(Zarb-e-Kaleem-124) (نسیم شبنم) Naseem-o-Shabnam

نسیم و شبنم

نسیم

انجم کی فضا تک نہ ہوئی میری رسائی
کرتی رہی میں پیرہن لالہ و گل چاک

مجبور ہوئی جاتی ہوں میں ترک وطن پر
بے ذوق ہیں بلبل کی نوا ہائے طرب ناک

طرب ناک: خوشی سے بھری ہوئی ۔

دونوں سے کیا ہے تجھے تقدیر نے محرم
خاک چمن اچھی کہ سرا پردہ افلاک

شبنم

کھینچیں نہ اگر تجھ کو چمن کے خس و خاشاک
گلشن بھی ہے اک سر سرا پردہ افلاک


اقبال نے اس نظم میں نسیم اور شبنم کے پردہ میں عالم ناسوت اور عالم ملکوت یا انسان یا اور فرشتہ کے باہمی رشتہ کو واضح کیا ہے. انگریزی زبان میں اس اسلوب کو (allecory) کہتے ہیں جس کا ترجمہ اس شعر سے کر سکتے ہیں.

خوشترآں باشدکہ سر دلبراں
گفتہ آید درحدیث دیگراں!

اس نظم میں مظاہر بادنسیم اور شبنم کا مکالمہ درج ہے لیکن نسیم اور شبنم سے شاعر کی مراد کچھ اور ہے یعنی حدیث دیگراں کے پردہ میں سرد لبراں بیان کیا ہے.

نسیم نے شبنم سے کہا کہ میں ساری عمر غخچوں کو شگفتہ کرتی رہی. یعنی فضائے ارضی میں زندگی بسر کی، اور فضائے انجم تک میری رسائی نہ ہوسکی. لیکن مجھے بلبلوں کی نغمہ سرائی میں کچھ لطف نہیں آتا اس لیے میں ترک وطن کرنا چاہتی ہوں.

اے شبنم تجھے تقدیر الٰہی نے دونوں عالموں سے آگاہی بخشی ہے تو مجھے بتا کہ خاک چمن اچھی یا فضائے آسمان اچھی؟ 

نسیم نے یہ سوال سن کر شبنم کو جواب دیا کہ ایک شبنم! اگر تو اپنی نظر کو بلند اور مقاصد کو ارفع کرے تو گلشن بھی افلاک ہم مرتبہ ہے. اس میں بھی وہی عظمت پوشیدہ ہے جو سرا پردہ افلاک میں نظر آتی ہے ضرورت اس تیز نظر کے پیدا کرنے کی ہے جو گلشن کی عظمت مخفی کو دیکھ سکے.

اس تمثیل کا مطلب یہ ہے کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا بری ہے یہاں رہ کر خدا نہیں مل سکتا اس لئے ترک وطن یعنی ترک دنیا کرنا ضروری ہے فرشتہ جواب دیتا ہے کہ اگر انسان دنیا کی فانی دلچسپیوں میں جے خسں وخاشاک گلشن سے تعبیر کیا گیا ہے. منہمک ہوکر مقصد حیات سے غافل نہ ہوجائے تو ترک دنیا کی مطلق ضرورت نہیں ہے. دنیا میں رہ کر بھی انسان اللہ سے تعلق پیدا کرسکتا ہے. گلشن بھی افلاک ہی کا سر یابھید ہے. یعنی انسان عالم ناسوت میں رہ کر بھی، عالم ملکوت کے رہنے والوں میں شامل ہوسکتا ہے. چنانچہ حضرات انبیاء اور اولیاء کی زندگیاں اقبال کے اس دعویٰ پر شاہد عادل ہیں.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: