(Zarb-e-Kaleem-112) (پیرس کی مسجد) Paris Ki Masjid

پیرس کی مسجد

مری نگاہ کمال ہنر کو کیا دیکھے
کہ حق سے یہ حرم مغربی ہے بیگانہ

حرم نہیں ہے، فرنگی کرشمہ بازوں نے
تن حرم میں چھپا دی ہے روح بت خانہ

یہ بت کدہ انھی غارت گروں کی ہے تعمیر
دمشق ہاتھ سے جن کے ہوا ہے ویرانہ


 

واضع ہو کہ فرانس نے گزشتہ پچاس سال سے مسلمان قوم کو غلام بنانے پر کمر باندھ رکھی ہے. چنانچہ جنگ عظیم اول پہلے، اس دشمن اسلام نے مراکو الجریا اور ٹیونس کو زیر نگیں کیا، اور جنگ عظیم کے بعد شام پر تسلط قائم کیا اور ان ملکوں کے مسلمانوں کو مٹانے کے لیے اپنی ساری طاقت صرف کردی. ایک طرف تو یہ ظالمانہ طرز عمل ردارکھا دوسری طرف مسلمانان کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے پیرس میں ایک مسجد تعمیر کی،چونکہ اس مسجد کی تعمیر ناپاک مقاصد کی تکمیل کے لیے کی گئی اس لیے اقبال نے غیرت ملی متاثر ہوکر یہ سپرد قلم کی.

کہتے ہیں کہ میں اہل فرانس کے کمال فن تعمیر کی کیسے دادے سکتا ہوں. مسجد جو انہوں نے پیرس میں بنائی ہے. اس کی بنیاد سچائی پر نہیں رکھی گئی. یہ مسجد نہیں ہے بلکہ فرنگی شعبدہ بازوں نے مسجد کی شکل میں تخجانہ تعمیر کیا ہے. تاکہ مسلمان ان کی اسلام دوستی کے دھوکہ میں آجائیں.

کیونکہ یہ بت کدہ انہی غار تگروں نے تعمیر کیا ہے. جنہوں نے دمشق کو جو مسلمان کا مرکز تھا، تباہ کردیا. اگر انہیں اسلام یا مسلمانوں سے ہمدردی ہوتی تو وہ دمشق کو ویران نہ کرتے. پس ان کا یہ فعل کسی طرح لائق ستائیش نہیں ہے. انہوں نے یہ مسجد بنائی، مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: