(Zarb-e-Kaleem-127) (اقبال) Iqbal

اقبال

فردوس میں رومی سے یہ کہتا تھا سنائی
مشرق میں ابھی تک ہے وہی کاسہ، وہی آش

حلاج کی لیکن یہ روایت ہے کہ آخر
اک مرد قلندر نے کیا راز خودی فاش


اس مختصر نظم میں, اقبال نے بڑے بلیغ انداز سے اپنے کلام پر تبصرہ بھی کیا ہے اور اپنا مقام بھی واضح کیا ہے.

اسلوب بیان ایسا دلکش کے لفظوں سے اس کا بیان نہیں ھوسکتا. بس یوں سمجھو کہ یہ نظر اقبال کی جدت طرازی کا بہترین نمونہ ہے. جدت ل سے میری مراد ہے. بات کہنے کا سلیقہ! اور سچ پوچھو تو یہی چیز شاعری کی جان ہے سچ کہا تھا، غالب نے کہ شاعری مضمون آفرینی کا نام ہے، قافیہ پیماری کا نام نہیں ہے،، اس نظم میں لفظ،، فردوس،، کس قدر موزوں ہے! شاعر نے اس لفظ سے ہمیں یہ بتا دیا کہ میں رومی سنائی اورحلاج تینوں بزرگوں کو کیا سمجھتا ہوں.

علاوہ بریں یہ لفظ ہم کو فورا عالم رنگ وبو سے بلند کرکے، فردوس میں پہنچا دیتا ہے جہاں نہ غلامی ہے اور نہ ضمیر فروشی نہ پالیسی ہے، نہ ڈپلومیسی. 

رومی سنائی ‏اور حلاج کا ذکر کرکے، اقبال نے ضمنا اپنا روحانی سلسلہ بھی بیان کر دیا. انہوں نے اپنا شمار اسپنوزا اور ہیگل، ارسطو اور کانٹ یا نتشہ اور برگسان کے زمرہ میں نہیں کیا بلکہ سنائی اور رومی کی شاگردی پر فخر کیا ہے.

کلام اقبال کا مطالعہ کرنے والوں سے یہ حقیقت مخفی نہیں ہے کہ اقبال کو ان تینوں بزرگوں سے بڑی عقیدت تھی جس کا اظہار اس کی تصانیف سے جابجا ہوتا ہے اور رومی کو تو انہوں نے اپنا مرشد اور رہنما قرار دیا ہے اور جس طرح مولانا روم نے سنائی اور عطار کی اتباع پر فخر کیا ہے.

عطا روح بودو سنائی دوچشم او
مازپے سنائی وعطار آمدیم!

اسی طرح اقبال نے اسرار خودی……. سے لے کر ارمغان حجاز……. تک ہر کتاب میں رومی کی شاگردی پر فخر کیا ہے بلکہ ہمیں بھی یہی مشورہ دیا ہے. چنانچہ جاوید نامہ میں لکھتے ہیں..

پیر رومی رارفیق راہ ساز
تاخدا خبشد ترا سوزوگدار
زانکہ رومی مغررا واندزپوست
پائے اومحکم فتدرد کوئے دوست

بال جبریل کی اس نظم (سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا) پر جو مختصر تمہید اقبال نے لکھی ہے اس سے ان کی اس گہری عقیدت اندازہ ہوسکتا ہے جو ان کو حکیم سنائی کے ساتھ تھی.

اس نظم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ اقبال کے فلسفہ کے بنیادی، خیالات یا تصورات کو مغربی حکما سے ماخوذ سمجھتے ہیں اور اقبال کو بالکل نہیں سمجھتے انہوں نے دراصل قرآن مجید، حادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم، اور ان کے بعد رومی اور دوسرے مسلمان صوفیاء مثلا امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی کے خیالات سے استفادہ کیا ہے اور محض استفادہ ہی نہیں کیا بلکہ اس پر فخر کیا ہے. چنانچہ ارمغان حجاز میں جو ان کی زندگی کے بالکل آخری زمانہ کا کلام ہے وہ خود اپنے آپ کو مشیل رومی میں قرار دیتے ہیں. اور دانشمند انسان اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ ایک شخص اپنے آپ کو اگر کسی کا مثل قرار دے تو وہ اس شخص کے انتہائی عزت کرتا ہے بلکہ اس کی تقلید کو اپنے لئے باعث وفخر مباہاث سمجھتا ہے.

چورومی درحرم دادم اذاں من
ازوآموختم اسرار جان من
بردر فتنئہ عصر کہن او
بردر فتنئہ عصررواں من

چوتھی غور طلب بات یہ ہے کہ اس نظم میں اقبال نے اپنا کارنامہ بھی بیان کر دیا ہے کہ میں نے مسلمانوں کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلایا ہے. کیونکہ اسلامی وہ دین حق ہے جس نے سب سے پہلے دنیا کو خودی کی مخفی طاقتوں سے آگاہ کیا اور چونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خودی، کمال کے انتہائی نقطہ پر پہنچ گئی تھی. اس لیے آپ ہمارے لیے اسوہ حسنہ ہیں. اب پرھئے اس شعر کو

سبق ملا ہے یہ معراج مصطفےٰ سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں

فردوس میں ایک دن مولانا روم حکیم سنائی سے یہ کہہ رہے تھے. کہ افسوس! مشرقی ممالک ہنوز غلامی میں گرفتار ہیں. 

یہ سن کر حسین ابن منصور حلاج نے یہ کہاکہ یہ تو سچ ہے کہ صدیوں سے کوئی “حلاج کا رازداں” پیدا نہیں ہوا ہے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ آخر کار ایک قلندر (اقبال) نے خودی کا راز فاش کر دیا ہے. انشاء اللہ اب مسلمان آزاد ہو جائیں گے. 

اب رہے مغربی پاکستان کے مسلمان! تو یہاں بھی وہی “ریڈ کراس” ہے، وہی اتوار کی تعطیل ہے، وہی انگریزی لباس ہے وہی” ریس کورس” ہے، وہی انگریزیت ہے، وہی کافرانہ نظام تعلیم ہے، وہی عریانی ہے. وہی مینا بازار ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہی جمہوری نظام ہے. جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے!

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: