(Zarb-e-Kaleem-115) (مسجد قوت الاسلام) Masjid-e-Quwwat-ul-Islam

مسجد قوت الاسلام

ہے مرے سینہ بے نور میں اب کیا باقی
‘لاالہ’ مردہ و افسردہ و بے ذوق نمود

بے ذوق نمود: اظہار کے ذوق کا نہ ہونا۔

چشم فطرت بھی نہ پہچان سکے گی مجھ کو
کہ ایازی سے دگرگوں ہے مقام محمود

دگرگوں: منتشر۔
ايازي: غلامی۔

کیوں مسلماں نہ خجل ہو تری سنگینی سے
کہ غلامی سے ہوا مثل زجاج اس کا وجود

مثل زجاج: شیشے کی مانند۔

ہے تری شان کے شایاں اسی مومن کی نماز
جس کی تکبیر میں ہو معرکہ بود و نبود

بود و نبود: ہستی و نیستی۔

اب کہاں میرے نفس میں وہ حرارت، وہ گداز
بے تب و تاب دروں میری صلوہ اور درود

بے تب و تاب دروں: اندرونی تڑپ اور گرمی کے بغیر۔

ہے مری بانگ اذاں میں نہ بلندی، نہ شکوہ
کیا گوارا ہے تجھے ایسے مسلماں کا سجود؟

شکوہ: دبدبہ۔


…… میں جب مسلمانوں نے دلی فتح کی تو کچھ عرصہ کے بعد انہوں نے رائے پتھورا کے قلعہ میں ایک عظیم الشان مسجد کی بنیاد رکھی جس کا ایک منار آج قطب مینار کے نام سے مشہور ہے. اگرچہ یہ مسجد پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکی لیکن اس حالت میں بھی، مضبوطی اور عظمت کے لحاظ سے دیکھنے والوں کو متاثر کر سکتی ہے. چنانچہ اقبال نے اس نظم میں اسی عظمت اور استواری کا نقشہ کھینچا ہے کہتے ہیں کہ

احکام الٰہی سے روگردانی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ میری قوم کا سینہ نور اسلام سے بالکل خالی ہوچکا ہے افراد محض زبان سے لا الہ اللہ کہہ لیتے ہیں لیکن اس کلمہ کا ان کی زندگی پر کوئی اثر مرتب نہیں کرتا. صدیوں کی غلامی سے مسلمانوں کی حالت اس قدر بدل چکی ہے کہ فطرت بھی، اگرچہ اس سے بہت تیز ہے، ان کو نہیں پہچان سکتی.

اے مسجد! جب میں مسلمانوں کے ضعف اور تیرے استحکام پر غور کرتا ہوں تو شرم سے پانی پانی ہوجاتا ہوں. افسوس! ایک مسلمان وہ تھے، جنہوں نے تجھے بتایا، اور ایک مسلمان ہم ہیں تیری حفاظت بھی نہیں کرسکتے.

اے مسجد مجھے تو تیرے اندر نماز پڑھتے ہوئے بھی شرم آتی ہے، میری رائے میں صرف مسلمان تیرے اندر نماز پڑھ سکتا ہے جس کی تکبیروں سے کفر نیت ہو جائے.

افسوس! مسلمانوں کے اندر نہ اب وہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے. اور نہ وہ غیرت ملی ہے، نہ وہ سوزو گذار ہے، اور نہ ان کی نمازوں میں وہ خلوص ہے، اور نہ ان کے درود میں وہ حرارت ہے جو کسی زمانہ میں ان کی زندگی کا طغرائے امتیاز تھی.

بے شک وہ اذانیں بھی دیتے ہیں لیکن اب ان کی اذانوں میں نہ عظمت ہے نہ ہیئت نہ بلندی شکوہ حقیقت یہ ہے کہ اب مسلمان اس قابل ہی نہیں کہ اس مسجد میں سجدہ کر لیں.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: