(Zarb-e-Kaleem-114) (نگاہ) Nigah

نگاہ

بہار و قافلہ لالہ ہائے صحرائی 
شباب و مستی و ذوق و سرود و رعنائی!

اندھیری رات میں یہ چشمکیں ستاروں کی 
یہ بحر، یہ فلک نیلگوں کی پہنائی!

چشمکيں ستاروں کي: ستاروں کی جگمگاہٹ۔

سفر عروس قمر کا عماری شب میں 
طلوع مہر و سکوت سپہر مینائی!

عروس قمر: چاند کی دلہن۔
عماري: ہاتھی کا ہودہ ، اونٹ کا کجاوہ۔

نگاہ ہو تو بہائے نظارہ کچھ بھی نہیں 
کہ بیچتی نہیں فطرت جمال و زیبائی

 


اس نظم کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کی رنگارنگیوں اور فطرت کی نعمتوں سے لذت اندوز ہونے کے لئے مال و دولت کی ضرورت نہیں بلکہ نگاہ کی ضرورت ہے. ایسی نگاہ جو فطرت کے حسن و جمال کی قدر کرسکے. نگاہ سے مراد ہے مظاہر فطرت کی تحسین کا ملکہ یا سلیقہ.

کہتے ہیں کہ بہار کا موسم، باغوں میں ہر قسم کے پھول، عالم شباب، ذوق فنون لطیفہ، حسن و جمال جو مظاہر فطرت میں پایا جاتا ہے. چاندنی رات، نیلا سمندر تاروں سے جگمگاتا ہوا آسمان، چاندکاسفر، آفتاب کا طلوع، یہ سب چیزیں بڑی دلکش ہیں بشر طلیکہ نگاہ ہو. اور فطرت نے یہ دلکشی ہمارے لئے بالکل مفت مہیا کی ہے. اس سے لرزت اندوز ہونے کے لیے صرف نگاہ کی ضرورت ہے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: