(Zarb-e-Kaleem-134) (جلال و جمال) Jalal-o-Jamal

جلال و جمال

مرے لیے ہے فقط زور حیدری کافی
ترے نصیب فلاطوں کی تیزی ادراک

مری نظر میں یہی ہے جمال و زیبائی
کہ سر بسجدہ ہیں قوت کے سامنے افلاک

نہ ہو جلال تو حسن و جمال بے تاثیر
نرا نفس ہے اگر نغمہ ہو نہ آتش ناک

مجھے سزا کے لیے بھی نہیں قبول وہ آگ
کہ جس کا شعلہ نہ ہو تند و سرکش و بے باک!


اس نظم میں اقبال نے اس نکتہ کو واضح کیا ہے کہ اگرچہ انسان کے لیے جلال اور جمال دونوں ضروری ہیں لیکن جلال نہ ہوتو جمال بے تاثیر ہے اس جگہ اس امرکی صراحت ضروری ہے کہ اقبال کے اس قول کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جمال نہ ہو تو محض جلال، خودی کی تکمیل کے لیے کافی ہے حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں اپنی اپنی جگہ بہت ضروری ہیں، اور خودی کی تکمیل ان دونوں پر موقوف ہے اگر ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی زندگی سے خارج کردیا جائے، تو خودی ناقص رہ جائے گی. چنانچہ اقبال نے مثنوی پس چہ باید کرو” میں اس کی صراحت کردی ہے.

رائے بے قوت ہمہ مکرو فسوں
قوت بے رائے جہل است وجنوں

یعنی جمال ہو اور اس کے ساتھ جلال نہ ہوتو جمال محض مکرو فسوں ہے یعنی بے تاثیر ہے. مثلا آپ کا خیال ایسا ہی اچھا کیوں نہ ہو لیکن اگر آپ کے پاس طاقت نہیں تو اس پر کون عمل کرے گا! اور طاقت ہو لیکن اس کے ساتھ صحیح خیال نہ ہو تو پھر وہ طاقتور انسان چنگیز بن جاتا ہے یعنی وہ قوت چونکہ اندھی ہوتی ہے اس لئے بنی آدم کے حق میں مصیبت بن جاتی ہے قصہ مختصر،اس نظم میں اقبال نے صرف ایک پہلو کو واضح کیا ہے. اور وہ جیسا کہ اوپر مذکور ہوا یہ ہے کہ جلال نہ ہو تو جمال بے تاثیر ہے. نیز میں اس شرح میں کسی جگہ اس بات کی وضاحت کر چکا ہوں کہ جلال اور جمال کا منبع لا الہ الا اللہ ہے لاالہ سے جلال اور الااللہ سے جمال پیدا ہوتا ہے، اب نظم کا مطلب لکھتا ہوں. کہتے ہیں کہ:

اے مخاطب! اگر تو فلسفہ اور حکمت کو بہت دقیع یا اپنی زندگی کے لیے کافی سمجھتا ہے تو تیری مرضی تجھے یہ خیال مبارک ہو، لیکن میں تو افلاطون کے فلسفہ پر زور حیدری کو ترجیح دیتا ہوں. کیونکہ مسلمان کا مقصد حیات باطل کا مقابلہ کرنا ہے. اور یہ مقصد فلسفہ سے نہیں بلکہ روحانی طاقت سے حاصل ہو سکتا ہے. بالفاظ دگر میں تو عقل کے مقابلہ میں عشق کو ترجیح دیتا ہوں واضح ہو کہ جناب حیدر کرار میں یہ طاقت عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی بدولت پیدا ہوئی تھی.

میں تو اسی کو حقیقی جمال وزیبائی سمجھتا ہوں کہ مسلمان میں باطل کا مقابلہ کرنے کے لیے بازو میں طاقت اور دل میں حوصلہ ہو. دیکھ لو! آسمانوں کو اللہ نے اپنی قدرت قوت ہی سے تابع فرمان بنا رکھا ہے.

اس مصرع کے دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ قوت کے سامنے کائنات کی بڑی بڑی چیز مطیع بن جاتی ہے.

اگر انسان میں جلال قوت نہ ہو تو اس کی تقدیر پر کیسی ہی دلکش کیوں نہ ہو مخاطب کے اندر کوئی تاثیر پیدا نہیں کر سکتی. اگر موسیقی میں سوزو گذار نہ ہو تو سامعین پر کوئی تاثیر نہیں ہوسکتی.

میرا ذاتی نظریہ تو یہ ہے کہ میں اپنی سزا کے لیے اس آگ کو بھی پسند نہیں کروں گا جس کے شعلوں میں عدت اور تندی نہ ہو کیونکہ جلنے میں مجھے کوئی لطف نہیں آئے گا بالفاظ دگر سزا کا مقصد پورا نہیں ہوسکتا.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: