(Zarb-e-Kaleem-094) (حکیم نطشہ) Hakeem Natsha

حکیم نطشہ

حریف نکتہ توحید ہو سکا نہ حکیم
نگاہ چاہیے اسرار ‘لا الہ’ کے لیے

خدنگ سینہ گردوں ہے اس کا فکر بلند
کمند اس کا تخیل ہے مہرو مہ کے لیے

خدنگ: تیر ۔

اگرچہ پاک ہے طینت میں راہبی اس کی
ترس رہی ہے مگر لذت گنہ کے لیے

تمہید:۔ علامہ اقبال نے اس مشہور جرمن فلسفی کے فلسفیانہ افکار پر اپنی تصانیت میں کئی جگہ مختلف پہلوؤں سے تبصرہ کیا ہے. اور اگرچہ انہوں نے اس کے بعض بنیادی تصورات پر سخت نکتہ چینی کی ہے. لیکن اس میں بھی شک نہیں ہے کہ انہیں اس کے ساتھ ایک خاص قسم کی دلچسپی ضروری تھی.

نکتہ چینی تو اس لیے کی کہ ان کے اور نطشہ کے بنیادی نقطہ فکر میں بعد المشرقین ہے. یعنی اقبال اللہ کی ہستی کے متعرف ہیں، اور نطشہ، اللہ تو بڑی چیز ہے، خدا کی ہستی کا بھی منکر ہے. اور دلچسپی اس لیے ہے کہ اس کے بعض اخلاقی تصورات، قرآنی تعلیمات سے مثابہت رکھتے ہیں، دلچسپی کی دوسری وجہ یہ ہے کہ نطشہ، انسان میں اعلی قسم کی صفات دیکھنے کا آرزو مند ہے، اس لیے وہ “فرد” کو فوق البشر بننے کی تلقین کرتا ہے. اگرچہ اقبال کا فوق البشر، یعنی مرد مومن اپنی صفات کے لحاظ سے نطشہ کے فوق البشر سے مختلف ہے. لیکن اس میں شک نہیں کہ دونوں، فرد کی مخفی قوتوں کو ابھارنا چاہتے ہیں.

اسی لیے اقبال نے اپنی کتابوں میں یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اگر نطشہ کو کسی مرد مومن یا مرشد کامل کی صحبت نصیب ہو جاتی تو وہ مسلمان ہو جاتا چنانچہ جاوید نامہ میں لکھتے ہیں:

کاش بودے در زمان احمدے
‏ تارسیدے بر سرور سرمدے

‏ کاش نقشہ، حضرت مجدد الف ثانی، شیخ احمد سرہندی کے زمانہ میں پیدا ہوا ہوتا تو ان کے فیض سے دولت سرمدی حاصل کر لیتا یعنی مسلمان ہوجاتا.

‏ اگر ہوتا وہ مجذوب فرنگی اس زمانہ میں
‏ تو اقبال اس کو سمجھاتا، مقام کبر یا کیا ہے. 

پیام مشرق میں بھی شعروں کی نظم اس کے متعلق لکھی ہے جس میں یہ شعر قابل غور ہے:

انکہ برطرح حرم تنجانہ ساخت
‏ قلب اومومن، دماغش کا فراست

‏ یعنی اگرچہ اس نے تخبانہ تعمیر کیا، لیکن اس کی تعمیر کا انداز، حرم کی تعمیر سے مشابہ ہے. یعنی اسی کا فلسفہ اگرچہ ملحدانہ ہے لیکن اس میں کہیں کہیں اسلام کا رنگ بھی نظر آتا ہے. اس شعر کے آخری مصرع میں اقبال نے اس کے ساتھ اپنی دلچسپی کی وجہ بھی بیان کردی ہے. یعنی اس کے اندر اسلامی حقائق کو قبول کرنے کی صلاحیت موجود تھی. لیکن جیسا کہ اقبال نے بال جبریل میں حاشیہ میں لکھا ہے کہ “وہ اپنے قلبی واردات کا صحیح اندازہ نہ کرسکا اس لیے اس کے فلسفیانہ افکار نے اسے غلط راستہ پر ڈال دیا”
‏اس مختصر تمہید کے بعد اب میں اشعار کا مطلب لکھتا ہوں:
‏ کہتے ہیں کہ نقشہ، توحید الہی کا اعتراف اس لیے نہ کر سکا کہ اس کے اسرار کو سمجھنے کے لئے جس امذاز فکر کی ضرورت ہے، وہ اس میں پیدا نہ ہو سکا. اگر اسے کوئی” اللہ والا” مل جاتا تو اس کا قلبی رجحان اسے موحد بنا سکتا تھا.

ذہنی اعتبار سے اس کا درجہ حکمائے مغرب میں بہت بلند ہے، چنانچہ اس کے افکار میں مسیحی دنیا میں زلزلہ برپا کر دیا تھا.

واضح ہو کہ میری رائے میں حکیم فر فریوس کے بعد( جس کی وفات…. میں ہوئی ہے) نطشہ دوسرا فلسفی ہے، جس نے انیسویں صدی میں مسیحیت پر اس قدد شدید نکتہ چینی کی. چنانچہ اس نے اپنی تصنیف اینٹی کرائسٹ میں بدلائل عقلیہ یہ بات ثابت کی ہے. کہ مسیحی فلسفہ اخلاق سے بڑھ کر کوئی فلسفہ بنی آدم کے حق میں مضر نہیں ہے. لیکن اس رفعت تخیل کے باوجود، چونکہ اس توحید کی نعمت نصیب نہ ہو سکی. اس لیے اس کے فلسفہ اخلاق میں، وہ کی پاکیزگی یا وہ خوبی پیدا نہ ہو سکی، کہ وہ اس ضابطہ پر عمل پیرا ہوکر، گناہ کی طرف میلان یا نفسانی خواہشات پر غالب آسکتا. یعنی اس کا فلسفہ اخلاق پر اس کی پاکیزگی طبع کے باوجود انسانوں کو متقی اور خداترس نہیں بنا سکتا.

English Translation:

حکیم نطشہ

حریف نکتہ توحید ہو سکا نہ حکیم
نگاہ چاہیے اسرار ‘لا الہ’ کے لیے

NEITZCHE
The subtle point that God is one, the German sage could not perceive clear sight and mind are both a must, so that this point one may conceive.
خدنگ سینہ گردوں ہے اس کا فکر بلند
کمند اس کا تخیل ہے مہرو مہ کے لیے
خدنگ: تیر ۔
The flights of fancy, like a dart, can hit the dome of azure sky. He casts his noose on moon and sun that seem so far above and high.
اگرچہ پاک ہے طینت میں راہبی اس کی
ترس رہی ہے مگر لذت گنہ کے لیے

Although his natural bent of mind from stains and blemish is quite free his soul this dormant fact betrays, he yearns for life replete with spree.
[Translated by Syed Akbar Ali Shah]

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: