(Zarb-e-Kaleem-095) (اساتذہ) Asatizah

اساتذہ

مقصد ہو اگر تربیت لعل بدخشاں
بے سود ہے بھٹکے ہوئے خورشید کا پر تو

دنیا ہے روایات کے پھندوں میں گرفتار
کیا مدرسہ، کیا مدرسے والوں کی تگ و دو!

کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو

اس نظم میں اقبال نے ہندوستانی کالجوں کے استادوں کی ذہنیت پر تبصرہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ جو لوگ خود گم کردہ راہ ہوں، وہ دوسروں کی ہرگز رہنمائی نہیں کرسکتے چنانچہ کہتے ہیں کہ:

اگر آفتاب اپنے مستقر سے منحرف ہوجائے تو پھر اس کی شعاعوں میں یہ تاثیر باقی نہیں رہ سکتی کہ وہ معدن میں لعل وگوہر کی تربیت کر سکیں. اسی طرح اگر کوئی شخص طلبہ کی صحیح تربیت کا آرزو مند ہو تو اسے لازم ہے کہ وہ ان کو ایسے اساتذہ کے سپرد کرے، جو تربیت کے اہل ہوں یعنی اسلام سے منحرف نہ ہوں. 

‏آج یہ حالت ہے کہ ساری دنیا تلاش حق سے بیگانہ ہو چکی ہے تحقیق اجتہاد کے دروازہ بند ہو چکے ہیں. اندریں حالات بھلا ہندی کالجوں کے اساتذہ طلبہ کی ذہنی تربیت کیا کر سکتے ہیں۔

‏ آج کیفیت یہ ہے کہ جو لوگ (قرآن وحدیث کے نور سے منور ہو کر) اپنے زمانہ کے امام بن سکتے تھے، وہ روایات کے پھندوں میں گرفتار ہیں. اور خود اپنے زمانہ (یعنی عصر حاضر کے اوہام) کے پیرو اور مقلد ہیں. پس ایسے لوگ قوم کی کیا رہنمائی کر سکتے ہیں.

 

English Translation:

اساتذہ

مقصد ہو اگر تربیت لعل بدخشاں
بے سود ہے بھٹکے ہوئے خورشید کا پر تو

TEACHERS
If you desire to breed such ruby which is red, don’t beg light of sun that from course has fled.
دنیا ہے روایات کے پھندوں میں گرفتار
کیا مدرسہ، کیا مدرسے والوں کی تگ و دو!

The world is trapped by traditions old and hoar, preceptors helpless quite, can do no more.
کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو

Those who deserved to lead the modern age have worn out brains and others hold the stage.
[Translated by Syed Akbar Ali Shah]

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: