(Zarb-e-Kaleem-126) (مخلوقات ہنر) Makhlooqat-e-Hunar

مخلوقات ہنر

ہے یہ فردوس نظر اہل ہنر کی تعمیر
فاش ہے چشم تماشا پہ نہاں خانہ ذات

نہ خودی ہے، نہ جہان سحر و شام کے دور
زندگانی کی حریفانہ کشاکش سے نجات

حريفانہ کشاکش: آپس میں تصادم اور کھینچا تانی۔

آہ، وہ کافر بیچارہ کہ ہیں اس کے صنم
عصر رفتہ کے وہی ٹوٹے ہوئے لات و منات!

تو ہے میت، یہ ہنر تیرے جنازے کا امام
نظر آئی جسے مرقد کے شبستاں میں حیات

مرقد کے شبستاں: قبر کی خواب گاہ۔


اس نظم میں اقبال نے ہندوستان کے ان ارباب ہنر پر تنقید کی ہے جو اپنے اندر کوئی تخلیقی قوت نہیں رکھتے اور اس لیے شاعری مصوری اور موسیقی اور دیگر فنونِ لطیفہ میں کوئی جدت پیدا نہیں کر سکتے. یہی وجہ ہے کہ ان کا تمام سرمایہ فن، تو ارونقالی اور سرقہ کی مختلف صورتوں کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے. اس نظم میں طنز کا رنگ بہت نمایاں ہے. کہتے ہیں کہ

ہمارے ملک کے ارباب ہنر، اپنے ہنر کے جو نمونے پیش کرتے ہیں وہ اپنے اندر کوئی جدت نہیں رکھتے اور ان پر نظر ڈالنے سے، ان ہنر مندوں کی ذہنیت بالکل عیاں ہوتی ہے.

ان کے “کمالات ہنر” میں نہ ان کی ذاتی یا شخصی خصوصیت یعنی انفرادیت نظر آتی ہے نہ زندگی سے مطابقت پائی جاتی ہے ان کے آرٹ سے دیکھنے والوں کے اندر، جدوجہد یا مشکلات زندگی پر غالب آنے کا کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوتا.

افسوس! ہمارے آرٹسٹ، ابھی تک پرانے زمانہ کے لات ومنات کی پرستش کر رہے ہیں. مثلا شاعری میں وہی معشوق کی کج ادائی وہی فراق کی راتیں، اور وہی رقیب کے طغے وغیرہ وغیرہ یہی حال دوسرے فنون کا ہے، الغرض ہمارے فنکار، ہر معاملہ میں کورانہ تقلید کر رہے ہیں اپنی ذاتی کوششں سے نئی راہیں پیدا نہیں کرتے.

اے ہندی فنکار! دراصل تیری خودی مردہ ہوچکی ہے غلامی و تقلید کورانہ کی بنا پر اس لیے تیرا ہنر تیری موت کا اعلان کر رہا ہے اور تجھ کو گمنامی کی طرف لے جا رہا یعنی جب تو طبعیاتی طبی زاویہ نگاہ سے مر جائے گا تو تیرا نام چند روز کے بعد مٹ جائے گا کیونکہ دنیا میں انہی شاعروں اور مصوروں کا نام باقی رہتا ہے جو چھوتا کارنامہ پیش کرتا ہیں.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: