(Zarb-e-Kaleem-117) (شعاع امید) Shua-e-Umeed

شعاع امید

سورج نے دیا اپنی شعاعوں کو یہ پیغام
دنیا ہے عجب چیز، کبھی صبح کبھی شام

مدت سے تم آوارہ ہو پہنائے فضا میں
بڑھتی ہی چلی جاتی ہے بے مہری ایام

نے ریت کے ذروں پہ چمکنے میں ہے راحت
نے مثل صبا طوف گل و لالہ میں آرام

پھر میرے تجلی کدہ دل میں سما جاو
چھوڑو چمنستان و بیابان و در و بام

در و بام: دیواریں اور چھت، مراد ہے آبادیاں۔

آفاق کے ہر گوشے سے اٹھتی ہیں شعاعیں
بچھڑے ہوئے خورشید سے ہوتی ہیں ہم آغوش

اک شور ہے، مغرب میں اجالا نہیں ممکن
افرنگ مشینوں کے دھویں سے ہے سیہ پوش

سيہ پوش: کالا لباس پہنے، مراد اندھیرے میں لپٹا۔

مشرق نہیں گو لذت نظارہ سے محروم
لیکن صفت عالم لاہوت ہے خاموش

عالم لاہوت: وہ جہان ، جہاں خدا کے سوائے کوئی اور نہیں۔

پھر ہم کو اسی سینہ روشن میں چھپا لے
اے مہر جہاں تاب ! نہ کر ہم کو فراموش

اک شوخ کرن، شوخ مثال نگہ حور
آرام سے فارغ، صفت جوہر سیماب

سيماب: پارہ۔

بولی کہ مجھے رخصت تنویر عطا ہو
جب تک نہ ہو مشرق کا ہر اک ذرہ جہاں تاب

تنوير: روشن۔

چھوڑوں گی نہ میں ہند کی تاریک فضا کو
جب تک نہ اٹھیں خواب سے مردان گراں خواب

گراں خواب: گہری نیند ۔

خاور کی امیدوں کا یہی خاک ہے مرکز
اقبال کے اشکوں سے یہی خاک ہے سیراب

خاور: مشرق۔

چشم مہ و پرویں ہے اسی خاک سے روشن
یہ خاک کہ ہے جس کا خزف ریزہ درناب

درناب: سچا موتی۔

اس خاک سے اٹھے ہیں وہ غواص معانی
جن کے لیے ہر بحر پر آشوب ہے پایاب

بحر پر آشوب: طوفانی سمندر۔
پاياب: جس میں سے پیدل گزرا جا سکے۔

جس ساز کے نغموں سے حرارت تھی دلوں میں
محفل کا وہی ساز ہے بیگانہ مضراب

بت خانے کے دروازے پہ سوتا ہے برہمن
تقدیر کو روتا ہے مسلماں تہ محراب

مشرق سے ہو بیزار، نہ مغرب سے حذر کر
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر

حذر: پرہیز، بچاؤ۔


اس دلپزیر تمثیلی نظم میں اقبال نے، ہندوستان کے باشندوں کو رجائیت کی تعلیم دی ہے اور نصیحت کی ہے کہ مایوس نہیں ہونا چاہیے. انشاءاللہ ضرور تاریکی دور ہوگی، ناامید ہوجانا سب سے بڑا گناہ ہے کیونکہ اس کے بعد، ترقی کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی.
سورج نے اپنی شعاعوں سے یہ کہا کہ اگرچہ تم عرصہ دراز سے دنیا اور دنیا والوں پر فیضان کی بارش کر رہی ہوں لیکن وہ تمہاری کوئی قدر نہیں کرتے تم مدتوں سے فضا میں آوارہ ہو لیکن دنیا والے تمہارے ساتھ بے مہری کا سلوک کر رہے ہیں.

نہ تمہیں ریت کے ذروں پر چمکنے میں راحت ہے. نہ پھولوں کا طواف کرنے سے کوئی فائدہ ہے. اس لیے تم سب کی سب چمنستان و بیابان باغات پر فیض سماوی نازل کرنا بند کر دو اور میری آغوش میں واپس آ جاؤ. خلاصہ یہ کہ جب دنیا تمہاری قدر نہیں کرتی تو تم بھی دنیا کو فائدہ پہنچانا چھوڑ دو.یہ پہلا حصہ، سورج کی ناامیدی کا بیان کرتا ہے. چنانچہ شعاعیں آفتاب کے حکم کی تعمیل کرتی ہیں.
اور دنیا میں مایوسی اور ناامیدی کا رنگ پیدا ہوتا جاتا ہے ہر شخص ترقی کے امکانات سے مایوس ہو کر کہتا ہے کہ‏ مغرب میں اجالا ممکن نہیں ہے یعنی مغربی قومیں مادہ پرستی میں اس درجہ منہمک ہو چکی ہیں اب ان کی نجات کی کوئی امید نہیں ہے. انہوں نے اللہ سے منہ موڑ کر، مشینوں کو اپنا سہارا بنا لیا ہے اور صرف مادی ترقی کو مقصد حیات سمجھ لیا ہے.
‏اب رہیں مشرقی قومیں، تو اگرچہ وہ تاریکی میں نہیں ہیں اور لذت نظارہ سے لطف اندوز ہورہی ہیں یعنی ان کا ایمان خدا پر ضرور ہے. لیکن ان میں کوئی حرکت یا جدوجہد نظر نہیں آتی.

‏خلاصہ یہ کہ مغربی اقوام، ایمان سے مشرقی اقوام عمل سے محروم ہیں اندریں حالات شعاعوں نے سورج سے کہا کہ آفتاب واقعی اس دنیا میں ہمارا چمکنا بے سود ہے تو ہم کو ضرور اپنے سینہ اور سینہ میں پوشیدہ کرلے.

جب شعاعوں نے یہ بات آفتاب کی خدمت میں عرض کی تو ایک شعاع نے، جو چمک میں تو حور کی آنکھ کو شرماتی تھی اور بیتابی میں سیماب سے بھی بڑھی ہوئی تھی، آفتاب سے عرض کی کہ اہل عالم کی بہبود سے ناامید نہیں ہوں. اس لئے جب تک، مشرقی ممالک مغربی اقوام کی گرفت سے آزاد نہ ہوجائیں میں برابر اپنی روشنی سے ناامیدی گیا اندھیرے کو دور کرتی رہوں گی.

اور جب تک ہندستانی بیدار نہیں ہو جائیں گے میں ہندوستان کی تاریک فضا کو ترک نہیں کروں گی. بلکہ نہایت استقبال کے ساتھ اس تاریک فضا میں لوگوں کو امید کا پیغام دیتی رہوں گی، کیونکہ ہندوستان تمام ایشیائی اقوام کی امیدوں کا مرکز ہے. اور اقبال نے اسی سرزمین کو اپنے اشکوں سے سیراب کیا ہے اور اسی ملک کے باشندوں کی انسانیت کے مقام پر پہنچنے کا پیغام دیا ہے.

اسی ملک کی خاک سے، چاند اور پروین کی آنکھیں روشن ہیں اور اسی ملک کا ہر سنگریزہ، موتی سے بھی بڑھ کر قیمتی ہے. اس سر زمین نے بڑے بڑے فلاسفہ اور حکماء پیدا کیے ہیں. افسوس ایک زمانہ تھا کہ ہندوستان کی محفل میں مذہب کا ساز بڑی دلکشی کے ساتھ بجتا رہتا تھا اور ہندو اور مسلمان دونوں اپنے اپنے مذہب کے پرستار تھے اور دلوں میں خوف خدا رکھتے تھے.

لیکن اب یہ کیفیت ہے کہ برہمن تو بت خانہ کے دروازہ پر سو رہا ہے اور مسلمان مسجد کے اندر اپنی تقدیر کو رو رہا ہے. ایک غافل ہے دوسرا عمل سے بیگانہ ہے نتیجہ ان دونوں صورتوں کا ایک ہی ہے. یعنی اغیار کی غلامی.

پس میں تو مشرقی اقوام سے نہ امید ہوں نہ مغربی اقوام سے، بلکہ دونوں کو راہ راست دکھاؤں گی.

اس نظم کا مطلب یہ ہے کہ اقبال مسلمان کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ اٹھو! مایوسی کے جال سے نکلو اور مشرق اور مغرب دونوں کو اسلام کا زندگی بخش پیگام پہنچا. کیونکہ اسلام ہی وہ سچا دین ہے جو مشرق اور مغرب کے تمام امراض کا مدادا حاصل کر سکتا ہے.

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close