(Zarb-e-Kaleem-110) (جنون) Junoon

جنوں

زجاج گر کی دکاں شاعری و ملائی
ستم ہے، خوار پھرے دشت و در میں دیوانہ!

زجاج گر: شیشہ بنانے والے۔

کسے خبر کہ جنوں میں کمال اور بھی ہیں
کریں اگر اسے کوہ و کمر سے بیگانہ

کوہ و کمر: پہاڑ اور دامن پہاڑ۔

ہجوم مدرسہ بھی سازگار ہے اس کو
کہ اس کے واسطے لازم نہیں ہے ویرانہ


اس نظم میں اقبال نے قوم کو اپنے اندر جنون کا رنگ پیدا کرنے کی تلقین کی ہے. جنون اقبال کی اصطلاح ہے اور اس کا مطلب ہے انسان کے اندر اپنی خودی کو مرتبہ کمال پر پہنچانے کا جنون یا شدید جذبہ۔ چنانچہ وہ مثنوی

” پس چہ باید” کرو میں جنون کی تعریف ان لفظوں میں کرتے ہیں. 

ہیچ قومے زیر چرغ لاجورد
بے جنون ذوفنون کارے نکرد

اقبال کو اپنی قوم سے ساری شکایت یہی تو ہے کہ وہ بطی اس جنون سے بیگانہ ہوگئی ہے. اور اسی لیے دنیا میں ذلیل وخوار ہے. یہ جنون کیا ہے؟ صفت عشق کا خارجی مظہر ہے. عشق کے لیے نصب العین (آئیڈیل) لازمی ہے اور وہ نصب العین، ذات سالتماب ہے. صلی اللہ علیہ وسلم، اور اس کے حصول کا ذریعہ اتباع سیرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہے اور اتباع کے لیے صحبت مرشد شرط ہے. اس لیے اقبال نے صحبت مرشد کو ضروری قرار دیا ہے. چنانچہ فرماتے ہیں.

دیں مجواندر کتب اے بے خبر
علم وحکمت ازکتب دیں ازنظر

ہماری تمام کتابیں، ہمارا تمام سرمایہ ادبیات ہماری شاعری۔

ہمارے ملاؤں کا نصاب تعلیم اور ان کا طریق زندگی جس میں تحقیق کو مطلق دخل نہیں. یہ سب شیشہ گروں کی دکانیں ہیں. لیکن افسوس ہماری قوم میں کوئی دیوانہ فرزانہ ایسا نہیں جوان شیشوں کو چکنا چور کر دے اور جنہیں یہ اہلیت ہے وہ کس مپرسی کے عالم میں گوشہ گمنامی میں زندگی بسر کر رہے ہیں. افسوس قوم اس حقیقت سے آگاہ نہیں کہ اگر وہ ان لوگوں کی صحبت اختیار کرے تو وہ اپنی روحانیت سے قوم کے اندر انقلاب پیدا کر سکتے ہیں.

‏یہ جنون صرف حجروں ہی میں نہیں مدرسہ میں بھی پیدا ہوسکتا ہے اس کے لیے یہ شرط نہیں کہ مسلمان گھر بار چھوڑ کر صحرانوردی اختیار کرلیں مسلمان شوق سے دنیاوی علوم حاصل کریں لیکن اپنی زندگی کا کچھ حصہ ان دیوانوں (اللہ والوں) کی صحبت میں بھی بسر کریں تو ان کے فیض صحبت سے ان کے اندر بھی رنگ جنوں پیدا ہو سکتا ہے.

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close