(Zarb-e-Kaleem-129) (صبح چمن) Subah-e-Chaman

صبح چمن

پھول

شاید تو سمجھتی تھی وطن دور ہے میرا
اے قاصد افلاک! نہیں، دور نہیں ہے

شبنم

ہوتا ہے مگر محنت پرواز سے روشن
یہ نکتہ کہ گردوں سے زمیں دور نہیں ہے

گردوں: آسمان۔

صبح

مانند سحر صحن گلستاں میں قدم رکھ
آئے تہ پا گوہر شبنم تو نہ ٹوٹے

ہو کوہ و بیاباں سے ہم آغوش، و لیکن
ہاتھوں سے ترے دامن افلاک نہ چھوٹے


اس دلکش نظم میں اقبال نے گل شبنم اور صبح کے پردہ میں انسان کو چند نکتے سمجھائے ہیں.

‏ پھول نے شبنم سے کہا کہ تو یہ سمجھتی تھی کہ میرا وطن (زمین) بہت دور ہے. اس لیے شاید میں وہاں تک نہ پہنچ سکوں. 

‏شبنم نے جواب دیا کہ تیرا یہ قول صحیح ہے کہ وطن دور نہیں ہے لیکن اس کی صداقت اس وقت تک آشکار نہیں ہوسکتی جب تک انسان محنت اور مشقت (جدوجہد) سے کام نہ لے. اگر ایک شخص سے جدوجہد سے جی چرائے تو اس کے لیے بلاشبہ گردوں سے زمین بہت دور ہے. 

‏یہ سن کر صبح نے کہا کہ گلستاں کی سیر کرنے کے لیے آؤ تو نسیم صبح کی ہوا کی طرح آؤ یعنی دنیا میں اس طرح زندگی بسر کرو کہ کسی کو تمہاری ذات سے تکلیف نہ پہنچے. 

‏نیز اس کی یہ صفت بھی اپنے اندر پیدا کرو کہ دنیا میں سب سے ملو جلو لیکن اللہ تعالی سے تعلق میں کمی پیدا نہ ہو. 

‏خلاصہ کلام اگر انسان سے ہمت کام لے تو اس کا وطن آسمان اس سے دور نہیں ہے. انسان کو دنیا کی ہر پاک چیز سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہے لیکن خدا سے تعلق کا دامن اس کے ہاتھوں سے نہیں چھوٹنا چاہیے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: