(Zarb-e-Kaleem-111) (اپنے شعر سے) Apne Shair Se

اپنے شعر سے

ہے گلہ مجھ کو تری لذت پیدائی کا
تو ہوا فاش تو ہیں اب مرے اسرار بھی فاش

شعلے سے ٹوٹ کے مثل شرر آوارہ نہ رہ
کر کسی سینہ پر سوز میں خلوت کی تلاش


 

اس مختصر نظم میں اقبال نے خود اپنی شاعری سے خطاب کیا ہے کہتے ہیں کہ میں نے جو شاعری کی تو تحسین و آفرین حاصل کرنے کے لیے نہیں کی بلکہ میری طبیعت کا اقتضاء یہی ہے کہ میں شعر کہوں. چونکہ شعر گوئی کا یہ جذبہ فطری تھا. اس لیے میرے اسرار یعنی جذبات دوسرں پر عیاں ہوگئے

پس میں چاہتا ہوں کہ میرا کلام جو میرے قلب کی گہرائیوں سے نکلا ہے ضائع نہ ہو جائے بلکہ میری آرزو یہ ہے کہ اسی سینہ پر سوزو میں جگہ حاصل کر سکے. یعنی میں نے شعر کے پردے میں قوم کو سربلندی کا راز بتایا ہے اس لیے میری آرزو ہے کہ میری قوم میرے کلام کو غور سے پڑھے اور اس پر عمل کرے.

“کر کسی سینہ پرسوز میں خلوت کی تلاش”

یہ مصرع اقبال کی دلی آرزو کا آئینہ دار ہے. وہ چاہتے تھے کہ قوم انہیں محض شاعر نہ سمجھ لے. بلکہ ان کے پیام کو حرزِ جاں بنائے لیکن افسوس کے ابھی تک تو ان کی یہ آرزو پوری ہوئی نہیں. چنانچہ خدان کو بھی مرنے سے پہلے یہ تلخ احساس ہو گیا تھا کہ قوم نے ان کو بھی شاعروں کی صف میں داخل کردیا اور اسی لئے انہوں نے قوم کی اس ناقدری کی شکایت سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تھی.

من اے میرا مم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داواز تو خواہم
مرایاراں غزلخوانے شہردند

‏نوٹ: ‏ حقیقت یہ ہے کہ اقبال کا سب سے بڑا قصور یہ تھا کہ وہ ایک مردہ قوم میں پیدا ہوئے. کہیں مردے بھی سنا کرتے ہیں.

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close