(Zarb-e-Kaleem-128) (فنون لطیفہ) Funoon-e-Latifa

فنون لطیفہ

اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے، وہ نظر کیا

مقصود ہنر سوز حیات ابدی ہے
یہ ایک نفس یا دو نفس مثل شرر کیا

جس سے دل دریا متلاطم نہیں ہوتا
اے قطرئہ نیساں وہ صدف کیا، وہ گہر کیا

متلاطم: موجیں مارنے والا۔

شاعر کی نوا ہو کہ مغنی کا نفس ہو
جس سے چمن افسردہ ہو وہ باد سحر کیا

بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
جو ضرب کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا


اس نظم میں اقبال نے ہمیں آرٹ کی غرض وغایت سے آگاہ کیا ہے کہ آرٹ کے اندر اگر باطل کو فنا کرنے کی قوت نہیں تو وہ آرٹ نہیں بلکہ محض تضیع اوقات کا موجب ہے. واضع ہوکہ اقبال نے آرٹ کو خودی کا خادم قرار دیا ہے. آج کل کے عریانی پسند کو تاہ نظر ادیب، آرٹ کو مقصود بالزات سمجھتے ہیں اور اس غلط خیال کا نتیجہ “خودی ” کی تباہی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے. اقبال کی تعلیم یہ ہے کی ہماری آخری دفاداری کا مرکز آرٹ نہیں بلکہ، قرآن اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں خودی کی تکمیل ہے. اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ

ہماری آخری وفاداری کا مرکز اللہ ہے.

اللہ ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم اپنے اندر اس نیابت کی اہلیت اور صلاحیت پیدا کریں، یعنی دنیا میں اس کی حکومت قائم کریں.

“خلیفتہ اللہ،، کا حقیقی مفہوم یہی ہے. طاقت کے بغیر خلافت، ایک لفظ ہے بے معنی، اسی لیے…….. میں ترکوں نے خلیفہ کو پینشن دے کر رخصت کردیا.

نیابت یا خلافت کی صلاحیت پیدا نہیں ہوسکتی جب تک ہم قرآن اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں، اپنی خودی کو مرتبہ کمال تک نہ پہنچا دیں پس آرٹ، خودی کے تابع ہے. آزاد نہیں ہے اور وہی آرٹ لائق تحسین ہے جو استحکام خودی میں معاون ثابت ہو سکے.

جو ضرب کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا
اے اہل نظر یعنی اے ارباب ہنر!

آرٹ کی تحسین کی صلاحیت پیدا کرنا بہت اچھی بات ہے. لیکن اگر تم آرٹ کی حقیقت کو نہیں دیکھ سکتے تو پھر تم اہل نظر نہیں ہو.

آرٹ کا مقصد، جذبات نفسانی کو برانگیختہ کرنا نہیں ہے جیسا کہ کارل مارکس اور فرائڈ کے مقلدین سمجھتے ہیں بلکہ خودی کے اندر پختگی کا رنگ پیدا کرنا.

اگر انسانی خودی باطل کی دنیا میں تلاطم پیدا نہیں کرسکتی تو پھر اس میں اور گائے یا بیل کی خودی میں کیا فرق ہے؟

ایسی شاعری اور موسیقی سے کیا فائدہ جس کی بدولت انسان کے اندر جدوجہد کا جذبہ پیدا نہ ہوا اگر اقبال کا یہ معیار صحیح ہے تو پاکستانی مشاعرے اور قوالی دونوں قوم کے حق میں افیون سے کم نہیں ہیں.

یاد رکھو! جب تک کسی قوم میں فوق العادۃ کارنامے انجام دینے کی صلاحیت پیدا نہ ہو جائے، وہ قوم دنیا میں سربلند اور حکمراں نہیں ہوسکتی. پس جس آرٹ سے باطل کا مقابلہ کرنے یا دشمن پر غالب آنے کی طاقت پیدا نہیں ہوتی وہ آرٹ نہیں ہے. بلکہ اخلاق کو تباہ کرنے کا ذریعہ ہے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: