(Zarb-e-Kaleem-118) (امید) Umeed

امید

مقابلہ تو زمانے کا خوب کرتا ہوں
اگرچہ میں نہ سپاہی ہوں نے امیر جنود

جنود: فوج کی جمع۔

مجھے خبر نہیں یہ شاعری ہے یا کچھ اور
عطا ہوا ہے مجھے ذکر و فکر و جذب و سرود

جبین بندہ حق میں نمود ہے جس کی
اسی جلال سے لبریز ہے ضمیر وجود

یہ کافری تو نہیں، کافری سے کم بھی نہیں
کہ مرد حق ہو گرفتار حاضر و موجود

غمیں نہ ہو کہ بہت دور ہیں ابھی باقی
نئے ستاروں سے خالی نہیں سپہر کبود

سپہر کبود: نیلا آسمان۔


اس نظم میں اقبال نے مسلمانوں کو دوسرے انداز سے رجائیت کا پیغام دیا ہے. اقبال کا فلسفہ یہ ہے کہ یہ دنیا، محض عناصر کا کھیل نہیں ہے. اس کی تخلیق بلا مقصد نہیں ہوئی ہے، اگرچہ بعض پہلوؤں سے ہمیں اس میں نقائص نظر آتے ہیں. لیکن بحیثیتِ مجموعی یہ دنیا بہتری کی طرف حرکت کر رہی ہے.
اقبال نہ تو یہ کہتے ہیں کہ یہ دنیا مصیبت کا گھر ہے اور اس میں سراسر بدی ہی بدی ہے اس لیے اصلاح کی کوشش بے سود ہے. اس نظریہ کو فلسفہ کی اصطلاح میں قنوطیت کہتے ہیں.
اور نہ یہ کہتے ہیں کہ دنیا سراسر خیروبرکت ہے کہیں کوئی نقص یا برائی نہیں ہے اس لیے اصلاح کی کوئی ضرورت نہیں اس کی رجائیت یعنی (optimism) کہتے ہیں.

بلکہ اس کی پوزیشن ان دونوں مذہبوں کے بین بین ہے. یعنی یہ کہتے ہیں چونکہ اللہ نے یہ دنیا ایک مقصد کے لیے بنائی ہے اس لیے بتدریج اصطلاح پذیر ہے. اور انجام کا نیکی، بدی پر غالب آجائے گی. یہ بھی رجائیت ہی کی ایک قسم ہے اور اسے فلسفہ کی اصطلاح میں کہتے ہیں. جس کے لیے ابھی تک اردو میں کوئی خاص اصطلاح واضح نہیں کی گئی ہے.
‏کہتے ہیں کہ اگرچہ میں نہ سپاہی ہوں نہ فوج کا سردار ہوں لیکن اللہ کے فضل و کرم اور ان پر جو اس نے قرآن مجید میں مومنوں سے کیے ہیں، یقین رکھتا ہوں اس لئے باوجود بے سروسامانی زمانہ کی پیدا کردہ مشکلات کا خوب مقابلہ کرتا ہوں.

لوگ کہتے ہیں میں شاعر ہوں. ممکن ہے یہ بات صحیح ہو. میں تو اتنا جانتا ہوں کہ فطرت نے مجھے ذکر وفکر. اور جذب وسرور عطا کیا ہے اور میں انہیں چاروں عطیات فطرت کو کلام موزوں کے ذریعہ سے دنیا کے سامنے پیش کرتا رہتا ہوں.

بندہ حق یعنی مرد مومن کی پیشانی سے جو جلال ٹپکتا ہے، وہ صرف اس کی پیشانی میں محدود نہیں ہے، بلکہ ضمیر وجود اسی جلال سے لبریز ہے. یعنی کائنات کے ہر ذرہ میں وہ جلال پوشیدہ ہے. (کیونکہ موجودہ) اسی صفت جلال پر موقوف ہے، اے مسلمان! تو اللہ کی صفت تخلیق کا مشاہدہ ہر ذرہ میں کر سکتا ہے.

دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ چونکہ جلال، وجود کی اصل ہے ضمیر وجود کے معنی ہیں وجود کی اصل حقیقت اس لیے اگر تو، اپنے وجود کو دنیا پر واضح کر دے، دنیا والوں کو اپنے وجود کا یقین دلادے تو تیرے اندر بھی شان جلال پیدا ہوسکتی ہے. یعنی تو بھی بندہ مومن بننےکی کوشش کر.

میں اسے کافری تو نہیں کہہ سکتا لیکن میری نظر یہ بات کفر سے کم بھی نہیں کہ مسلمان جسے مرد حق ہونا چائیے. اللہ سے غافل ہوکر حاضر موجود کا غلام ہوجائے یعنی دنیا کی دلچسپیوں اور نعمتوں کی طرف متوجہ ہوکر اپنی حیات کے مقصد سے غافل ہو جائے. اس کو ایک مثال سے واضح کردوں. فرض کیجئے آپ نے اپنے ملازم کو باغ کی حفاظت کے لیے مقرر کیا لیکن جب وہ نگرانی کر رہا تھا اسے ایک عورت دکھائی اور وہ مستقبل کے انعامات اور آقا کی یعنی آپ کی خوشنودی کی گراں بہادولت سے غافل ہوکر بلکہ اپنے مقصد حیات نگرانی سے غافل ہو کر، اس کی محبت میں گرفتار ہو گیا. اور باغ کو اللہ پر چھوڑ کر اس کے حصول میں مہنمک ہو گیا اور جب وہ باغ سے چلا گیا تو لوگوں نے پھل چرائے اور جانوروں نے پودوں کو پامال کردیا تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ شخص گرفتار حاضر موجود ہو گیا.

اے مسلمان! اگر تیرے ہاتھ سے حکومت ہی نکل گئی تو رنجیدہ مت ہو، کیونکہ دولت اور حکومت، کسی قوم کی موروثی ملکیت نہیں ہے. انشاءاللہ نیا دور آنے والا ہے ایسا دور جس میں تجھے پھر یہ دولت گم کشتہ مل جائے گی. پس تو ہمت نہ ہار. ترقی کے لئے کوشش کیے جا.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: