(Zarb-e-Kaleem-130) (خاقانی) Khaqani

خاقانی

وہ صاحب تحفہ العراقین
ارباب نظر کا قرہ العین

تحفہ العراقين: خاقانی کی مشہور مثنوی جس میں اس نے سفر حج کے حالات لکھے ہیں۔
قرہ العين: آنکھوں کی ٹھنڈک۔

ہے پردہ شگاف اس کا ادراک
پردے ہیں تمام چاک در چاک

خاموش ہے عالم معانی
کہتا نہیں حرف ‘لن ترانی

لن تراني: میں دیکھ نہیں سکتا۔

پوچھ اس سے یہ خاک داں ہے کیا چیز
ہنگامہ این و آں ہے کیا چیز

خاک داں: مراد ہے یہ دنیا۔

وہ محرم عالم مکافات
اک بات میں کہہ گیا ہے سو بات

عالم مکافات: وہ دنیا جس میں اچھے اور برے عمل کا بدلہ مل جاتا ہے۔

خود بوے چنیں جہاں تواں برد
کابلیس بماند و بوالبشر مرد

ایسے جہان کی بو کا تو اسی سے اندازہ ہو سکتا ہے ، یعنی اس کی حقیقت تو یہیں سے معلوم ہو جاتی ہے کہ ابلیس باقی ہے اور انسان کا باپ (آدم علیہ) فوت ہو گیا ہے۔


اس نظم میں اقبال نے ایران کے مشہور شاعر افضل الدین خاقانی کے ایک شعر پر تضمین کی ہے، جوان کو بہت پسند آیا حقیقت یہ ہے کہ خاقانی بیدل غالب. عرفی اور نظیری کی طرح اقبال کا محبوب فارسی شاعر ہے کلیات خاقانی میں انہیں قصاید سے بہت زیادہ مثنوی تخفتہ العراقین پسند تھی. چنانچہ اس کے دو شعروں پر تضمین اس کتاب (ضرب کلیم) کے آغاز میں گزر چکی ہے.

اقبال کہتے ہیں کہ خاقانی نے اس شعر میں اس قانون مکافات کو واضح کیا ہے جو دنیا میں جاری ہے.

خاقانی، جو تخفہ العراقین کا مصنف ہے، ارباب نظر میں بہت مقبول ہے وہ بڑا زیرک شاعر ہے اور اسرار کائنات سے واقف ہے.

معانی کی دنیا بہت خاموش ہے اور خود اپنی زبان سے کوئی متکبرا نہ دعویٰ نہیں کرتی.

دوسرے معنی اس شعر کے یہ ہوسکتے ہیں کہ معانی کی دنیا بہت خاموش ہے. لیکن اس کا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ کوئی شخص مجھے سمجھ نہیں سکتا اے مخاطب! تو خاقانی سے پوچھ کہ اس دنیا کی حقیقت کیا ہے.

وہ قانون مکافات عمل سے بخوبی واقف ہے اس لیے اس نے اس شعر میں بڑے پتہ کی بات کہہ دی ہے.

ہمیں بھی اس حیرت انگیز دنیا سے قدرے آگاہی حاصل کرنی چاہیے جس میں قانون مکافات عمل رائج ہے. چنانچہ اسی قانون کا ثمرہ ہے کہ آج کل دنیا میں ابلیسیت تو باقی ہے لیکن آدمیت مردہ ہوچکی ہے یعنی آدم علیہ السلام کی اولاد نے جب انبیاء اپنے اجداد کی اتباع چھوڑ دی اور ابلیس اپنے دشمن کی اطاعت اختیار کرلی تو آدم کی اولاد ہونا نبی آدم کے کچھ کام نہ آیا. ان میں سے آدمیت شرافت، بالکل نکل گئی. اور اس کے بجائے ابلیسیت آگئی، یعنی جیسے عمل کیے ویسی ہی سیرت بن گئی.

اس شعر کے ایک معنی اور بھی ہوسکتے ہیں وہ یہ کہ واقعی یہ دنیا عجیب و غریب ہے بلکہ اس کے دلفریبیا اس قدر زبردست ہیں کہ بیان سے باہر ہیں ضرور اس میں کوئی راز ہے کہ ابلیس تو باقی ہے لیکن حضرت ابو البشر کا انتقال ہوگیا یعنی آدم کی اولاد، ابلیس کی اولاد سے ہار گئی اورزن، زر زمین کی پرستار بن گئی. پس لاؤ ہم بھی ذرا اس کا مزہ چکھیں! ذرا ہم بھی بطور خود اس کی دلفریبی سے آگاہی حاصل کریں.

لفظی ترجمہ: بوبردن بمعنی اطلاع بہم رسانیدن یعنی ایسی دنیا ضرور اس قابل ہے کہ اس سے آگاہی حاصل کی جائے جہاں آدمیت تو عنقا ہے اور ہر جگہ شیطنت کا چرچا ہے آؤ آزما کر دیکھیں کہ دنیا کی لذت میں کیا بات ہے کہ ایک دنیا کی لذت میں گرفتار ہے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: