(Zarb-e-Kaleem-109) (تخلیق) Takhleeq

تخلیق

جہان تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

سنگ و خشت: پتھر اور اینٹ۔

خودی میں ڈوبنے والوں کے عزم و ہمت نے
اس آبجو سے کیے بحر بے کراں پیدا

وہی زمانے کی گردش پہ غالب آتا ہے
جو ہر نفس سے کرے عمر جاوداں پیدا

خودی کی موت سے مشرق کی سر زمینوں میں
ہوا نہ کوئی خدائی کا رازداں پیدا

ہوائے دشت سے بوئے رفاقت آتی ہے
عجب نہیں ہے کہ ہوں میرے ہم عناں پیدا


اقبال کہتے ہیں کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ آرٹسٹ (فنکار) نئے تصورات پیدا کرے. اگر کوئی فنکار، محض دوسروں کے خیالات کی تقلید کرتے ہے. جسے شاعری کی اصطلاح میں سرقہ کہتے ہیں اور وہی فرسودہ خیالات اپنے لفظوں میں پیش کرتا ہے تو اسے تخلیق نہیں کہہ سکتے اور اگر کسی کو ان کے فنکار، صفت تخلیق سے بہرہ ور نہیں تو وہ قوم دنیا میں کوئی ترقی نہیں کرسکتی. چنانچہ کہتے ہیں کہ.

اگر تم نئی دنیا پیدا کرنا چاہتے ہو یعنی انسانی معاشرہ کے لئے کوئی نیا نظام بنانا چاہتے ہو جس سے قوم کو فائدہ پہنچے، تو دنیا کے سامنے نئے خیالات پیش کرو اور یاد رکھو کہ نئی دنیا، اینٹ اور پتھر کے مکان بنانے سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ نئے افکار سے پیدا ہوتی ہے. چنانچہ جن لوگوں نے اپنی خودی کی معرفت حاصل کی. انہوں نے اس چھوٹی سی ندی (خودی) سے وسیع سمندر پیدا کردئے یعنی دنیا میں بڑے بڑے انقلاب پیدا کر دئے.

وہی شخص اس دنیا میں ابدی زندگی حاصل کرسکتا ہے جو اپنی اچھوتی قوت فکر سے گی عرفانی کارنامہ انجام دے مثلاً جن لوگوں نے علوم و فنون میں نئی راہ نکالی ہیں یا ان کی مدد سے نئی چیزیں پیدا کی ہیں ان کا نام قیامت تک زندہ رہے ہے جب سے مشرقی اقوام خصوصا مسلمانوں کی خودی مردہ ہو گئی ہے انہوں نے کوئی چیز نئی چیز پیدا نہیں کی

“ہوا نہ کوئی خدائی کا رازداں پیدا”

اس مصرع میں اقبال نے اپنے نظریہ کا اظہار کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر انسان، علم و فن میں ترقی کرے اور تحقیق اجہتاد سے کام لے تو وہ مجازی طور پر، گویا خدائی کا رازداں بن جاتا ہے، یعنی جس طرح خدا، نئی نئی چیزیں پیدا کرتا رہتا ہے وہ بھی اپنی محدود طاقت کے مطابق نئی نئی چیزیں پیدا کرتا رہتا ہے اس کو شاعرانہ رنگ میں اقبال نے خدائی کے رازداں ہونے سے تعبیر کیا ہے.

اقبال کی رائے میں اسلام ایسا دین ہے جو انسان کے اندر تخلیق کی شان پیدا کر سکتا ہے چنانچہ قرون اولی کے مسلمانوں نے قرآن حکیم کی آیات میں تدبر اور تفکر سے کام لے کر اپنے اندر صفت پیدا کر لی تھی اور تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے ہر فن میں ایجادات کیں لیکن جب وہ لکیر کے فقیر بن گئے اور جب انہوں نے عقل سے کام لینا چھوڑ دیا تو یہ صفت ان سے زائل ہوگئی. چنانچہ ان کی گزشتہ چھ سوسال کی زندگی اس پر گواہ ہے یعنی انہوں نے گزشتہ چھ سو سال میں، کوئی نئی چیز پیدا نہیں کی. اور آج جس قدر ایجادات اور اختراعات ہمارے سامنے موجود ہیں یہ سب کی سب مغربی اقوام کی قوت تخلیق کے ثمرات ہیں.

لیکن میں اپنی قوم سے ناامید نہیں ہوں مجھے مسلمانوں میں زندگی کے آثار نظر آرہے ہیں، انہیں یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ ہم زندگی کے ہر شعبہ میں، مغربی اقوام سے پیچھے ہیں. کوئی تعجب کی بات نہیں اگر مسلمان بھی میری نصیحت پر عمل کرکے اپنے اندر تخلیق کی قوت پیدا کرلیں.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: