(Zarb-e-Kaleem-098) (جاوید سے) Javed Se

جاوید سے

(1)

غارت گر دیں ہے یہ زمانہ
ہے اس کی نہاد کافرانہ

دربار شہنشہی سے خوشتر
مردان خدا کا آستانہ

لیکن یہ دور ساحری ہے
انداز ہیں سب کے جادوانہ

سرچشمہ زندگی ہوا خشک
باقی ہے کہاں م ے شبانہ!

خالی ان سے ہوا دبستاں
تھی جن کی نگاہ تازیانہ

جس گھر کا مگر چراغ ہے تو
ہے اس کا مذاق عارفانہ

جوہر میں ہو ‘لاالہ’ تو کیا خوف
تعلیم ہو گو فرنگیانہ

شاخ گل پر چہک ولیکن
کر اپنی خودی میں آشیانہ!

وہ بحر ہے آدمی کہ جس کا
ہر قطرہ ہے بحر بیکرانہ

دہقان اگر نہ ہو تن آساں
ہر دانہ ہے صد ہزار دانہ

غافل منشیں نہ وقت بازی ست
وقت ہنر است و کارسازی ست

غافل نہ بیٹھ ، یہ کھیل کود کا وقت نہیں، خدا نے انسان کو زندگی بیکار ضائع کرنے کے لیے عطا نہیں کی؛ ضروری ہے کہ علم و ہنر سکھا جائے اور کچھ کر کے دکھایا جائے۔

(2)

سینے میں اگر نہ ہو دل گرم
رہ جاتی ہے زندگی میں خامی

نخچیر اگر ہو زیرک و چست
آتی نہیں کام کہنہ دامی

زیرک: دانا ، عقلمند۔
کہنہ دامی: جال بچھانے کا پرانا طریقہ۔

ہے آب حیات اسی جہاں میں
شرط اس کے لیے ہے تشنہ کامی

تشنہ کامی: پیاس، مراد ہے طلب۔

غیرت ہے طریقت حقیقی
غیرت سے ہے فقر کی تمامی

تمامی: کمال۔

طریقت حقیقی: حقیقی راستہ۔

اے جان پدر! نہیں ہے ممکن
شاہیں سے تدرو کی غلامی

نایاب نہیں متاع گفتار
صد انوری و ہزار جامی!

ہے میری بساط کیا جہاں میں
بس ایک فغان زیر بامی

زیر بامی: چھت کے نیچے۔

اک صدق مقال ہے کہ جس سے
میں چشم جہاں میں ہوں گرامی

صدق مقال: حق گویائی، راست گفتاری۔
گرامی: با عزت۔

اللہ کی دین ہے، جسے دے
میراث نہیں بلند نامی

بلند نامی: ناموری، شہرت۔

اپنے نور نظر سے کیا خوب
فرماتے ہیں حضرت نظامی

نور نظر: مراد ہے فرزند۔

جاے کہ بزرگ بایدت بو
فرزندی من نداردت سود

جہاں تجھے بڑرگی کا درجہ حاصل ہونا چاہیے، وہاں میری فر زندی سے تجھے کوئی فائدہ نہ پہنچے گا (بزرگی ہر انسان کو اپنے عمل و کردار پر موقوف ہے، یہ دوسرے کی نسبت سے حاصل نہیں ہوتی)۔

(3)

مومن پہ گراں ہیں یہ شب و روز
دین و دولت، قمار بازی!

ناپید ہے بندہ عمل مست
باقی ہے فقط نفس درازی

ہمت ہو اگر تو ڈھونڈ وہ فقر
جس فقر کی اصل ہے حجازی

اس فقر سے آدمی میں پیدا
اللہ کی شان بے نیازی

کنجشک و حمام کے لیے موت
ہے اس کا مقام شاہبازی

کنجشک و حمام: چڑیا اور کبوتر۔

روشن اس سے خرد کی آنکھیں
بے سرمہ بوعلی و رازی

حاصل اس کا شکوہ محمود
فطرت میں اگر نہ ہو ایازی

شکوہ: شان و شوکت۔

تیری دنیا کا یہ سرافیل
رکھتا نہیں ذوق نے نوازی

ہے اس کی نگاہ عالم آشوب
درپردہ تمام کارسازی

یہ فقر غیور جس نے پایا
بے تیغ و سناں ہے مرد غازی

مومن کی اسی میں ہے امیری
اللہ سے مانگ یہ فقیری

اس عنوان کے تحت، علامہ مرحوم نے تین دلکش نظمیں لکھی ہیں. جن میں اپنے دوسرے بیٹے جاوید اقبال سے خطاب کیا ہے. اور اس کے پردہ میں ملت اسلامیہ کے نوجوانوں کو بیش قیمت نصائح، فرمائی ہیں:

یہ فرد الحاد کا زمانہ ہے، جو دن کو مٹانے پر تلا ہوا ہے، وجہ یہ ہے کہ اس دور میں جو خیالات کار فرما ہے ان کی بنیاد اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر نہیں، بلکہ ملا حدہ، زنادقہ اور دشمن اسلام جماعتوں کے افکار پر ہے. 

اے جاوید! بلکہ اے مسلمان نوجوانو ! بادشاہوں کے دربار سے اللہ کے مقبول بارگاہ بندوں کی جھونپڑی زیادہ محترم اور دلکشّ ہے. بادشاہوں کے محلات میں کھانے پینے کو عمدہ چیزیں مل سکتی ہیں. لیکن روح کو مسرت نہیں حاصل ہوسکتی ہے. یہ نعمت صرف اللہ والوں کی صحبت سے حاصل ہو سکتی ہے.

لیکن یہ عیاری اور فریب کاری کا زمانہ ہے. لہذا ہر اس شخص پر جو متشرع صورت بنا کر تمہیں” جماعت صالحین” میں شامل ہونے کی دعوت دے. بغیر تحقیق، ایمان مت لے آنا.

افسوس کہ اس کا فرزانہ نظام حکومت میں قرآن وحدیث کے علوم تقریباً مٹ گئے. اور آج ہمارے ملک میں ان علوم کے ماہرین کا قحط رونما ہو چکا ہے.

افسوس کہ میرا ملک ان قدسی نفوس انسانوں سے خالی ہوچکا ہے، جن کی نگاہ سے نگاہوں میں آلودہ انسانوں کی اصلاح ہوجاتی تھی. لیکن اس حقیقت سے کبھی غافل مت ہونا کہ تو جس خاندان کا نام لیوا ہے، اس کے افراد ہمیشہ سے بزرگوں کی صحبت میں بیٹھتے چلے آئے ہیں.

“عارفانہ مزاق” یہ تصوف کی اصطلاح ہے. یعنی بزرگان دین اور اللہ والوں کی صحبت میں بیٹھنے کی خواہش

پس تو اپنے دل کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت سے منور کرلے . اس کے بعد، اگر تو فرنگی اساتذہ سے مغربی تعلیم حاصل کرے گا، تو وہ تعلیم تجھے نقصان نہیں پہنچا سکتی.

اے مسلمان نوجوان! تو شوق سے دنیاوی عزت وجاہ یا مال ودولت حاصل کر، لیکن دنیا یا اس کی دلچسپیوں کو مقصود حیات مت بنا. اپنی ملت سے رابطہ استوار کر، اور اپنے اسلامی اصولوں کو ہر وقت پیشِ نظر رکھ، یعنی خودی کی تربیت سے غافل مت ہو.

دراصل انسان اپنے اندر غیر محدود طاقتیں رکھتا ہے. اس حقیقت کو سامنے رکھ اور اپنی منفی قوتوں کوبروئے کار آنے کا موقع دے. لیکن اس کے لئے تجھے ہر وقت جدوجہد کرنی ہوگی. چنانچہ دیکھ لے اگر کسان محنت کرتا ہے تو اس کا بویا ہوا ہر دانہ سینکڑوں دانے پیدا کرسکتا ہے. اسی طرح تیری شخصیت میں سینکڑوں خوبیاں پوشیدہ ہیں. پس سعی پہیم سے اپنی صلاحتوں کی تربیت کر.

غافل مت ہو، دنیا دارالعمل ہے. دنیا اپنی زندگی کو کھیل کود میں ضائع مت کر، بلکہ ہنر (علم وفن) حاصل کر اور دنیا میں نام پیدا کر.

یاد رکھ! اگر دل میں ترقی کا جذبہ نہ ہو تو انسان اس دنیا میں کامیاب زندگی بسر نہیں کر سکتا. دیکھ لے! جو حیوان، یا طائر عقل مند اور چالاک ہوتا ہے، وہ صیاد کے جال میں نہیں آتا. اسی طرح اگر تو، زیرکی اور چستی سے کام لے تو کسی کے فریب میں نہیں آسکے گا.

آب حیات سے مراد ہے ایسی دنیا میں ہے، اگر تو اسے حاصل کرنا چاہتا ہے، تو اس کے حصول کی تڑپ اپنے دل میں پیدا کر. 

‏آب حیات سے مراد ہے ایسی زندگی جس سے صفت دوام حاصل ہوجائے یعنی اگر تو یہ چاہتا ہے کہ تیرا نام دنیا میں ہمیشہ زندہ رہے تو اس مقصد کے حصول کے لیے کوشش کر. 

‏اے بیٹے! غیرت، یعنی دین کی عزت دنیا میں برقرار رکھنے کا بےپناہ بےپناہ جذبہ، یہی حقیقی طریقت، یعنی شریعت کی روح ہے، اسلامی شریعت کا مقصد یہ ہے کہ اس پر عمل کرنے سے مسلمان کے اندر دین کے لیے غیرت پیدا ہو جائے. 

‏دوسرا نام اسی دین کا ہے فقرِ غیور 

‏جب تک غیرت کا رنگ پیدا نہ ہو، شان فقر کی تکمیل نہیں ہو سکتی. چنانچہ جو چیز مسلمان کو غیر کی غلامی یا اطاعت سے باز رکھ سکتی ہے. وہ یہی غیرت تو ہے. اگر مسلمان میں غیرت نہیں تو کچھ بھی نہیں. چناچہ دیکھ لے، شاہین موت قبول کرے گا، لیکن چکور، یا تیتر کی غلامی نہیں کرے گا.

سلطان ٹیپو شہید میں یہ غیر ہی تو تھی جس کی بنا پر اس نے موت قبول کی. لیکن کافر کی غلامی قبول نہیں کی. اور نظام علی خاں میں اسی جواہر کا فقدان تھا. چنانچہ اس نے غلامی کرلی، اور غلاموں کا ایک طویل سلسلہ قائم کردیا. اور آج حیدرآباد کا “راج پر مکہہ” اس فقدان غیرت کی زندہ مثال ہمارے سامنے موجود ہے.

یاد رکھ! شاعری بذات خود کوئی نایاب با قابل فخر چیز نہیں ہے دنیا میں ایک نہیں، سینکڑوں آدمی شاعری کے اعتبار سے انوری اور جامی کے اہم پلہ گزر چکے ہیں. میں شاعری کو اپنے لیے باعث فخر نہیں سمجھتا. میں عرف کے لحاظ سے شاعر نہیں ہوں، بلکہ میری حقیقت صرف اتنی ہے کہ میں قوم کو اپنے درد دل کی داستان سناتا ہوں، 

جس طرح کوئی نیچے کھڑے ہو کر، اپنا درد دل اسے سنادے.

میں جو دنیا کی نظروں میں مخترم ہوں، اس کی وجہ یہ نہیں، کہ میں کوئی بلند پایہ شاعر ہوں، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے قرآن اور حدیث کے حقائق ومعارف سچائی کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر دیے ہیں. اور اس کی رعایت نہیں کی.

کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق

یاد رکھ! شہرت اور نیک نامی کسی شخص کو میراث میں نہیں مل سکتی. یہ دولت صرف اسے مل سکتی ہے جو اس کے لئے کوشش کرے. اور اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ انہیں لوگوں کو نیک نامی عطا کرتا ہے جو اس کے مستحق ہوتے ہیں.

میں تجھے نصیحت کرتا ہوں جو نظامی گنجوی نے اپنے بیٹے کو کی تھی. کہ اے بیٹے! دنیا میں جس جگہ بزرگی درکار ہے، وہاں محض میرے بیٹے ہونے کی بنا پر تجھے جگہ نہیں مل سکے گی، بزرگی کے مقام پر پہنچنے کے لیے بزرگ ہونا شرط ہے. پس بزرگی حاصل کر.

مومن اس دنیا اور اس کی فریب کاریوں سے ہر وقت منتفر رہتا ہے. کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ دنیا پرست علماء اور امراء دونوں حصول جاء کے لیے سرگرداں رہتے ہیں. جب بندہ مومن یہ دیکھتا ہے. کہ “دین دار ” لوگ ضرورت کے وقت” دین” کو بھی داؤں پر لگا دیتے ہیں تو اسے بہت رنج ہوتا ہے.

آج دنیا ہر قسم کے فنکاروں سے بھری پڑی ہے. لیکن مرد مجاہد کہیں نظر نہیں آتا. 

‏اے بیٹے! اگر تجھ میں ہمت ہو تو، اپنے اندر وہ فقر پیدا کر جس کی تعلیم سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو دی تھی. 

‏ ‏نوٹ: ‏فقر کی دو قسمیں ہیں. ایک فقر حجازی. دوسرا فقر ہندی. 

‏فقر حجازی کی شناخت یہ ہے کہ اس فقر سے، آدمی میں اللہ کی ہی شان بے نیازی پیدا ہوجاتی ہے. یعنی صاحب فقر حجازی کسی انسان کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرتا. اور نہ اللہ کے سوا کسی کو اپنا حاجت روا سمجھتا ہے. 

اس صاحب فقر کا مقام، کافروں کے حق میں اسی طرح پیام موت بن جاتا ہے، جس طرح شہباز قوم چڑیا اور کبوتر کے لیے. یعنی مرد مومن کفار پر اسی آسانی کے ساتھ غالب آسکتا ہے. جس آسانی کے ساتھ شہباز کبوتر پر. 

‏نیز اس فقر سے انسان کی عقل، بوعلی سینا. اور امام فخرالدین رازی (صاحب تفسیر کبیر) کی تصانیت کے مطالعہ کئے بغیر منور ہو جاتی ہے. 

‏اور اگر فطرت میں غلامی کا مادہ موجود نہ ہو (جس کا کوئی علاج نہیں) تو اس کا فقر کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان بت شکن بن جاتا ہے. اور اسے وہی سطوت حاصل ہوجاتی ہے، جو سلطان محمود غزنوی کو حاصل تھی.

یہ مرد مومن، دراصل مردوں کو زندہ کرسکتا ہے. یعنی اس کی صحبت کے فیض سے کافر، مسلمان ہو جاتے ہیں. لیکن اسے نے نوازی چنداں شوق نہیں ہوتا. یعنی وہ اسرافیل کی طرح صور پھونک کر عالم کو تہ بالا نہیں کرتا، بلکہ محض اپنی نگاہ سے انقلاب پیدا کر سکتا ہے اور کرتا ہے یعنی مردوں کو زندہ کر سکتا ہے. دوسرا مطلب اس شعر کا یہ ہوسکتا ہے کہ جو کام اسرافیل، صور سے لیتا ہے مومن یہ کام اپنی نگاہ سے لیتا ہے. بظاہر اس کی نگاہ سے دنیا میں طلاطم برپا ہوجاتا ہے. لیکن دراصل وہ اپنے نگاہ سے بگڑے ہوئے کام بناتا ہے. اور لوگوں کی کارسازی کرتا ہے یعنی اس کا وجود دنیا کے لئے باعث رحمت ہوتا ہے.

جو مسلمان، اس فقر غیور کا مالک ہوتا ہے، وہ اپنی زبان سے وہی کام لے سکتا ہے جو ایک غازی تیر و سناں سے لیتا ہے. 

یعنی غازی اور صاحب فقر دونوں جہاد کرتے ہیں، ایک تلوار سے دوسرا اپنی نگاہ سے اور زبان سے. غازی تلوار سے کفر کا مقابلہ کرتا ہے اور فقیر اپنی نگاہ سے

چنانچہ جو کام شہاب الدین غوری نے تلوار سے کیا وہ ہمارے حضرت خواجہ معین الدین اجمیری سلطان الہند نے نگاہ سے انجام دیا.

‏پس اے نوجوان! جو اللہ سے اس فقیری کے حصول کی دعا کر کیونکہ مومن کے لیے یہی فقیری دراصل امیری ہے. 

‏اقبال نے اس خیال کو اپنی کتابوں میں مختلف طریقوں سے پیش کیا ہے. اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کا نصب العین یہی ہے کہ مسلمان فقر کی طاقت سے حکومت کرے، تاکہ وہ حکومت دنیا کے لیے رحمت بن سکے. اور سچ تو یہ ہے کہ فاروق اعظم کی حکومت، اس لیے اہل عالم کے لئے باعث رحمت تھی. 

‏آں مسلماناں کہ میری کردہ اند
‏درشہنشاہی فقیری کردہ اند

English Translation:

جاوید سے

(1)
غارت گر دیں ہے یہ زمانہ
ہے اس کی نہاد کافرانہ

TO JAVAID
The present age destroys the faith and creed, like pagans has a bent of mind indeed.
دربار شہنشہی سے خوشتر
مردان خدا کا آستانہ

The threshold of a Saint is higher far than court of worldly king or mighty Czar.
لیکن یہ دور ساحری ہے
انداز ہیں سب کے جادوانہ

It is a period full or magic art, with spell so strong all play their part.
سرچشمہ زندگی ہوا خشک
باقی ہے کہاں م ے شبانہ!

The fount and source of life is parched and dry, no more the wine of gnosis can supply:
خالی ان سے ہوا دبستاں
تھی جن کی نگاہ تازیانہ

The Shrines are empty of such saintly folk, whose glance good manners taught with single stroke.
جس گھر کا مگر چراغ ہے تو
ہے اس کا مذاق عارفانہ

The house, your presence illumes like a lamp, has mystic trend in veins and bears its stamp.
جوہر میں ہو ‘لاالہ’ تو کیا خوف
تعلیم ہو گو فرنگیانہ

If essence of God’s Oneness be in heart, the lore or Franks can cause no harm or smart.
شاخ گل پر چہک ولیکن
کر اپنی خودی میں آشیانہ!

On rose twigs chirp, for Ion. there do not rest, in Selfhood you must seek your home and nest
وہ بحر ہے آدمی کہ جس کا
ہر قطرہ ہے بحر بیکرانہ

A man is ocean that is vast and free, its every drop is’ like the boundless sea.
دہقان اگر نہ ہو تن آساں
ہر دانہ ہے صد ہزار دانہ

If peasant is not charmed with life of ease, a seed can yield a thousand-fold increase.
غافل منشیں نہ وقت بازی ست
وقت ہنر است و کارسازی ست
غافل نہ بیٹھ ، یہ کھیل کود کا وقت نہیں، خدا نے انسان کو زندگی بیکار ضائع کرنے کے لیے عطا نہیں کی؛ ضروری ہے کہ علم و ہنر سکھا جائے اور کچھ کر کے دکھایا جائے۔
I don’t sit like sluggards and indulge in play; it is time for your craft and skill’s display.
[Translated by Syed Akbar Ali Shah]
(2)
سینے میں اگر نہ ہو دل گرم
رہ جاتی ہے زندگی میں خامی

If heart with love of God is not replete, the life of man remains quite incomplete.
نخچیر اگر ہو زیرک و چست
آتی نہیں کام کہنہ دامی
زیرک: دانا ، عقلمند۔
کہنہ دامی: جال بچھانے کا پرانا طریقہ۔
If quarry is wise acute and bold, it can not be trapped by hunters old.
ہے آب حیات اسی جہاں میں
شرط اس کے لیے ہے تشنہ کامی
تشنہ کامی: پیاس، مراد ہے طلب۔
The Fount of Life in wordly life is found, provided you have a thirst quite true and soud.
غیرت ہے طریقت حقیقی
غیرت سے ہے فقر کی تمامی
تمامی: کمال۔
طریقت حقیقی: حقیقی راستہ۔
Your envy for Faith is mystic course indeed, for growth of Faqr a lot of zeal you need.
اے جان پدر! نہیں ہے ممکن
شاہیں سے تدرو کی غلامی

My darling son, I see no chance at all that hawk will like to turn a pheasant’s thrall.
نایاب نہیں متاع گفتار
صد انوری و ہزار جامی!

There is no dearth of goods, called verse or, rhyme; there are hundreds of poets much sublime.
ہے میری بساط کیا جہاں میں
بس ایک فغان زیر بامی
زیر بامی: چھت کے نیچے۔
My reach and might in world is this alone that ‘neath the roof I cry, complain and groan.
اک صدق مقال ہے کہ جس سے
میں چشم جہاں میں ہوں گرامی
صدق مقال: حق گویائی، راست گفتاری۔
گرامی: با عزت۔
In speaking truth, I am much hold and frank, in eyes of men I hold a lofty rank.
اللہ کی دین ہے، جسے دے
میراث نہیں بلند نامی
بلند نامی: ناموری، شہرت۔
A son can riot acquire his Sire’s renown, unless His grace by Mighty Lord is shown.
اپنے نور نظر سے کیا خوب
فرماتے ہیں حضرت نظامی
نور نظر: مراد ہے فرزند۔
Nizami, the poet great of Persian tongue, gave counsel wise to son who still was young:
جاے کہ بزرگ بایدت بود
فرزندی من نداردت سود
جہاں تجھے بڑرگی کا درجہ حاصل ہونا چاہیے، وہاں میری فر زندی سے تجھے کوئی فائدہ نہ پہنچے گا (بزرگی ہر انسان کو اپنے عمل و کردار پر موقوف ہے، یہ دوسرے کی نسبت سے حاصل نہیں ہوتی)۔
‘On occasions where your greatness must prevail your lineage there won’t be of much avail’.
[Translated by Syed Akbar Ali Shah]
(3)
مومن پہ گراں ہیں یہ شب و روز
دین و دولت، قمار بازی!

The days and nights a Muslim’s toils enhance both creed and rule are like a game of chance.
ناپید ہے بندہ عمل مست
باقی ہے فقط نفس درازی

Men drunk with zeal for deeds nowhere are found, the rest are fond of talk with idle sound.
ہمت ہو اگر تو ڈھونڈ وہ فقر
جس فقر کی اصل ہے حجازی

If you have courage great and ample force: Seek such Faqr which in Hejaz has its source.
اس فقر سے آدمی میں پیدا
اللہ کی شان بے نیازی

This brand of Faqr such virtues great can grant that make man, like God, free from every want.
کنجشک و حمام کے لیے موت
ہے اس کا مقام شاہبازی
کنجشک و حمام: چڑیا اور کبوتر۔
His hawk-like status can spread general death of sparrows, pigeons all in single breath.
روشن اس سے خرد کی آنکھیں
بے سرمہ بوعلی و رازی

The glance of mind by its means burns and blazes’ without collyrium begged from Avicenna and Rhazes.
حاصل اس کا شکوہ محمود
فطرت میں اگر نہ ہو ایازی
شکوہ: شان و شوکت۔
If temper of Ayaz is free from every slavish trend, like Mahmud can win grandeur which hasn’t end.
تیری دنیا کا یہ سرافیل
رکھتا نہیں ذوق نے نوازی

Your world’s Sarafil has neither taste no zeal, he can’t blow trumpet nor can skill reveal.
ہے اس کی نگاہ عالم آشوب
درپردہ تمام کارسازی

Its glance a world-wide tumult can inspire, in obscure mode sets right the things entire.
یہ فقر غیور جس نے پایا
بے تیغ و سناں ہے مرد غازی

A warrior who can this jealous Faqr attain, without sword and lance great conquests he can gain.
مومن کی اسی میں ہے امیری
اللہ سے مانگ یہ فقیری

It sets the Faithful free from need and want, beg God that such Faqr to you e may grant.
[Translated by Syed Akbar Ali Shah]

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close