(Zarb-e-Kaleem-116) (تیاتر) Tiyatar

تیاتر

تری خودی سے ہے روشن ترا حریم وجود
حیات کیا ہے، اسی کا سرور و سوز و ثبات

تياتر: تماشا گاہ، تھیٹر۔

بلند تر مہ و پرویں سے ہے اسی کا مقام
اسی کے نور سے پیدا ہیں تیرے ذات و صفات

حریم تیرا، خودی غیر کی ! معاذاللہ
دوبارہ زندہ نہ کر کاروبار لات و منات

معاذاللہ: خدا کی پناہ۔

یہی کمال ہے تمثیل کا کہ تو نہ رہے
رہا نہ تو تو نہ سوز خودی، نہ ساز حیات

تمثيل: ادا کاری۔


اس نظم میں اقبال نے تھیڑ پر تنقید کی ہے. کہ یہ فن، انسانی خودی کی تربیت کے لئے بہت مضرت رساں ہے. کیونکہ اس کا کمال یہ ہے کہ انسان نقل بن جائے. اور نقلی میں کمال اس وقت حاصل ہوسکتا ہے جب ایکٹر اپنے خودی سے بیگانہ ہو جائے.

اے انسان! اس حقیقت پر غور کر کہ تیرا حریم وجود، صرف تیری خودی سے منور ہوسکتا ہے. تیرے وجود کا انحصار تیری خودی پر ہے. اگر خودی مردہ ہوجائے تو تو مردہ ہوجائے گا.

اور یہ حیات کیا ہے؟ یہ اسی خودی کے سرور، سوزوگداز اور اثبات وقیام کا دوسرا نام ہے.

جو چیز تجھ کو اشرف المخلوقات بناتی ہے، اور مہ وپرویں سے اونچا مرتبہ عطا کرتی ہے وہ خود یہی تو ہے! اور تیری ذات صفات تیری خودی کے نور سے پیدا ہوتی ہیں.

اندریں حالات، کیا یہ افسوسناک بات نہیں کہ تو اس قدر بیوقوف ہو جائے کہ حریم تیرا اور خودی غیر کی! جب تو نے اپنی شخصیت میں غیر کی خودی داخل کردی، تو، تو باقی ہی کہاں رہا؟ یہ تو بت پرستی کی دوسری شکل ہے. پس اے انسان! تو ایکٹنگ (تمثیل) کا پیشہ اختیار کرکے، لات ومنات کی پرستش کا سلسلہ دوبارہ زندہ مت کر غور کر کہ ایکٹنگ کا کمال یہی تو ہے کہ تو باقی نہ رہے اور وہ شخص بن جائے، جس کا پارٹ تو اسٹیج پر ادا کر رہا ہے. پس جو ایکٹنگ کا کمال ہے وہ تیری شخصیت کےلیے باعث زوال ہے. جب تو نہ رہا بلکہ اسٹیج پر “سکندر اعظیم” شاہبہان بن گیا تو پھر نہ تیری خودی کا سوز باقی رہا نہ تیری زندگی کا ساز.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: