں سے تجھے تعلیم نے بیگانہ کیا
جو یہ کہتا تھا خرد سے کہ بہانے نہ تراش

The knowledge that this age imparts hs made forget you craze and zest, which bade the mind to keep away from pretexts that on truth didn’t rest.
فیض فطرت نے تجھے دیدہ شاہیں بخشا
جس میں رکھ دی ہے غلامی نے نگاہ خفاش
خفاش: چمگادڑ۔
With free hand Nature has bestowed on you the eyes of hawk so keen; but bondage has replaced them with the eyes, of bat, devoid of sheen.
مدرسے نے تری آنکھوں سے چھپایا جن کو
خلوت کوہ و بیاباں میں وہ اسرار ہیں فاش

The things on which schools throw no light and keep them from your eyes concealed, go to retreats of mount and waste and get them by some Guide revealed.
[Translated by Syed Akbar Ali Shah]

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: