(Zarb-e-Kaleem-119) (نگاہ شوق) Nigah-e-Shauq

نگاہ شوق

یہ کائنات چھپاتی نہیں ضمیر اپنا
کہ ذرے ذرے میں ہے ذوق آشکارائی

آشکارائي: ظاہر ہونا۔

کچھ اور ہی نظر آتا ہے کاروبار جہاں
نگاہ شوق اگر ہو شریک بینائی

اسی نگاہ سے محکوم قوم کے فرزند
ہوئے جہاں میں سزاوار کار فرمائی

کار فرمائي: حکومت۔
سزاوار: حقدار۔

اسی نگاہ میں ہے قاہری و جباری
اسی نگاہ میں ہے دلبری و رعنائی

اسی نگاہ سے ہر ذرے کو، جنوں میرا
سکھا رہا ہے رہ و رسم دشت پیمائی

دشت پيمائي: بیابان میں پھرنا۔


نگاہ شوق میسر نہیں اگر تجھ کو
ترا وجود ہے قلب و نظر کی رسوائی


اس دل کش نظم میں اقبال نے نگاہ شوق یا جذبہ عشق کے ثمرات بیان کئے ہیں. اس نظم کا خلاصہ یہ ہے. کہ اگر کوئی مسلمان، عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار ہو کر اپنی خودی کو مرتبہ کمال پر پہنچائے تو پہلے اس کے اندر ایک انقلاب رونما ہو جاتا ہے پھر وہ دنیا میں انقلاب پیدا کر دیتا ہے اقبال نے اس حقیقت کو بار بار واضح طور پر بیان کیا ہے کہ جب تک مسلمان اپنے ضمیر کی گہرائیوں میں انقلاب پیدا نہیں کریں گے وہ دنیا میں کوئی انقلاب برپا نہیں کرسکتے. چنانچہ کہتے ہیں کہ

اس کائنات کی تخلیق اس نہج پر ہوئی ہے. کہ اس کی باطنی خوبیاں ہر وقت ظاہر ہوتی رہتی ہیں. ہر شئے اپنے مقام کو حاصل کرنا چاہتی ہیں اور اقبال نے اس مقام کے حصول کی کوشش کو ذوق آشکارائی سے تعبیر کیا ہے.

پس اگر نگاہ شوق بھی شریک بینائی ہو جائے یعنی اگر مسلمان عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بدولت اپنی باطنی حس کو جسے اصطلاح میں بصیرت کہتے ہیں، بیداری کرلے تو اسے یہ دنیا صرف عناصر کا کھیل نظر نہیں آئے گی بلکہ وہ اس حقیقت سے آگاہ ہو جائے گا کہ یہ کائنات اس لئے پیدا کی گئی ہے کہ مومن اس کو آپنے تصرف میں لاکر اس میں اللہ کے قانون کو نافذ کرے اور اس طرح اس دنیا کو نبی آدم کے لئے رحمت بنا دے.

جب یہ نگاح پیدا ہوجاتی ہے محکوم قوم کے افراد، حکمرانی کے اہل بن جاتے ہیں اور دنیا ان کے قدم چومنے لگتی ہے.

اسی نگاہ شوق کی بدولت مسلمان میں قاہری یعنی رنگ جلال اور دلبری یعنی رنگ جمال پیدا ہوجاتا ہے. قاہری کی بدولت وہ دنیا میں حکومت حاصل کرتا ہے اور دلبری کی بدولت کا وجود، اہل دنیا کے حق میں رحمت بن جاتا ہے.

اسی نگاہ کی بدولت مسلمان میں دہشت پیمائی یعنی جدوجہد کا مادہ پیدا ہوجاتا ہے اور اس لیے وہ ہر وقت باطل سے برسرپیکار رہتا ہے.

اے مخاطب! اگر تیرے اندر نگاہ شوق پیدا نہ ہو یعنی اگر تیرے اندر، اسلام کو بلند کرنے کا جذبہ پیدا نہ ہو، تو تیرا وجود بالکل بیکار ہے. بلکہ تیرا وجود، اسلام کی رسوائی کا موجب بن جائے گا.

نوٹ: موجودہ مسلمانوں کے اجتماعی زندگی اس شعر کی صداقت پر گواہ ہے بلاشبہ، آج ہمارا وجود، اسلام کے دامن پر ایک بدنما دھبّا بنا ہوا ہے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: