(Zarb-e-Kaleem-125) (اہرام مصر) Ahram-e-Misar

اہرام مصر

اس دشت جگر تاب کی خاموش فضا میں
فطرت نے فقط ریت کے ٹیلے کیے تعمیر

اہرام کی عظمت سے نگوں سار ہیں افلاک
کس ہاتھ نے کھینچی ابدےت کی یہ تصویر!

فطرت کی غلامی سے کر آزاد ہنر کو
صیاد ہیں مردان ہنر مند کہ نخچیر

نخچير: شکار۔


 

اس نظم میں اقبال نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ آرٹسٹ، اپنے آرٹ کو مرتبہ کمال پر اس وقت پہنچا سکتا ہے جب وہ اپنے آپ کو فطرت کی تقلید سے آزاد کرلے. دوسرے لفظوں میں ارٹ کے اندر صفت دوام اس وقت پیدا ہو سکتی ہے جب اس کے اندر جدت ہو.

مصر کے ریگستانوں پر نظر کرنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ان کی خاموش فضا میں، فطرت نے صرف ریت کے ٹیلے بنائے ہیں جو آج بنتے ہیں کل بگڑ جاتے ہیں.

لیکن انسان نے جواہرام تعمیر کئے ہیں وہ نہایت عظیم الشان اور مستحکم ہیں، ہزاروں سال سے بدستور قائم ہیں.

پس ہنرمند کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے ہنر کو فطرت کی غلامی سے آزاد کرے یعنی اپنی ذاتی کوشش سے اپنے معلومات کو پائیداری عطا کرے. 

یاد رکھو آرٹسٹ، نخحچیر (صید) نہیں ہوتا بلکہ خود صیاہ ہوتا ہے اور وہ اپنے آرٹ میں اپنے اجتہاد فکر سے رنگ دوام پیدا کرتا ہے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: