(Zarb-e-Kaleem-097) (دین و تعلیم) Deen-o-Taleem

دین و تعلیم

مجھ کو معلوم ہیں پیران حرم کے انداز
ہو نہ اخلاص تو دعوئے نظر لاف و گزاف

لاف و گزاف: لاف زنی۔
اور یہ اہل کلیسا کا نظام تعلیم

ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف
اس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے

قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف
فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے

کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف

اغماض: چشم پوشی۔

 

اس نظم میں اقبال نے دین اور تعلیم سے متعلق بعض حقائق بیان کئے ہیں اور اس میں شک نہیں کہ ان پر غور کرنے سے حکیم مشرق کی ژرف نگاہی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہتے ہیں کہ

میں موجودہ زمانہ کے علماء اور فقہاء سے بخوبی واقف ہوں، وہ کتابی علم تو رکھتے ہیں لیکن (الاماشاءاللہ) نظر یعنی روحانی طاقت سے محروم ہیں. یہ دولت تو صرف اخلاص یعنی عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل ہو سکتی ہے.

اب رہا یہ نصارٰی کا قائم کردہ نظام تعلیم اور انہی کا مقرر کردہ نصاب تعلیم، یہ دراصل تعلیم نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں کو دین اور آدمیت دونوں سے برگشتہ کر دینے کی ایک سازش ہے اور افسوس کہ مسلمان اس سازش کا شکار ہوگئے یعنی وہ زہر کو تریاق سمجھ رہے ہیں.

جو قوم اپنی انفرادی اور اجتماعی خودی کے فطری تقاضوں کی تکمیل کا انتظام نہیں کرتی، یعنی اپنی خودی کی تربیت نہیں کرتی، وہ کبھی اس دنیا میں سربلندی اور حکومت حاصل نہیں کرسکتی. بلکہ وہ ہمیشہ دوسری طاقتور قوموں کی غلام رہے گی. فطرت کا قانون یہ ہے. کہ حکومت اسے ملتی ہے جس کے اخلاق بہتر ہوں.

اس شعر میں اقبال نے عمر انیات اور تمدن کا ایک زبردست نکتہ بیان کیا ہے. کاش مسلمان اس پر کماحقہ غور کر لیں! کہتے ہیں۔ کہ فطرت کے قوانین، اس کے طریق کار پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ افراد کے قصور تو کبھی کبھی معاف کر دیتی ہے. لیکن ملت کا قصور معاف نہیں کرتی. یعنی فرض کرو کہ ایک حکمراں قوم ہے. اس کے بعد افراد کبھی کبھی کسی گناہ کے مرتکب ہوجاتے ہیں. تو فطرت ان کے گناہوں سے اغماض یا چشم پوشی کر لیتی ہے. لیکن اگر پوری قوم گناہ میں مبتلا ہوجائے (گناہ سے مراد، اللہ کے احکام کی نافرمانی یاقوانین فطرت کی خلاف ورزی ہے) تو فطرت اس قوم کو کبھی معاف نہیں کرتی. کہ اس قول کی صداقت تاریخ عالم پر ایک نظر ڈالنے سے بخوبی واضح ہو سکتی ہے.

English Translation:

دین و تعلیم

مجھ کو معلوم ہیں پیران حرم کے انداز
ہو نہ اخلاص تو دعوئے نظر لاف و گزاف
لاف و گزاف: لاف زنی۔
RELIGION AND EDUCATION
I know the modes of those who guide the creed, though lacking truth, of vision boast, indeed.
اور یہ اہل کلیسا کا نظام تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف

The teaching that the English have devised ‘gainst Faith and ties has great intrigue contrived:
اس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے
قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف

That race is doomed to bondage and much pain, which justice for its Ego can’t attain.
فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف
اغماض: چشم پوشی۔
The faults of one man Nature can reprieve, but groups for crimes no par don can receive.
[Translated by Syed Akbar Ali Shah]

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close